لڑکپن کی ایک فون کال | نوے کا لاہوری منظر نامہ | صاحب زادہ زابر سعید بدر
نوے کی دہائی کے لاہوری ماحول میں گندھی ایک یاداشت
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
یہ بھی عجیب بات ہے کہ انسان کی یادداشت میں بعض واقعات کسی بڑے واقعے کی طرح محفوظ نہیں ہوتے، وہ کسی گیت، کسی آواز، کسی خوشبو یا کسی معمولی سے لمحے کے ساتھ کہیں اندر چھپے رہتے ہیں۔ پھر اچانک برسوں بعد وہ چیز سامنے آتی ہے اور آدمی کو یوں لگتا ہے جیسے وقت نے ایک لمحے کے لیے اپنا پہیہ الٹا گھما دیا ہو۔
آج ایسا ہی ہوا۔
شاہ رخ خان کی فلم "بازیگر" کا وہ گیت کہیں سنائی دیا:
"کتابیں بہت سی پڑھی ہوں گی تم نے، کبھی کوئی چہرہ تم نے پڑھا ہے..."
اور نہ جانے کیوں مجھے ایک دم کوئی چھتیس برس پرانی بات یاد آ گئی۔
یہ 1991ء یا 1992ء کا زمانہ تھا۔ میں نے شاید ابھی ایف ایس سی کی تھی۔ پاکستان میں کمپیوٹر نئی نئی چیز تھا۔ ونڈوز شاید ابھی ہماری زندگی میں اس طرح داخل نہیں ہوئی تھی؛ DOS، یعنی Disk Operating System، کا زمانہ تھا۔ کمپیوٹر سیکھنا آج کی طرح موبائل فون کھول کر چند منٹ کی ویڈیو دیکھنے کا کام نہیں تھا۔ باقاعدہ کسی ادارے میں جانا پڑتا تھا، مشین کے سامنے بیٹھنا پڑتا تھا اور آہستہ آہستہ اس نئی دنیا کو سمجھنا پڑتا تھا۔
میرے والد صاحب اس زمانے میں Pakistan Model Education Institutions Foundation میں ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز تھے۔ ڈاکٹر ملک غلام مرتضیٰ کے ساتھ مل کر عائشہ صدیقہ ماڈل کالج، نکلسن روڈ لاہور کے قیام میں بھی ان کا کردار تھا۔ میں ایک ایسی جگہ کمپیوٹر سیکھنے جایا کرتا تھا جو مسجد شہداء کے قریب تھی۔ آج سوچتا ہوں تو لگتا ہے جیسے وہ صرف کمپیوٹر سیکھنے کا زمانہ نہیں تھا، ایک نئی دنیا ہمارے سامنے کھل رہی تھی اور ہمیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ آنے والے برسوں میں کمپیوٹر ہماری زندگی کو کہاں سے کہاں لے جائے گا۔
یاد پڑتا ہے کہ اس زمانے میں ایک ہزار روپے ماہانہ فیس ہوتی تھی۔ آج کے حساب سے شاید کوئی بڑی بات نہ لگے، مگر اس وقت ایک ہزار روپے معمولی رقم نہیں تھی۔
والد صاحب کی سرکاری گاڑی تھی۔ کبھی کبھی ڈرائیور مجھے گھر سے لے لیا کرتا تھا اور گاڑی میں کالج کی کچھ لڑکیاں بھی بیٹھی ہوتی تھیں۔ ان میں ایک لڑکی تھی جس کا نام اب مجھے یاد نہیں۔ میں ویسے بھی بچپن سے کچھ سنجیدہ طبیعت کا تھا، تھوڑا shy بھی، اور ان دنوں اپنی ہی ایک دنیا میں رہتا تھا۔ محبت کے ایک مرحلے سے گزر رہا تھا، اپنا دل بھی ٹوٹا ہوا تھا، اس لیے گاڑی میں بیٹھنے والی لڑکیوں کی طرف میری کوئی خاص توجہ نہیں ہوتی تھی۔ میں دیکھتا بھی نہیں تھا، بات کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
لیکن شاید دوسری طرف کسی نے مجھے دیکھ لیا تھا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ وہ لڑکی چور جی کوارٹرز میں رہتی تھی۔ اس کے والد صاحب پیپلز پارٹی کے اس زمانے میں کوئی وزیر تھے، یا کسی وزیر کے پی آر او تھے، یا ان کے ساتھ منسلک تھے، یہ تفصیل اب پوری طرح یاد نہیں۔ بہرحال خاندان اچھا تھا، لڑکی بھی اچھی تھی۔
پھر ایک دن میرے کمرے میں رکھے ہوئے پرسنل ٹیلی فون پر رات کو ایک فون آیا۔
میں نے فون اٹھایا۔
"ہیلو۔۔۔ ہیلو۔۔۔"
کوئی جواب نہیں۔
دوسری طرف خاموشی تھی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب نہ caller ID ہوتی تھی، نہ موبائل فون، نہ یہ معلوم کرنے کا کوئی آسان ذریعہ کہ فون کس نمبر سے آیا ہے۔ کبھی کبھی wrong number بھی آ جاتا تھا، اس لیے مجھے کوئی خاص شبہ نہیں ہوا۔ میں فون سنتا رہا، پھر دوسری طرف سے فون بند ہو گیا۔
پھر کبھی دوبارہ فون آتا۔
میں سنتا۔
کبھی دوسری طرف خاموشی ہوتی، کبھی ایک گانا سنائی دیتا۔
اور میں وہ گانا سنتا رہتا۔
پھر فون بند ہو جاتا۔
یہ سلسلہ ایک دو مرتبہ نہیں، کئی مرتبہ چلا۔
مجھے نہیں معلوم تھا کہ دوسری طرف کون ہے۔
آج سوچتا ہوں تو اس زمانے کے فون میں بھی ایک عجیب سی پراسراریت تھی۔ آج اگر کوئی فون کرے تو نام سامنے آ جاتا ہے، تصویر سامنے آ جاتی ہے، نمبر محفوظ ہوتا ہے، آدمی جانتا ہے کون بات کر رہا ہے۔ اس وقت فون کی گھنٹی بجتی تھی تو کبھی کبھی خود فون ایک راز بن جاتا تھا۔
پھر کسی طرح اس لڑکی کا رابطہ میرے والد صاحب سے ہوا۔
ابو نے مجھ سے کہا:
"دیکھ لو، لڑکی اچھی ہے۔"
میں نے شاید بات ٹالنے کے لیے کہا:
"والد صاحب نہیں مانیں گے۔"
اس نے کہا:
"والد صاحب کو بھی منا لوں گی۔"
مجھے آج تک نہیں معلوم اس نے ابو کو کیا منتر گھولا تھا۔ کیا بات کی، کیسے کی، کیا دلیل دی، لیکن ابو نے مجھے آ کر کہا:
"جی، اچھی لڑکی ہے، کوئی حرج نہیں۔"
اب میرے پاس ایک اور بہانہ تھا۔
میں نے کہا:
"میری والدہ نہیں مانیں گی۔"
میں نے سوچا پہلے امی کو فون کر کے بتا دوں کہ اگر اس طرف سے کوئی فون آئے تو آپ نے بات ٹال دینی ہے۔
لیکن میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس لڑکی نے مجھ سے پہلے ایک اور قدم اٹھا لیا۔
اس زمانے میں کسی کا نمبر معلوم کرنا آج کی طرح آسان نہیں تھا۔ نہ موبائل تھا، نہ WhatsApp، نہ کوئی contact list۔ اس نے نہ جانے میری بہن سے کس طرح میری والدہ کا نمبر حاصل کیا اور امی کو فون کر دیا۔
امی نے کہا:
"زابر کو کوئی اعتراض نہیں ہے تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں۔ میں تو تیار ہوں۔"
میں تو حیران رہ گیا۔
میں ابھی سوچ رہا تھا کہ کیا کیا جائے اور وہ لڑکی میرے سوچنے سے کہیں آگے جا چکی تھی۔
پھر میری سالگرہ آئی۔
22 مئی۔
شاید 1992ء یا 1993ء کی بات ہے۔
وہ اپنی بھابی کے ساتھ ہمارے گھر آئی۔ میرے لیے تحفے لے کر آئی تھی۔
