امریکہ-اسرائیل ایران جنگ کے پاکستان پر اثرات: محمد زابر سعید بدر
امریکہ-اسرائیل ایران جنگ کے پاکستان پر اثرات: ایک مکمل جائزہ
زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی کارروائیوں سے ایران پر جنگ شروع ہوئی، جس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت بھی شامل ہے۔ اس جنگ نے پاکستان کو شدید معاشی، سیکورٹی، سفارتی اور سماجی چیلنجز میں ڈال دیا ہے۔ زابر سعید میڈیا نیوز نیٹ ورک نے دنیا کے معتبر اخبارات کی رپورٹس کی بنیاد پر یہ جامع جائزہ تیار کیا ہے۔
میڈیا اسٹڈیز کے اسٹوڈنٹس کے لیے
احتجاج اور تشدد:
=======
نیویارک ٹائمز کے مطابق، پاکستان میں خامنہ ای کی شہادت کے خلاف شدید احتجاج ہوئے۔ کراچی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کی کوشش کی گئی جس سے متعدد افراد ہلاک ہوئے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، یہ احتجاج "ڈبل وامی" کا حصہ ہیں کیونکہ پاکستان کو ایران اور افغانستان دونوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے۔
دی گارڈین کے مطابق، پشاور اور دیگر شہروں میں مظاہرین نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے، جبکہ حکومت نے بڑے اجتماعات پر پابندی لگا دی۔
توانائی بحران اور معاشی دباؤ: تیل کی قیمتیں $100 فی بیرل سے تجاوز
========
الجزیرہ کے مطابق، پاکستان نے ایمرجنسی آڈٹسٹی اقدامات کا اعلان کیا: حکومت کے دفاتر چار دن کام کریں گے، سکولز مارچ کے آخر تک بند، کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں کٹوتی، اور ریموٹ ورک نافذ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نشریہ میں کہا کہ "آبنائے ہرمز کی بندش پاکستان کی معیشت کو براہ راست خطرے میں ڈال رہی ہے"۔
دی گارڈین کے مطابق، ایشیا بھر میں توانائی بحران پھیل رہا ہے اور پاکستان (جو خلیج سے تیل درآمد کرتا ہے) سب سے زیادہ متاثر ہے۔ پٹرول پمپوں پر قطاریں لگ گئی ہیں۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، یہ بحران پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے "ایگزسٹینشل تھریٹ" ہے۔ تیل کی قیمتیں بلند ہونے سے ٹریڈ ڈیفسٹ بڑھ رہا ہے اور سی پیک سمیت منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔
چائنا ڈیلی کے مطابق، پاکستانی ماہرین (جیسے سابق خارجہ سیکرٹری سلمان بشیر) نے خبردار کیا کہ یہ جنگ عالمی معیشت کو بدل سکتی ہے اور پاکستان پر "سنگین جیو اکنامک اثرات" پڑیں گے۔
بحریہ کا آپریشن اور سپلائی لائنز کی حفاظت
======
نیویارک ٹائمز کے مطابق، پاکستانی بحریہ نے خلیج میں اپنے تجارتی جہازوں کی اسکورٹنگ شروع کر دی ہے تاکہ توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو۔ ایرانی حملوں نے تیل کی ٹینکروں کی نقل و حرکت روک دی ہے۔
امریکی سفارتی عملے کی واپسی اور سیکورٹی الرٹ
=====
نیویارک ٹائمز کے مطابق، امریکہ نے سیکورٹی خدشات کی وجہ سے لاہور اور کراچی کے قونصل خانوں سے غیر ضروری عملے کو واپس بلایا۔ کراچی قونصل خانے پر حملے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، یہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی سب سے بڑی سفارتی واپسی ہے جو 2003 کی عراق جنگ کے بعد دیکھی گئی۔
سرحدی تناؤ اور علاقائی سیکورٹی: افغانستان کے ساتھ "کھلی جنگ"
======
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، ایران جنگ پاکستان کے لیے مشکلات لا سکتی ہے.
دی ڈپلومیٹ (پاکستان کے حوالے سے) کے مطابق، ایران میں عدم استحکام بلوچستان میں باغیوں کو مضبوط کر سکتا ہے اور 900 کلومیٹر سرحد پر خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
وار آن دی راکس کے مطابق، ایران میں بلوچ اور کرد بغاوت پاکستان اور افغانستان دونوں کو متاثر کر رہی ہے۔
سفارتی اور اتحادی دباؤ:
سعودی عرب کی مدد کا وعدہ
======
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، پاکستان نے سعودی عرب کی دفاعی مدد کا وعدہ کیا ہے (اسٹریٹجک میوچول ڈیفنس پیکٹ کے تحت)۔ ایران نے خلیجی ممالک پر حملے کیے تو پاکستان "ٹائٹ روپ" چل رہا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق، پاکستان امریکہ، سعودی عرب اور ایران کے درمیان نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
So
یہ جنگ پاکستان کی معیشت کو شدید دباؤ میں ڈال رہی ہے، سیکورٹی چیلنجز بڑھا رہی ہے اور سفارتی تعلقات کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اگر جنگ طول پکڑی تو آئی ایم ایف پروگرام، سی پیک اور علاقائی استحکام مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔ پاکستان حکومت مجبوری میں سخت فیصلے کر رہی ہے جبکہ عوام مہنگائی کا شکار ہیں۔
___________
زابر سعید میڈیا نیوز نیٹ ورک اس بحران کی نگرانی جاری رکھے گا اور تازہ ترین اپ ڈیٹس فراہم کرے گا۔
____________
زابر سعید میڈیا نیوز نیٹ ورک – حقیقت کی تلاش میں
(یہ رپورٹ نیویارک ٹائمز، دی گارڈین، ٹائمز آف انڈیا، ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ، چائنا ڈیلی، الجزیرہ، بلومبرگ، واشنگٹن پوسٹ اور دیگر معتبر ذرائع کی 12 مارچ 2026 تک کی رپورٹس پر مبنی ہے۔)


Comments