اٹھو وگرنہ حشر نہ ہو گا پھر کبھی /صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
اٹھو وگرنہ حشر نہ ہو گا پھر کبھی
صاحبـــــــــزادہ محمد زابر سعید بدر
صورتحال بدل رہی ہے۔ یہ وہی صورتحال ہے جس کا کئی برسوں سے ماہرین تذکرہ کرتے آئے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ آخر وہی ہو رہا ہے جس کا سوچا جا رہا تھا یا جس کے بارے میں اندازے لگائے جا رہے تھے۔ وہ لوگ جو اپنی قوم کے لیے گریٹر ملک بنانا چاہتے ہیں، انہوں نے سیاست، تعلیم اور ہنر کے میدان میں دنیا بھر میں آکٹوپس کی طرح ایک جال بنا دیا، اور سب آہستہ آہستہ اس میں پھنستے چلے گئے۔ حتیٰ کہ دنیا کی عظیم طاقتیں، جہاں سے دنیا کے معاملات، مسائل اور سیاست کو کنٹرول کیا جاتا ہے، وہ بھی اس عظیم آکٹوپس کے جال کے شکنجے میں جکڑی نظر آتی ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے اپنا ذہن استعمال کیا۔ خدا نے ہزاروں برس پہلے انہیں جہاں سے نکالا تھا، اب وہ وہیں نہ صرف موجود ہیں بلکہ اپنا پھیلاؤ بھی کرتے جا رہے ہیں۔ گریٹ گیم تیزی سے اپنا دائرۂ اثر وسیع کر رہی ہے۔
لیکن آپ دیکھ لیں نام نہاد مسلم اُمہ کو، جو نسیم حجازی کے ناولوں نے ہم پاکستانیوں کے ذہن میں انڈیل رکھی تھی۔ آج ہم ایک ہی مذہب کے ماننے والے، ایک ہی رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام لیوا، ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔ خوش کون ہو رہا ہے؟ یہ جاننے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ ڈیوائڈ اینڈ رول کی پالیسی ایک ایسی پالیسی ہے جسے سامراجی نظام نے ہمیشہ سے اپنایا ہے، اور یہ سامراجی سسٹم کا ایک حصہ ہے۔ اب وہ تمام اقوام جن کا وزڈم یا کلیکٹو وزڈم اِنٹیکٹ ہوتا ہے، وہ سمجھتی ہیں کہ ہمیں اس سے کیسے بچنا ہے۔ لیکن جو جذباتیت میں، کچھ ماضی، کچھ حال اور کچھ مستقبل کے وسوسوں کے سہارے جیتی ہیں، ان کا وہی حال ہوتا ہے جو ہم دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کچھ ہمارے ازلی دشمن ہیں جو ہمارے بعض صوبوں میں اِن فلٹریشن کر رہے ہیں۔ لیکن کیا وہ تمام مسلم ممالک، جو ہمارے بلوچستان میں کئی برسوں سے ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور ان کی مدد کر رہے ہیں جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں، کیا ہم انہیں نہیں جانتے؟ ابھی جو کچھ ریجن میں ہو رہا ہے، جن لوگوں کی ہم نے پچاس سال میزبانی کی، وہ ہم سے شدید نفرت کرتے ہیں اور ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ انسانی فطرت کا وہ عجیب حال ہے جس پر انسان بعض اوقات جانوروں سے بھی بدتر نظر آتا ہے۔ ہمیں جانور کچھ بہتر نظر آتے ہیں؛ کم از کم وہ جو ان سے محبت کرتا ہے، اس کے لیے جان بھی لڑا دیتے ہیں۔ لیکن یہ تو جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں۔
