حَضْرَت اُمّ ِ عُمَارَہؓ بِنْتِ کَعْب (نَسِیْبَہ بِنْتِ کَعْبؓ) صاحب زادہ زابر سعید بدر
حَضْرَت اُمّ ِ عُمَارَہؓ بِنْتِ کَعْب (نَسِیْبَہ بِنْتِ کَعْبؓ): جُرأت وَ بَہادُری کا اِسْتِعَارَہ
میدانِ اُحُد کی بے مِثَال شُجَاعَت
__________
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
غزوۂ اُحُد میں جب اچانک جنگ کا پانسہ پلٹا اور مسلمانوں میں اِنتشار پھیلا، تو ایک ایسی نازک گھڑی آئی جب رسولِ خدا ﷺ کے گرد گنتی کے چند جاں نثار رہ گئے۔ ایسے میں حضرت اُمّ ِ عُمارہؓ نے اپنی مَشْک پھینکی اور تلوار سونت کر حضور ﷺ کے گرد حِصَار بن گئیں۔ آپؓ دشمن کے تیروں اور تلواروں کے سامنے سینہ سپر ہو گئیں، یہاں تک کہ جسم پر 12 گہرے زخم آئے۔ نبی کریم ﷺ نے آپؓ کی بے مثال شجاعت دیکھ کر فرمایا:
> "مَیں نے اُحُد کے دن جِدھر بھی دیکھا (دائیں یا بائیں)، نَسِیْبَہ کو اپنے دِفاع میں لڑتے ہوئے پایا۔" اسی میدانِ کارزار میں آپؓ نے حضور ﷺ سے جنّت میں رفاقت کی دُعا کی درخواست کی، جو قبول ہوئی۔ آپؓ کا یہ کردار ثابت کرتا ہے کہ اسلام میں عورت صرف گھر کی چہار دیواری تک محدود نہیں، بلکہ بوقتِ ضرورت وہ قوم اور نظریے کی حفاظت کے لیے میدانِ جنگ میں مردوں سے بڑھ کر جوہر دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جذبۂ عشقِ رسول ﷺ اور استقامت
آپؓ مدینہ کی ان اولین خواتین میں سے تھیں جنہوں نے بیعتِ عقبہ میں شریک ہو کر اسلام قبول کیا۔ آپؓ کو حضور ﷺ سے اس قدر مَحبت تھی کہ آپ ﷺ کے مُوئے مبارک (بال مبارک) کو تبرک کے طور پر محفوظ رکھا اور بیماروں کی شِفا کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ آپؓ کی زندگی کا ہر عمل عشقِ رسول
ﷺ میں ڈھلا ہوا تھا۔
پہلا شہیدِ ختمِ نبوت اور ممتا کی عظیم قربانی
جب جھوٹے مدعیٔ نبوت مسیلمہ کذاب نے آپؓ کے بیٹے حضرت حبیب بن زیدؓ کو قید کر کے عقوبت خانے میں ڈالا اور ایمان چھوڑنے پر مجبور کیا، تو اس نوجوان نے کٹ جانا گوارا کیا مگر حق سے نہ ہٹا۔ مسیلمہ نے ان کا ایک ایک عضو کاٹ دیا، لیکن حبیبؓ کی زبان سے "محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں" کی صدا بلند ہوتی رہی۔ جب ماں کو بیٹے کی اس بے دردی سے شہادت کی اطلاع ملی، تو صبر و استقامت کے اس پیکر نے فرمایا:
"مَیں نے اسی دن کے لیے اسے جَنا تھا۔" یہ حوصلہ آج کی ماؤں اور بیٹیوں کے لیے پیغام ہے کہ حق کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔
جنگِ یمامہ اور فتنۂ کذّاب کا خاتمہ
خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں جب فتنۂ ارتداد اٹھا، تو حضرت اُمّ ِ عُمارہؓ 60 سال کی عمر میں اپنے دوسرے بیٹے حضرت عبداللہ بن زیدؓ کے ساتھ لشکرِ اسلام میں شامل ہوئیں۔ آپؓ بپھری ہوئی شیرنی کی طرح مسیلمہ کذاب کو ڈھونڈتی رہیں اور یمامہ کے معرکے میں 11 زخم کھائے اور اپنا ایک بازو بھی قربان کر دیا، مگر اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں جب تک کذاب اپنے انجام کو نہ پہنچ گیا۔
خلفائے راشدین کی نظر میں مقام
حضرت عمر فاروقؓ آپؓ کو "خاتونِ اُحُد" کے لقب سے یاد کرتے اور آپؓ کا بے حد احترام فرماتے تھے۔ ایک بار جب ایران سے مالِ غنیمت میں ایک نہایت نفیس اور قیمتی شال آئی، تو آپؓ نے تمام رشتہ داروں پر حضرت اُمّ ِ عُمارہؓ کو ترجیح دی اور فرمایا کہ اس کی مستحق صرف وہ خاتون ہے جس نے اُحُد میں رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کا حق ادا کیا۔
آج کی بچیوں کے لیے پیغام
حضرت اُمّ ِ عُمارہؓ کی زندگی اسلام میں خاتون کا اصل چہرہ ہے۔ وہ ثابت کرتی ہیں کہ:
* بہادری: صرف مردوں کا خاصہ نہیں، ایک عورت اپنے ایمان کی طاقت سے بڑی سے بڑی طاقت کو للکار سکتی ہے۔
* عزم و حوصلہ: حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوں، حق پر ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔
* تعلیم و تربیت: انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت ایسی کی کہ وہ تاریخ کے پہلے "شہیدِ ختمِ نبوت" بنے۔
آج کی بچیوں کے لیے آپؓ کی سیرت میں یہ سبق ہے کہ وہ اپنی شناخت کو پہچانیں، اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں اور دین و ملت کی سربلندی کے لیے ہر میدان میں ہراول دستے کا کردار ادا کریں۔
زابر سعید بدر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز کی پیشکش۔

Comments