لیکن میں اس سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔
آج اس بات کو یاد کرتا ہوں تو دل میں ایک ہلکی سی چبھن ہوتی ہے۔ اس وقت مجھے جو درست لگا، میں نے وہی کیا، مگر وقت گزرنے کے بعد بعض فیصلے اپنے اندر ایک اور ہی معنی لے آتے ہیں۔
ان دنوں ہمارے گھر میں میاں منظر بشیر صاحب رہتے تھے، جنہیں ہم منجو انکل کہتے تھے۔ وہ جسٹس شاہ دین کے پوتے اور میاں بشیر احمد کے صاحبزادے تھے اور والد صاحب کے بہت قریبی دوست تھے۔ کئی سال ہمارے گھر میں قیام پذیر رہے۔
میں نے ان سے کہا:
"انکل، کوئی لڑکی آئی ہے، اسے کہہ دیں میں گھر پر نہیں ہوں۔ میں اس سے نہیں ملنا چاہتا۔"
انہوں نے شاید اسے یہی کہہ دیا کہ زابر گھر پر نہیں ہے۔
مگر لڑکی نے فوراً جواب دیا:
"مجھے پتہ ہے، وہ گھر پر ہے۔ وہ سو رہا ہے۔"
مجھے آج بھی یہ جملہ یاد ہے۔
منظر بشیر صاحب نے اسے بہت ڈانٹا، بہت شرمندہ بھی کیا، لیکن وہ بڑی مشکل سے یہی کہتی رہی کہ ایک دفعہ ملنے دیں، کم از کم میرے تحفے تو اسے دینے دیں۔
مگر میں نہیں ملا۔
میں نے اس وقت جو کرنا تھا، کر دیا۔
بعد میں اس کا بھائی مجھ سے ملنے آیا۔ وہ میرے خیالات جاننا چاہتا تھا کہ میں اس رشتے میں دلچسپی رکھتا ہوں یا نہیں۔
میں نے اس سے بھی معذرت کر لی۔
پھر اس لڑکی نے اپنی بہن کو بھی منع کیا اور اس کا دل دکھا۔ شاید اس کا دل واقعی ٹوٹا۔
لیکن میں کیا کرتا؟
میرا اپنا دل پہلے ہی ٹوٹا ہوا تھا۔
مجھے معلوم تھا کہ دل ٹوٹنے کا دکھ کیا ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے میں کسی دوسرے انسان کو وہی دکھ نہیں دینا چاہتا تھا جو میں خود بھگت چکا تھا، لیکن عجیب بات ہے کہ انسان کبھی کبھی کسی کو دکھ سے بچانے کے لیے بھی ایسا فیصلہ کر دیتا ہے جس سے آخرکار اسے دکھ ہی پہنچتا ہے۔
اس پورے واقعے میں اس لڑکی کی ایک بات مجھے آج بھی یاد ہے، اور شاید انسانی نفسیات کے طالب علم کے طور پر آج بھی وہ بات مجھے دلچسپ لگتی ہے۔
ان دنوں ہماری عمر ایسی تھی کہ لڑکے لڑکیاں کبھی فون پر الٹی سیدھی باتیں بھی کر لیا کرتے تھے۔ بعض واقعات مجھے سننے کو ملے تھے۔ میں نے اس سے ایسے ہی کچھ واقعات کا ذکر کیا تو اس نے بہت سادگی سے کہا کہ ایک عمر میں لڑکیوں میں ایسی حرکتیں ہو جاتی ہیں، کبھی جذبات میں، کبھی تجسس میں، کبھی دوستوں کے اثر میں۔ لیکن اچھی تربیت اور اچھے خاندان سے آنے والی لڑکیاں وقت کے ساتھ سنبھل جاتی ہیں۔ اسے ہمیشہ کردار کا آخری فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے؛ بعض چیزیں عمر کے ساتھ ختم ہو جاتی ہیں اور انسان اپنے تجربات سے سیکھ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔
مجھے اس کی یہ بات اچھی لگی تھی۔
شاید اس لیے بھی کہ وہ خود ایک لڑکی تھی اور لڑکیوں کے بعض رویوں کو ایک ایسی نظر سے دیکھ رہی تھی جس میں نہ غیر ضروری سختی تھی، نہ ہر چیز کو معصومیت کا نام دینے کی کوشش۔ وہ عمر، ماحول اور تربیت کے فرق کو سمجھتی تھی۔