ہمارا پیارا وطن، کوئی شک نہیں، اس وقت بھیڑیوں کے گھیرے میں ہے۔ اور آپ وہ جانتے ہیں جو ایک میمنے اور بھیڑیے کی حکایت ہے کہ بھیڑیے نے کیسے میمنے کو کھا لیا، یہ الزام لگا کر کہ اس نے پانی کو جھوٹا کیا ہے، حالانکہ میمنہ نیچے تھا اور بھیڑیا اوپر تھا۔ دنیا جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے اصول پر چلتی آئی ہے، لاکھوں کروڑوں سال سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ اس سے پہلے سروائیول آف دی فٹس بھی یہی کہتا ہے کہ جو زیادہ مضبوط ہے وہی سروائیو کرتا ہے۔ ابن خلدون کے نظریۂ عصبیت کے مطابق بھی قوموں کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت دنیا تیزی سے پہلی جنگِ عظیم اور دوسری جنگِ عظیم جیسی صورتحال کی طرف جاتی نظر آتی ہے۔ ہر بندہ لڑنے کو تیار ہے، ہر قوم مرنے کو تیار ہے، کوئی عقل، تدبیر اور تدبر سے کام لینے کو تیار نہیں۔ دنیا کے تمام بڑے اور عظیم حکمران بھی تدبر کرنے کو تیار نہیں۔ کیا انسانوں کو ختم کرنے کی تدبیر کی جا رہی ہے کیونکہ اے آئی انسانوں کو ریپلیس کرنے والی ہے؟ اور دنیا میں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں انسان نما کچرا موجود ہے۔ یہ میں نہیں کہہ رہا، یہ کچھ سائنس اور علم کا زعم رکھنے والی اقوام کا خیال ہے کہ کچھ ایسے علاقے موجود ہیں جہاں صرف کچرا ہے۔ شاید یہ کچرا ختم کرنے کی کوشش ہو۔
ہمارے وطن میں، جہاں ایک طرف چند افراد کے ہاتھوں میں دولت کے انبار ہیں، اور غربت کے حوالے سے ہم ایک بھکاری قوم ہیں کہ ہر شخص بھیک دینے کو تیار ہے اور بہت سے لوگ بھیک لینے کو تیار ہیں، لیکن ایک مڈل کلاس طبقہ ہے جس کی زندگی یہاں محال ہے۔ اس کا وقتِ شامت آیا جاتا ہے۔ مہنگائی بڑھے گی۔ اس کے پاس کسی قسم کا کوئی کارڈ نہیں ہے جس پر بھیک مل سکے، اور نہ ہی اس کے پاس وہ وسائل ہیں جو اشرافیہ کے پاس ہمیشہ سے ہیں۔ لہٰذا جب آبنائے ہرمز بند ہو رہی ہے تو تیل کی قیمت میں اضافہ تو ہو چکا، ابھی بہت کچھ اور اضافہ ہو سکتا ہے۔ بہت سی چیزوں میں کمی بیشی ہو گی، اور اس کا سب سے برا اثر پاکستان کی مڈل کلاس پر پڑے گا، جو پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس دے رہی ہے۔ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کی رپورٹس بھی آ چکی ہیں کہ یہ طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے، اور اب بھی اسی نے پِسنا ہے۔
لہٰذا بہت محتاط چلیں۔ بہت ضرورت کی چیزیں خریدیں تاکہ جی سکیں، کیونکہ اشرافیہ بھی اس ملک سے آرام سے بھاگ کر جا سکتی ہے۔ غریب آدمی کا ذہن ہی سوائے بھیک مانگنے کے علاوہ کچھ سوچ نہیں سکتا۔ جو سوچنے والے کچھ لوگ ہیں وہ کہیں جا نہیں سکتے، کیونکہ وقت ایسا آنے والا ہے کہ دنیا ان کے لیے تنگ پڑنے والی ہے۔ اور باقی طبقہ، جو صرف کھاتا ہے، پیتا ہے، سوتا ہے اور ہر وہ کام کرتا ہے جو جانور کرتے ہیں، ان پر اب افتاد آنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ ابھی بھی شام کو جب میں باہر گیا تو گروسری اسٹورز پر وہی خوش گپیاں چل رہی تھیں، کون آئس کریم کھا رہا ہے، ڈیٹنگ ہو رہی ہے، میوزک چل رہا ہے۔ کسی کو ہوش نہیں کہ آپ کے ملک کی سرحد پر ہی جنگ جاری ہے، اور ذرا پڑوس میں دیکھیں تو میزائلوں کی بارش ہو رہی ہے۔ لیکن نہیں، وہ لوگ تو بس اپنی دنیا میں مست ہیں۔ انہیں کیا؟ جب خطرہ سر پر آئے گا تو پھر وہ سوچیں گے۔
یکم مارچ 2026

Comments