اسلام آباد عالمی سیاست کا مرکز بننے جا رہا ہے, ایک تجزیہ صاحب زادہ زابر سعید بدر


 موجودہ عالمی تنازعات کے حل میں پاکستان کا کردار

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر



بچپن میں ایک روسی صدر کے حوالے سے ایک لطیفہ سنا کرتے تھے کہ پاکستان جیسے حالات کو دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ واقعی کوئی خدا ہے جو اس ملک کو چلا رہا ہے۔ یہ محض ایک لطیفہ تھا، لیکن موجودہ تناظر میں، کہ پاکستان حالیہ جنگ میں سپر پاور اور ہمسایہ ملک کے درمیان صلح کا ضامن بن سکتا ہے اسلام آباد اس کا مرکز ہو گا اور  گزشتہ سال مئی کے بعد پاکستان کی اسٹریٹیجک اہمیت کو دیکھتے ہوئے، کبھی کبھی واقعی یہ احساس ہوتا ہے کہ اس وطن پر کوئی خاص مہربانی ہے۔ یہ ملک جس طرح چل رہا ہے، وہ اپنی جگہ ایک ناقابلِ فہم حقیقت ہے ایک ایسا تسلسل جو عام عقل سے بالاتر محسوس ہوتا ہے۔


تاہم اس پر خوش ہو جانا بھی کافی نہیں، کیونکہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ اگر مزاکرات ہو بھی جائیں  تو ضروری نہیں کہ مذاکرات کامیاب ہوں، اور اگر کامیاب ہو جائیں تو یہ بھی یقینی نہیں کہ ان پر طویل عرصے تک عمل درآمد ہو۔ ہم سب جانتے ہیں کہ عالمی سیاست میں فیصلے اکثر وہاں ہوتے ہیں جہاں کسی کی نظر نہیں جاتی۔ جسے عمومی طور پر “ڈیپ اسٹیٹ” کہا جاتا ہے، وہ کسی ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک منظم سوچ اور نظام کا حصہ ہوتی ہے۔ امریکہ میں بھی بظاہر آزاد تبصرے، ٹی وی مباحث اور اخباری تجزیے اپنی جگہ، لیکن اصل سمت اکثر وہی ہوتی ہے جو طاقت کے مراکز طے کرتے ہیں۔


آج ہر شخص خود کو سیاسی مبصر سمجھتے ہوئے امریکہ کی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے، 

بعض اوقات امریکی صدر   جیسے رہنماؤں کو بھی آسانی سے نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ جذباتی تجزیے اکثر حقیقت کو سادہ بنا دیتے ہیں، جبکہ عالمی سیاست اتنی سادہ نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جذباتیت ہمیں بارہا نقصان پہنچاتی رہی ہے اور آئندہ بھی پہنچا سکتی ہے۔


پاکستان کو جو عزت اور اہمیت ملی ہے، وہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، اور دعا یہی ہے کہ اللہ اسے قائم رکھے۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت بیانیے اور اقدامات کو متوازن رکھتی ہیں۔ امریکہ کے اندر اور باہر اس کی ریاستی ساکھ (اميج) کو برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات بھی ہوتے ہیں، بیانات بھی دیے جاتے ہیں، کچھ اقدامات کیے جاتے ہیں اور کچھ محض دکھاوے کے لیے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ اصل مقصد ہمیشہ اپنے اہداف کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔


اسی لیے بیانات پر زیادہ انحصار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ بیانات عام لوگوں کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ فیصلے کہیں اور کیے جاتے ہیں۔ کئی دہائیاں پہلے ایک فلمی گانا مشہور ہوا تھا کہ “پبلک ہے، سب جانتی ہے”، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عوام عموماً وہی جانتے ہیں جو انہیں بتایا جاتا ہے۔ معلومات کا بہاؤ بھی اسی نظام کے تابع ہوتا ہے جو طاقت کے مراکز کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ فہم کے لیے جذبات سے ہٹ کر حقائق کو سمجھنا ضروری ہے، ورنہ ہم وہی دیکھتے اور مانتے رہیں گے جو ہمیں دکھایا جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا