ہاتھی، چیونٹی اور بدلتی دنیا,صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
ہاتھی، چیونٹی اور بدلتی دنیا
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
دنیا کی سیاست کو اگر ایک جنگل کی کہانی کے انداز میں دیکھا جائے تو منظر کچھ یوں بنتا ہے کہ جنگل میں ایک بہت بڑا ہاتھی ہے۔ طاقتور، مضبوط اور سب سے بڑا۔ اس کی طاقت ایسی ہے کہ برسوں تک جنگل کے اکثر جانور اس کے سائے سے بھی خوف کھاتے رہے۔ اس ہاتھی کا اصل ہتھیار صرف اس کی طاقت نہیں بلکہ اس کا خوف بھی تھا۔ بعض اوقات طاقت سے زیادہ خوف حکومت کرتا ہے، اور یہی خوف ایک عرصے تک اس ہاتھی کی اصل قوت رہا۔
مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کبھی ایک جیسی نہیں رہتی۔ طاقت کے توازن بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی کوئی سلطنت ابھرتی ہے، کبھی کوئی نئی قوت سامنے آتی ہے اور کبھی پرانی طاقتیں نئے انداز میں واپس آتی ہیں۔
آج کے عالمی منظرنامے میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔
ایک طرف وہ موجودہ سپر پاور ہے جسے دنیا برسوں سے سب سے بڑی قوت سمجھتی رہی۔ دوسری طرف ایک سابق سپر پاور ہے جو ماضی میں عالمی سیاست کے میدان میں برابر کی طاقت سمجھی جاتی تھی۔ اور تیسری طرف ایک ابھرتی ہوئی سپر پاور ہے جو خاموشی سے معاشی، عسکری اور تکنیکی میدانوں میں اپنی جگہ بنا رہی ہے۔
یہ تینوں قوتیں بظاہر ایک دوسرے کے مقابل بھی ہیں اور بعض جگہوں پر مفادات کی سیاست میں ایک دوسرے کے قریب بھی آتی دکھائی دیتی ہیں۔
جنگل کی مثال میں اگر دیکھا جائے تو ایک دلچسپ منظر بنتا ہے۔
ایک طرف وہی بڑا ہاتھی کھڑا ہے۔ مگر اس بار اس کے جسم پر ایک چھوٹی سی چیونٹی چڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بظاہر یہ ایک عجیب منظر ہے۔ ایک ننھی چیونٹی اور ایک دیوہیکل ہاتھی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی چیونٹی اکیلی ہے؟
جنگل کے کنارے پر کھڑے کچھ اور جانور اس منظر کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔ کوئی خاموشی سے مسکرا رہا ہے، کوئی اشاروں میں حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور کوئی یہ دیکھ رہا ہے کہ ہاتھی کا ردعمل کیا ہوگا۔
یہی عالمی سیاست کا اصل کھیل ہے۔ اکثر اوقات سامنے نظر آنے والا کردار اصل کہانی نہیں ہوتا۔ پس منظر میں مفادات، اتحاد، معیشت، توانائی کے ذخائر اور جغرافیائی سیاست کے پیچیدہ دھاگے جڑے ہوتے ہیں۔
خاص طور پر توانائی یعنی تیل کی سیاست نے پچھلی کئی دہائیوں میں عالمی طاقتوں کے رویوں کو بہت حد تک متاثر کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے وسیع توانائی ذخائر ہمیشہ بڑی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس خطے کی سیاست، جنگیں اور اتحاد اکثر انہی وسائل کے گرد گھومتے رہے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے بعض فیصلے کبھی کھلے میدان میں نہیں ہوتے۔ بہت سے فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں، جہاں مفادات کے توازن طے کیے جاتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں ایک اور دلچسپ تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ کچھ ایسے ممالک جنہیں کبھی عالمی سیاست کے بڑے کھلاڑی نہیں سمجھا جاتا تھا، اب پیچیدہ علاقائی تنازعات میں غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ مکمل طور پر مقامی صلاحیت کا نتیجہ ہے یا کہیں نہ کہیں کسی بڑی طاقت کی تکنیکی یا انٹیلی جنس معاونت بھی شامل ہو سکتی ہے۔
یہ سوال عالمی مبصرین کے درمیان مسلسل زیر بحث رہتا ہے۔
اسی دوران جنوبی ایشیا میں بھی ایک واقعہ پیش آیا جس نے طاقت کے توازن پر نئی بحث چھیڑ دی۔ ایک طاقتور پڑوسی ملک کو ایک ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جس میں اسے غیر متوقع مشکلات کا سامنا ہوا۔ بعض مبصرین کے مطابق اس واقعے نے خطے میں طاقت کے تصور کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کیا۔
اسی طرح ایک اور ملک جس پر موجودہ سپر پاور کی توجہ مرکوز رہی، اچانک ایسے اقدامات کرتا دکھائی دیا جنہوں نے عالمی مبصرین کو حیران کر دیا۔ ایسے درست اور محدود نوعیت کے اہداف پر حملوں کے بارے میں بعض تجزیہ کار یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اس کے پیچھے صرف مقامی صلاحیت تھی یا کسی بڑی قوت کی تکنیکی رہنمائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
یہ سب کچھ عالمی سیاست کے اس نئے مرحلے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں طاقت اب صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ اتحادوں، معلومات، معیشت اور ٹیکنالوجی سے بھی بنتی ہے۔
ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔
مسلم دنیا میں طویل عرصے سے اتحاد کی کمی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ صدیوں سے مختلف سیاسی، جغرافیائی اور نظریاتی اختلافات اس اتحاد کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔ تاہم بعض مواقع پر ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جب اسلامی ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات کا احساس دوبارہ ابھر کر سامنے آتا ہے۔
یہ رجحان وقتی بھی ہو سکتا ہے اور مستقل بھی۔ لیکن عالمی سیاست میں اس کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کے حوالے سے بھی حالیہ برسوں میں ایک اہم پہلو سامنے آیا ہے۔ ملک کی قیادت نے کئی پیچیدہ عالمی تنازعات کے درمیان نسبتاً متوازن خارجہ پالیسی اپنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ توازن برقرار رکھنا آسان کام نہیں ہوتا کیونکہ ایک طرف عالمی طاقتوں کے مفادات ہوتے ہیں اور دوسری طرف علاقائی حقیقتیں۔
اگر کوئی ملک ان دونوں کے درمیان توازن قائم رکھنے میں کامیاب ہو جائے تو یہ اس کی سفارتی صلاحیت کا ثبوت سمجھا جاتا ہے۔
آخر میں اگر ہم دوبارہ جنگل کی مثال کی طرف لوٹیں تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے:
ایک بڑا ہاتھی ہے جو اب بھی سب سے طاقتور ہے۔
مگر اب اسے یہ احساس بھی ہونے لگا ہے کہ جنگل میں صرف وہی نہیں ہے۔
کبھی سامنے کوئی دوسرا ہاتھی بھی کھڑا تھا، اس لیے توازن برقرار رہتا تھا۔ آج اگرچہ وہ صورتحال نہیں رہی، مگر اب ہاتھی کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ایک چھوٹی سی چونٹی کے پیچھے بھی شاید کوئی نہ کوئی کھڑا ہو سکتا ہے۔
اور یہی احساس عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے توازن کی اصل کہانی ہے۔
— صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر
#ZSB — گیارہ مارچ 2026


Comments