آج جب میں انسانی نفسیات، سماجی رویوں اور معاشرتی رویوں پر غور کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ نوجوانی کو سمجھنے کے لیے صرف اخلاقی فیصلے کافی نہیں ہوتے۔ عمر، شخصیت، خاندان، ماحول، دوستوں کا اثر، جذباتی ضرورتیں، سب مل کر انسان کے رویے بناتے ہیں۔
اور وہ لڑکی خود بھی ایک دلچسپ مثال تھی۔
وہ بہت caring تھی۔
اس میں احساس تھا۔
اس کی گفتگو نپی تلی تھی۔
وہ بات کو سمجھتی بھی تھی اور سمجھاتی بھی تھی۔
اور شاید اس کی سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ وہ اپنے ارادے کے اظہار سے نہیں گھبراتی تھی۔
اس نے initiative لیا۔
پہلے ابو سے رابطہ کیا۔
پھر مجھ سے بات کی۔
پھر امی تک پہنچی۔
پھر میری سالگرہ پر گھر آئی۔
پھر اپنی فیملی کو اس معاملے میں شامل کیا۔
پھر اس کا بھائی آیا۔
اس کی بھابی ساتھ تھیں۔
یعنی اس زمانے کے معاشرتی ماحول میں، جب کسی لڑکی کا اپنی پسند کے معاملے میں اس طرح آگے بڑھنا آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ غیر معمولی بات تھی، اس نے اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
اور میں؟
میں پیچھے ہٹ گیا۔
شاید اس لیے کہ میرا اپنا ماضی میرے سامنے کھڑا تھا۔
شاید اس لیے کہ دل پہلے ہی کسی اور جگہ زخمی تھا۔
شاید اس لیے کہ بعض اوقات انسان کو جو چیز اس وقت بہت واضح لگتی ہے، وقت گزرنے کے بعد وہ اتنی واضح نہیں رہتی۔
آج اس واقعے کو چھتیس برس کے فاصلے سے دیکھتا ہوں تو نہ مجھے اپنے فیصلے کو درست ثابت کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، نہ اسے غلط قرار دینے کی۔
وہ ایک وقت تھا۔
میں ایک مختلف انسان تھا۔
وہ لڑکی بھی ایک مختلف عمر میں تھی۔
اور زندگی بھی کچھ اور تھی۔
اس واقعے میں مجھے آج صرف ایک لڑکی یاد نہیں آتی، مجھے پورا ایک لاہور یاد آتا ہے۔
وہ 1990ء کی دہائی کا لاہور، جب کمپیوٹر نئی چیز تھا، DOS سیکھنے کے لیے باقاعدہ کلاس میں جانا پڑتا تھا، ایک ہزار روپے ماہانہ فیس بھی بڑی رقم لگتی تھی، سرکاری گاڑی میں کالج کی لڑکیاں آتی جاتی تھیں، گھروں میں لینڈ لائن فون ہوتے تھے، caller ID نہیں ہوتی تھی، اور ایک فون کال کے پیچھے چھپی ہوئی شناخت کئی دن تک راز رہ سکتی تھی۔
وہ لاہور جہاں لوگوں کے گھروں میں دوست کئی کئی سال رہ لیتے تھے، والدین کے دوست خاندان کا حصہ سمجھے جاتے تھے، رشتوں میں بڑے شامل ہوتے تھے، بہنیں بھائیوں کے نمبر دیتی تھیں، والدین ایک دوسرے سے براہ راست بات کرتے تھے اور کسی لڑکی کا اپنی پسند کے لیے کسی گھر تک پہنچ جانا ایک پورا واقعہ بن جاتا تھا۔
آج کے زمانے میں کسی کو تلاش کرنا مشکل نہیں۔
ایک نام لکھیں، نمبر مل جاتا ہے۔
ایک تصویر دیکھیں، شناخت ہو جاتی ہے۔
