Posts

Showing posts from October, 2026

میڈیا کے اسٹوڈنٹس اہم ترین خبر سے بے خبر | صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
 میڈیا کے اسٹوڈنس اہم ترین خبر سے بے خبر    صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر   آج یونیورسٹی میں کلاس کے دوران جنزی نے مجھے واقعی حیران بھی کیا اور پریشان بھی۔ میڈیا سائنسز کے طلبہ، وہ طلبہ جو خود انسٹیٹیوٹ آف کمیونیکیشن اسٹڈیز میں زیرِ تعلیم ہیں، ان میں سے صرف تین چار طلبہ اس خبر سے آگاہ تھے کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک نوجوان طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر ہونے والا فراڈ کس نوعیت کا تھا، کس طرح اسے امریکہ کی ایک معروف یونیورسٹی میں فزکس میں پی ایچ ڈی کے داخلے کے نام پر دھوکا دیا گیا، معاملہ کیسے سامنے آیا، حکومت کی سطح پر اس کا نوٹس لیا گیا اور متعلقہ اداروں نے اس پر کارروائی کی۔ مجھے حیرت اس واقعے پر کم اور اس بات پر زیادہ ہوئی کہ جن نوجوانوں کو اس خبر سے سب سے زیادہ آگاہ ہونا چاہیے تھا، ان کی اکثریت اس سے بالکل بے خبر تھی۔ میں نے کلاس میں پوچھا تو تقریباً سب کے ہاتھ میں موبائل فون تھا۔ سب سوشل میڈیا استعمال کرتے تھے۔ فیس بک، انسٹاگرام اور دوسری کئی ایپلی کیشنز ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھیں۔ پھر سوال یہ تھا کہ آخر یہ خبر ان تک کیوں نہیں پہنچی؟ یہاں معاملہ صرف ایک خبر ...

مہنگائی سے عالمی انتشار تک | صدائے دل | زابر سعید بدر

Image
 مہنگائی سے عالمی انتشار تک  ایک خطرناک منظرنامہ صاحبزادہ زابر سعید بدر کبھی کبھی کسی معاشرے کی صورت حال سمجھنے کے لیے بہت زیادہ اعداد و شمار یا کسی پیچیدہ تجزیے کی ضرورت نہیں ہوتی، چند واقعات، کچھ معاشی اشاریے اور عام آدمی کی زندگی پر نظر ڈالنا ہی بہت کچھ سمجھا دیتا ہے۔ کراچی میں ایک خاندان کے پانچ افراد کی ہلاکت کا افسوس ناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں مالی مشکلات اور خاندانی مسائل کا ذکر بھی ہوا ہے، تاہم اس واقعے کی مکمل وجوہات کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ دوسری طرف عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کی تازہ رپورٹ بتا رہی ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح، جو گزشتہ مالی سال 7.1 فیصد رہی، رواں مالی سال میں بڑھ کر 9.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ معاشی ترقی کی شرح 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار محض معاشی اصطلاحات نہیں، ان کا تعلق ہمارے روزمرہ کے معمولات، گھریلو بجٹ، بچوں کی تعلیم، خوراک، علاج اور ذہنی سکون سے ہے۔ ذرا ایک عام پاکستانی گھرانے کا تصور کیجیے، جہاں گھر کا سربراہ محدود آمدنی میں بجلی اور گیس کے بل ادا کرتا ہے، بچوں کی...

دنیا پر حکمرانی ہمیشہ علم نے کی| صدائے دل | کالم | زابر سعید بدر

Image
دنیا پر حکمرانی ہمیشہ علم نے  کی  صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر   تاریخ کو اگر صرف بادشاہوں، جنگوں، سلطنتوں اور فتوحات کی داستان سمجھ کر پڑھا جائے تو شاید یہ معلوم نہ ہو کہ دنیا کی اصل طاقت ہمیشہ تلوار کے پاس نہیں رہی؛ کئی مرتبہ وہ کتاب کے پاس رہی، کبھی کاغذ کے پاس، کبھی کسی زبان کے پاس اور کبھی کسی ایسے شہر کے پاس جہاں دنیا بھر کا علم آ کر جمع ہو گیا۔ تاریخ کا ایک گہرا سبق یہ ہے کہ جس قوم نے علم کو اپنے عہد کی سب سے بڑی قوت سمجھا، وہ صرف اپنے زمانے پر اثرانداز نہیں ہوئی بلکہ آنے والی صدیوں کی سمت بھی متعین کر گئی۔ قدیم ہندوستان میں ریاضی، فلکیات اور فلسفے کی عظیم روایت موجود تھی۔ ٹیکسلا علم کا ایک غیر معمولی مرکز تھا، جہاں مختلف علاقوں سے طلبہ آتے تھے، مگر صفر کے بارے میں یہ کہنا تاریخی طور پر درست نہیں کہ اسے 500 قبل مسیح میں ٹیکسلا کے کسی طالب علم نے ایجاد کیا۔ صفر کی باقاعدہ عددی حیثیت اور اس پر ریاضیاتی قواعد کی واضح تدوین ساتویں صدی عیسوی کے ہندوستانی ریاضی دان برہماگپت سے وابستہ ہے۔ یہی وہ علمی روایت تھی جس نے بعد میں ہندوستانی اعداد اور اعشاری نظام کو اسلامی دنیا...

کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا | سنڈے کالم | زابر سعید بدر

Image
  کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا   سنڈے کالم | صاحب زادہ  زابر سعید بدر ------------------------------------------- کبھی انسان سمجھتا تھا کہ پانی شاید زمین کی ایک منفرد نعمت ہے، پھر فلکیات نے اس خیال کو بھی چیلنج کر دیا۔ زمین سے 12 ارب نوری سال سے زیادہ فاصلے پر، کائنات کے ایک انتہائی روشن کواسر  کے گرد آبی بخارات کا ایک ایسا عظیم ذخیرہ دریافت ہوا جس میں پانی کی مقدار زمین کے تمام سمندروں کے مجموعی پانی سے کم از کم 140 کھرب گنا زیادہ ہے۔ یہ کوئی مائع سمندر نہیں بلکہ سیکڑوں نوری سال پر پھیلے ہوئے گیس کے خطے میں موجود پانی کے بخارات ہیں۔ اس کواسر کے مرکز میں ایک انتہائی جسیم بلیک ہول موجود ہے، جس کی کمیت سورج سے تقریباً 20 ارب گنا زیادہ ہے۔ یہ بلیک ہول اپنے گرد موجود مادے کو جذب کرتے ہوئے اتنی توانائی خارج کرتا ہے جو تقریباً ایک ہزار کھرب سورجوں کی توانائی کے برابر بتائی گئی ہے۔ وہاں موجود گیس کا درجہ حرارت تقریباً منفی 53 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، جو ہمیں بہت سرد محسوس ہوتا ہے، مگر فلکیاتی معیار سے یہ اپنے ماحول کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر گرم اور کثیف ہے۔ اور شاید اس دریافت ک...

کیلے کا چھلکا اور تربیت | صاحب زادہ زابر سعید بدر | کالم | صدائے دل

Image
  کیلے کا چھلکا اور ہماری تربیت  صدائے دل  صاحب زادہ زابر سعید بدر آج کل ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ ہم کسی سے بات کر رہے ہوں تو کوئی نہ کوئی درمیان میں ہمیں ٹوک دیتا ہے۔ فون پر بات کر رہے ہوں تو جس شخص سے گفتگو جاری ہو، اس کے اردگرد موجود کئی لوگ اسے اپنی بات کی طرف متوجہ کرتے رہتے ہیں اور وہ بیک وقت ہمیں بھی جواب دے رہا ہوتا ہے اور اپنے پاس موجود لوگوں کو بھی۔ کبھی ہماری بات ادھوری رہ جاتی ہے، کبھی اس کی۔ عجیب بات یہ ہے کہ اب اسے عموماً معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا، حالاں کہ کچھ عرصہ پہلے تک گفتگو کے یہ آداب ہماری تہذیبی تربیت کا حصہ تھے۔ یہ صورتِ حال خاص طور پر ہمارے قریبی احباب اور بزرگوں کے ساتھ گفتگو میں زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ ایک عزیز دوست سے اکثر بات کرتا ہوں۔ وہ ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر چکے ہیں، بچوں کو پڑھاتے ہیں، تعلیم دیتے ہیں، لیکن جب میں ان سے فون پر بات کر رہا ہوتا ہوں تو ان کے بچے مسلسل ان سے مخاطب ہوتے رہتے ہیں اور وہ میری گفتگو کے دوران ان کا جواب بھی دیتے رہتے ہیں۔ مجھے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ تعلیم اور تربیت میں یہی بنیادی فرق ہے۔ کوئی شخص کتنا ہی اعلیٰ ...

بچے سکرین اور ہماری ذمہ داری | صاحب زادہ زابر سعید بدر | | کالم | صدائے دل

Image
 بچے سکرین اور ہماری ذمہ داری   صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر  ہم کب سوچیں گے؟ دنیا سوچ رہی ہے، دنیا آگے بڑھ رہی ہے، نئی ٹیکنالوجی کے اثرات کو سمجھنے کے لیے تحقیق کر رہی ہے، اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں نئے سوال اٹھا رہی ہے، مگر ہم ابھی تک سکول بند کرنے پر بحث کر رہے ہیں۔ جب سکول بند ہوتے ہیں، سکولنگ کا وقت کم ہوتا ہے، یونیورسٹیوں کے اوقات محدود کیے جاتے ہیں یا کسی بھی وجہ سے بچوں کے تعلیمی اور سماجی رابطے کم ہوتے ہیں تو خالی ہونے والا وقت کہاں جاتا ہے؟ بہت بڑی حد تک وہ سکرین کے سامنے چلا جاتا ہے۔ دنیا ایک طرف بچوں کے سکرین ٹائم کو محدود کرنے، اس کے اثرات سمجھنے اور ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کے طریقے تلاش کر رہی ہے، دوسری طرف ہم جب تعلیم کے دروازے بند کرتے ہیں تو غیر محسوس طور پر بچوں کو مزید ٹیکنالوجی کے حوالے کر دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کب اس تضاد پر سنجیدگی سے غور کریں گے؟ گزشتہ دنوں CNN کی ایک رپورٹ میری نظر سے گزری جس میں بچوں کے سکرین ٹائم اور ان کی نشوونما کے بارے میں کئی دہائیوں پر ہونے والی تحقیق کا جائزہ پیش کیا گیا۔ اس تحقیق میں 64 ممالک کے تقری...