مجھے اچھی ماں دو میں اچھی قوم دوں گا
مجھے اچھی ماں دو میں بہترین قوم دوں گا
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
"All houses are dark until the mother wakes up." – Khalil #Gibran
"تمام گھر اندھیرے میں ڈوبے رہتے ہیں، جب تک ماں بیدار نہ ہو۔"
#خلیل_جبران کا یہ مختصر جملہ درحقیقت ایک پوری تہذیب کا آئینہ ہے۔ یہ صرف ماں کے جاگنے کی بات نہیں، بلکہ اُس کی فکری بیداری، تربیتی آگاہی، اور اخلاقی روشنی کی علامت ہے۔ معاشرے کی روح گھر سے نکلتی ہے، اور گھر کی روح ماں ہوتی ہے۔ جب ماں جاگتی ہے — شعور کی آنکھ کھولتی ہے, تو تبھی گھر میں علم، تہذیب، محبت، اور روشنی اُترتی ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہمیں اچھی نسل چاہیے، عورتوں کا احترام چاہیے، خواتین کے حقوق کا تحفظ چاہیے۔ مگر کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ اس احترام کی بنیاد کہاں سے رکھنی ہے؟ وہ بنیاد صرف اور صرف گھر میں رکھی جا سکتی ہے، اور اُس گھر کی معمار سب سے پہلے ماں ہے۔
سب سے پہلے ضروری ہے کہ مائیں خود شعور حاصل کریں، اخلاقی اقدار کو سمجھیں، اور اپنے بیٹوں کو یہ سکھائیں کہ سماج میں عورت کے ساتھ کیسا برتاؤ رکھنا ہے۔ اگر ماں بیٹے کو بچپن سے یہ احساس دے کہ ہر لڑکی اُس کی بہن جیسی ہے، اور یہ کہ بہن کا احترام محض زبانی نہیں، عملی ہوتا ہے، تو یہی لڑکا بڑا ہو کر معاشرے میں عورت کی عزت کرنا سیکھتا ہے۔
مگر افسوس! ہمارے معاشرے میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ لڑکوں کو "فری ہینڈ" دے دیا جاتا ہے۔ وہ جیسے چاہیں کپڑے پہنیں، بہنوں پر ہاتھ اٹھائیں، اونچی آواز میں بدتمیزی کریں، اور ان تمام رویوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے صرف اس لیے کہ وہ "بھائی" ہے۔ بھائی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اُس کے ہر عمل کو قبول کیا جائے، بلکہ اُسے دوسروں کی عزت کرنا سکھانا ماں کا اولین فرض ہے۔
احترام کا یہ درس دو طرفہ ہونا چاہیے۔ جس طرح بہن کو بھائی کا لحاظ کرنا سکھایا جاتا ہے، اُسی طرح بھائی کو بہن کا احترام سکھایا جانا بھی لازمی ہے۔ نبی رحمت، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی اس باب میں کامل نمونہ ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی بہن تشریف لاتیں تو آپ احتراماً کھڑے ہو جاتے، اور اپنی چادرِ مبارک زمین پر بچھا دیتے۔ یہ سلوک، یہ عزت، یہ شفقت ہمیں سکھاتی ہے کہ عورت صرف جسم نہیں، احترام کی مستحق ایک مکمل شخصیت ہے۔
خواتین خود بھی جب یہ شکوہ کرتی ہیں کہ مرد بگڑ چکے ہیں، تو اُنہیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ مردوں کی پہلی درسگاہ اُن کی اپنی گود ہے۔ تربیت کا عمل ماں کی گود سے شروع ہوتا ہے۔ اگر ماں تربیت یافتہ، باادب، اور باشعور ہوگی، تو اُس کا بیٹا بھی اُسی نقش پر چلے گا۔
اس لیے سب سے پہلے ماؤں کی تربیت کی ضرورت ہے۔ مائیں خود ان اخلاقی قدروں کو سمجھیں، اور پھر اُنہیں اپنے بیٹوں میں منتقل کریں۔ گھر کو محض ایک رہائشی ڈھانچہ نہ بننے دیں، اُسے تربیت گاہ بنائیں۔ اور اُس تربیت گاہ کا سب سے اہم ستون ماں کا کردار ہے۔
خلیل جبران کے الفاظ میں یہی پیغام پوشیدہ ہے, ماں جاگتی ہے، تو روشنی پھیلتی ہے۔ ماں بیدار ہو، تو نسل سنورتی ہے۔ کوئی کیا خوب کہہ گیا ہے:
"تم مجھے اچھی مائیں دو، میں تمہیں اچھی قوم دوں گا!"
#نبی_رحمت_صلی_اللہ_علیہ_وسلم
#بیٹوں_کی_تربیت
#صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر
#خلیل_جبران #ماں_کی_تربیت #اخلاقی_تربیت #احترام_خواتین #تہذیب_خاندان #فیمنزم #فیری_سوسائٹی #زابر_سعید_بدر #ثنا_یوسف #زینب_فیری #بیٹی_عزت_ہے #ماں_درسگاہ #مرد_کا_تہذیبی_کردار #خاندان_کی_اکائی #مساوات #فکری_بیداری

Comments