اقبال کا بین الاقوامی تشخص اور روس,صاحب زادہ زابر سعید بدر
اقبال کا بین الاقوامی تشخص اور روس
صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر
پاکستان میں چند نام نہاد دانشور قومی میڈیا پر شاعر مشرق علامہ اقبال پر مختلف حوالوں سے حملے کرنے میں مصروف ہیں جس میں ایک معروف نام نہاد دانشور ان پر ایک مقامی اوسط درجے کا شاعر ہونے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں یہ نام نہاد دانشور 22 سال تک جس پارٹی کے لئے عوام کو ووٹ ڈالنے کے لئے کہتے رہے اب برملا اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے تمام تر انداز غلط تھے چلیے اگر یہ حضرت صرف سیاست تک رہتے تو کوئی بات نہ تھی لیکن انہوں نے تو شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی عظیم ذات گرامی پر ھی حملے شروع کردیئے وہ اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں کہ اقبال ایک بین الاقوامی شاعر ہیں اور اس حقیقت کا اعتراف دنیا بھر کے دانشور کئی دہائیوں سے کر رہے ہیں ہمارا آج کا موضوع ہے کہ روس میں اقبال شناسی کے حوالے سے اب تک کیا کام ہوا ہے روسی عوام پہلی بار گذشتہ صدی کی چھٹی دہائی میں کلام اقبال سے روشناس ہوئے جب ان کی شاعری کے ترجمے مختلف روسی جرائد اور اخبارات میں شائع ہوئے انیس سو اٹھاون میں اقبال کی اڑتالیس بہترین نظموں پر مبنی ایک مجموعہ کلام تاجک زبان میں شائع کیا گیا نظموں کا انتخاب تاجکستان کے ممتاز شاعر میر شاکر نے کیا تھا یہ واضح رہے تاجکستان اس وقت سابق سوویت یونین کا حصہ تھا انیس سو چونسٹھ میں ماسکو کے ایک ناشر نے علامہ اقبال کی شاعری پر مبنی ایک کتاب بانگ درا شائع کی اس میں اسرار خودی پیام مشرق بال جبریل اور ضرب کلیم سے مختلف نظمیں شامل کی گئی تھی اس کتاب میں اقبال کے بارے میں طویل دیباچہ بھی موجود ہے جسے ممتاز مورخ گوردون پولونسکایا نے لکھا آخر میں بتایا پری گارینا کی تحریر کردہ ایک دلچسپ لسانی تنقید بھی شامل کی گئی کلام اقبال اور اس کے بارے میں روسی دانشوروں کے مضامین کا مطالعہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ اقبال نے اپنے ہم وطنوں میں یہ جذبہ بیدار کرنے کی کوشش کی کہ وہ ملک کی سیاسی زندگی میں بلکہ پورے مشرق کی سیاسی زندگی میں دلچسپی لیں اور جہالت اور شر کی تمام طاقتوں کے خلاف مصروف عمل ہو جائیں جس کے نتیجے میں ہندوستان آزادی کی نعمت سے محروم ہوگیا تھا انیس سو پچھتر میں اورنٹیل پبلشرز نے اقبال کے کلام پر مبنی ایک ضیخیم اور خوبصورت کتاب LIGHTENINGS AND LOTUSES شائع کی اس میں 17 نظمیں ہیں جن سے سوویت دانشور تب تک ناواقف تھے ان کا ترجمہ سرگئی سیور تسیف نے کیا ہے.سابق سوویت یونین کے مختلف قومیتوں کی زبان میں کلام اقبال کے تراجم کے نتیجے میں روسی عوام علامہ اقبال کی شخصیت میں دلچسپی لینے لگے اور اس بات کی ضرورت محسوس کی جانے لگی کہ علامہ اقبال کی تصانیف کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے اور ایسے مضامین شائع کیے جائیں جو اہل روس کو ان کے شاعرانہ تخیل اور فلسفیانہ نقطہ نظر سے آگاہ کریں اقبال کا جذبہ حب الوطنی 1923-1919 کی انقلابی بیداری کے دوران ان کی قومی شاعری میں پوری قوت سے نمودار ہوا جو محکوم ہندوستان میں روس کے عظیم سوشلسٹ انقلاب اکتوبر کے براہ راست اثر کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھی. اقبال نے اسی دور میں اپنی شاعری میں لینن اور مارکس کے نام متعدد بار لیے. انیس سو اٹھاون سے علامہ اقبال ا پر سابق سوویت یونین کے اخبارات میں شایع ہونے لگے مضامین خاص اہمیت رکھتے ہیں انہوں نے اپنے مضامین میں اقبال کے سماجی اور سیاسی نظریات پر روشنی ڈالی اور ان کے فلسفہ خودی کا بھی جائزہ لیا.
پری گارینا نے بڑے ہی دلنشین الفاظ میں لکھا ہے کہ اقبال کی شاعری کی عظمت اس بات میں مضمر ہے کہ انہوں نے اپنے عصر کے اہم سیاسی مسائل کے ساتھ گہرا رشتہ قائم رکھا اور پورے شاعرانہ کمال کے ساتھ اپنے ہم وطنوں کے خیالات اور تمناؤں کو مرقوم کر دیا جنہیں نوآبادیاتی نظام نے اپنا محکوم بنا رکھا تھا اقبال کی شاعری زندگی اور ادب کے درمیان درمیان موجود گہرے رشتے کی مثال ہے.
مزید براں پولو نیسکایا نے اپنے متعدد مضامین میں اقبال کی شاعری اور دیگر تصانیف میں تبصرے کیے اس کے علاوہ غضنفر علیف نے اپنی کتاب 'ہندوستان کا فارسی ادب' میں نکولائی گیلبوف اور الیکسی سخوچیف نے 'اردو ادب' میں عبداللہ غفاروف اور میر شاہ کے نے اپنے مضامین جو راحیل زبان میں شائع ہوئے اقبال کی تصانیف کو اپنا موضوع بنایا تاہم پری گارینا نے بڑی محنت سے پورے طور پر اسرار خودی کا ترجمہ کیا اور ان کی فلسفیانہ شاعری کے مختلف انسان دوست پہلوؤں پر نظر ڈالی ہے انیس سو بہتر میں پری گارینا کا مقالہ علامہ اقبال کی شاعری شائع ہوا جس میں مصنف نے ٹانگ ذرا اور اسرار خودی کا تنقیدی جائزہ لیا ہے یہ ثابت کیا ہے انسانی بقا کے بنیادی مسائل کی شاعرانہ تجسیم ان کی طباعی فکر کی غماز ہے .پری گارینا نے علامہ کی تصانیف کی فلسفیانہ گہرائی اور اس کے انسانی پہلو کا بھی جائزہ لیا.
ماخذ:
1-اقبال کی ہاں بین الاقوامی سیاست کے رموز از ژاں ماریک
2-روس میں اقبال از ڈاکٹر سخوچوف
3-اقبال کے معاشرتی تصورات از ایک آر گارڈن پولنسکایا
4-اقبال کا فلسفہ از ایم ٹی ستے پین سنیتس

Comments