ایک پیغام بھیجیں، جواب آ جاتا ہے۔
لیکن اس زمانے میں ایک فون کال بھی ایک کہانی تھی۔
ایک خاموش فون کال۔
ایک نامعلوم آواز۔
ایک گانا۔
اور ایک ایسا شخص جو دوسری طرف بیٹھا ہوا تھا اور جسے آپ جانتے تک نہیں تھے۔
آج مجھے اس لڑکی کا نام بھی یاد نہیں۔
یہ بھی معلوم نہیں وہ کہاں ہے۔
شاید اس کی شادی ہو گئی ہو گی۔
شاید اس کے بچے ہوں گے۔
شاید وہ اپنی زندگی میں بہت آگے نکل چکی ہو گی۔
شاید اسے یہ واقعہ یاد بھی نہ ہو۔
اور اگر یاد ہو بھی تو شاید اسے میری نسبت بالکل مختلف انداز میں یاد کرتی ہو۔
لیکن جہاں کہیں بھی ہو، میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے خوش رکھے، اپنی حفظ و امان میں رکھے اور اسے زندگی کی وہ تمام خوشیاں دے جن کی وہ مستحق ہے۔
کچھ لوگ ہماری زندگی میں بہت تھوڑی دیر کے لیے آتے ہیں، مگر ہماری یادداشت میں بہت لمبا سفر طے کرتے ہیں۔
کچھ ملاقاتیں ہوتی نہیں، مگر یاد رہ جاتی ہیں۔
کچھ رشتے بنتے نہیں، مگر ان کے اندر موجود احساس کہیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔
اور کچھ گیت صرف گیت نہیں رہتے۔
وہ وقت کی چابیاں بن جاتے ہیں۔
آج "کتابیں بہت سی پڑھی ہوں گی تم نے..." سن کر میرے سامنے اچانک وہ کمرہ آ گیا۔
وہ پرانا فون۔
رات کی خاموشی۔
فون کے دوسری طرف ایک نامعلوم آواز۔
پھر وہ لڑکی۔
پھر ابو۔
پھر امی۔
پھر 22 مئی کی وہ سالگرہ۔
پھر دروازے پر کھڑی ایک لڑکی، ہاتھ میں تحفے، ساتھ اس کی بھابی۔
اور اندر ایک ایسا نوجوان جو اس سے ملنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
چھتیس برس گزر گئے۔
لوگ بدل گئے۔
شہر بدل گیا۔
رابطوں کے طریقے بدل گئے۔
کمپیوٹر کی وہ دنیا جسے ہم کبھی حیرت سے دیکھتے تھے، آج ہماری زندگی کا معمول بن چکی ہے۔
لیکن یادداشت عجیب چیز ہے۔
وہ وقت کو مرنے نہیں دیتی۔
کبھی ایک گیت اسے جگا دیتا ہے۔
کبھی ایک چہرہ۔
کبھی ایک خوشبو۔
اور کبھی ایک خاموش فون کال۔
شاید اسی لیے میں آج کل اپنی یادیں لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اس لیے نہیں کہ میری زندگی کے واقعات کوئی غیر معمولی داستان ہیں، بلکہ اس لیے کہ ان چھوٹے چھوٹے واقعات کے اندر ایک پورا زمانہ چھپا ہوا ہے۔ لاہور کا ایک پرانا کلچر، خاندانوں کے تعلقات، نوجوانوں کی نفسیات، اس دور کے رابطوں کے طریقے، لوگوں کے میل جول کا انداز، اور وہ انسانی احساسات جو ٹیکنالوجی بدلنے کے باوجود شاید آج بھی وہی ہیں۔
میں چاہتا ہوں کہ جو کچھ یاد آتا جائے، اسے لکھتا جاؤں۔
شاید آنے والے وقت میں کوئی ان یادداشتوں کو پڑھے تو اسے صرف زابر سعید بدر کی ایک ذاتی کہانی نہ ملے، بلکہ اسے ان صفحات کے درمیان اپنا بھی کوئی پرانا لاہور نظر آ جائے۔
ایک ایسا لاہور جو اب موجود نہیں، مگر ہماری یادداشت میں اب بھی سانس لیتا ہے۔

Comments