پٹرول کی قیمت یا معاشی مغالطہ / محمد زابر سعید بدر

 

 پٹرول کی قیمت یا معاشی مغالطہ؟

محمد زابر سعید بدر

پاکستان میں جب بھی پٹرول کی قیمتوں پر بحث ہوتی ہے تو ایک خاص دلیل فوراً سامنے آ جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر پٹرول کی قیمت کو ڈالر میں تبدیل کر کے دیکھا جائے تو پاکستان میں پٹرول اتنا مہنگا نہیں جتنا سمجھا جا رہا ہے۔ بعض لوگ تو اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہتے ہیں کہ بھارت میں پٹرول تقریباً 105 بھارتی روپے فی لیٹر ہے اور اگر اسے پاکستانی روپوں میں تبدیل کیا جائے تو وہ بھی تقریباً پاکستان کی قیمت کے برابر ہی بنتا ہے۔ گویا اس دلیل کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں غیر معمولی نہیں ہیں۔

بظاہر یہ دلیل بڑی سادہ اور منطقی معلوم ہوتی ہے، مگر معاشیات کے بنیادی اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ موازنہ نہایت سطحی اور گمراہ کن ہے۔ کسی بھی ملک میں کسی چیز کی قیمت کا درست اندازہ صرف کرنسی کو تبدیل کر کے نہیں لگایا جا سکتا۔ معاشیات میں اصل معیار یہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے شہری کی آمدنی کتنی ہے اور اس آمدنی کے مقابلے میں کسی چیز کی قیمت کتنی پڑتی ہے۔

اگر ہم جنوبی ایشیا کے چند ممالک کو دیکھیں تو تصویر بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت پٹرول کی قیمت تقریباً 320 روپے فی لیٹر کے قریب ہے۔ بھارت میں پٹرول تقریباً 105 بھارتی روپے فی لیٹر ہے۔ بنگلہ دیش میں پٹرول کی قیمت تقریباً 130 ٹکہ فی لیٹر کے آس پاس ہے، جبکہ افغانستان میں پٹرول تقریباً 0.8 سے 0.9 ڈالر فی لیٹر کے درمیان فروخت ہوتا ہے۔

اب اگر صرف کرنسی کو ڈالر میں تبدیل کیا جائے تو بظاہر یہ تاثر پیدا کیا جا سکتا ہے کہ بھارت میں پٹرول پاکستان سے زیادہ مہنگا ہے۔ لیکن معاشیات میں اس طرح کا موازنہ ادھورا سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اصل سوال قیمت نہیں بلکہ آمدنی کے مقابلے میں قیمت ہوتا ہے۔

بین الاقوامی معاشی ادارے جیسے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کسی ملک کی معاشی حالت کو جانچنے کے لیے جو بنیادی پیمانہ استعمال کرتے ہیں وہ فی کس آمدنی (Per Capita Income) ہے۔ تازہ عالمی اندازوں کے مطابق بھارت کی فی کس آمدنی تقریباً 2700 ڈالر سالانہ ہے۔ بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی تقریباً 2500 سے 2600 ڈالر کے درمیان ہے۔ پاکستان کی فی کس آمدنی تقریباً 1500 ڈالر کے قریب ہے، جبکہ افغانستان کی فی کس آمدنی اس سے بھی کم یعنی تقریباً 400 ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

یہ اعداد و شمار ایک اہم حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کی فی کس آمدنی بھارت اور بنگلہ دیش دونوں سے نمایاں طور پر کم ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی شہری کی مجموعی معاشی قوت نسبتاً کمزور ہے۔

معاشیات میں ایک بنیادی اصول یہ بھی ہے جسے Purchasing Power یا خریداری کی قوت کہا جاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق کسی بھی چیز کی اصل قیمت وہ نہیں ہوتی جو بازار میں لکھی ہوئی نظر آتی ہے، بلکہ وہ ہوتی ہے جو ایک عام آدمی اپنی آمدنی کے مقابلے میں ادا کرتا ہے۔

اگر اسی اصول کو پٹرول پر لاگو کیا جائے تو صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔ بھارت میں اگر پٹرول کی قیمت 105 روپے ہے مگر وہاں فی کس آمدنی پاکستان سے تقریباً دو گنا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک عام بھارتی شہری کے لیے پٹرول کا بوجھ نسبتاً کم ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی آمدنی پاکستان سے زیادہ ہے، اس لیے وہاں پٹرول کی قیمت کا دباؤ نسبتاً کم محسوس ہوتا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں صورت حال یہ ہے کہ فی کس آمدنی نسبتاً کم ہے جبکہ پٹرول کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ اس لیے پاکستانی شہری کے لیے پٹرول محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک بھاری معاشی بوجھ بن جاتا ہے۔

لہٰذا یہ کہنا کہ پاکستان اور بھارت میں پٹرول کی قیمتیں تقریباً ایک جیسی ہیں، دراصل ایک اقتصادی مغالطہ ہے۔ قیمتوں کو محض ڈالر یا کسی دوسری کرنسی میں تبدیل کر کے پیش کرنا معاشی حقیقت کو ظاہر نہیں کرتا۔ اصل موازنہ ہمیشہ اس بات سے کیا جاتا ہے کہ ایک عام شہری اپنی آمدنی کے مقابلے میں کسی چیز کے لیے کتنا خرچ کرتا ہے۔

معاشیات کا سادہ اصول یہی ہے کہ قیمت کو تنہا نہیں دیکھا جاتا بلکہ آمدنی کے ساتھ ملا کر دیکھا جاتا ہے۔ جب تک ہم اس بنیادی اصول کو سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے، اس قسم کی بحثیں محض اعداد و شمار کا کھیل بن کر رہ جائیں گی۔

آخرکار سوال یہی ہے کہ کیا ہم معاشی حقیقت کو سمجھنا چاہتے ہیں یا صرف ایسے موازنوں سے خود کو تسلی دینا چاہتے ہیں جو بظاہر منطقی نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں معاشی تصویر کو دھندلا دیتے ہیں۔ کیونکہ معیشت میں اصل سچائی وہی ہوتی ہے جو عوام کی زندگی میں محسوس ہو، نہ کہ وہ جو صرف کرنسی کے حساب کتاب سے نکالی جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا