مہنگائی سے عالمی انتشار تک | صدائے دل | زابر سعید بدر




 مہنگائی سے عالمی انتشار تک

 ایک خطرناک منظرنامہ


صاحبزادہ زابر سعید بدر

کبھی کبھی کسی معاشرے کی صورت حال سمجھنے کے لیے بہت زیادہ اعداد و شمار یا کسی پیچیدہ تجزیے کی ضرورت نہیں ہوتی، چند واقعات، کچھ معاشی اشاریے اور عام آدمی کی زندگی پر نظر ڈالنا ہی بہت کچھ سمجھا دیتا ہے۔ کراچی میں ایک خاندان کے پانچ افراد کی ہلاکت کا افسوس ناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں مالی مشکلات اور خاندانی مسائل کا ذکر بھی ہوا ہے، تاہم اس واقعے کی مکمل وجوہات کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ دوسری طرف عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کی تازہ رپورٹ بتا رہی ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح، جو گزشتہ مالی سال 7.1 فیصد رہی، رواں مالی سال میں بڑھ کر 9.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ معاشی ترقی کی شرح 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار محض معاشی اصطلاحات نہیں، ان کا تعلق ہمارے روزمرہ کے معمولات، گھریلو بجٹ، بچوں کی تعلیم، خوراک، علاج اور ذہنی سکون سے ہے۔

ذرا ایک عام پاکستانی گھرانے کا تصور کیجیے، جہاں گھر کا سربراہ محدود آمدنی میں بجلی اور گیس کے بل ادا کرتا ہے، بچوں کی اسکول فیس دیتا ہے، راشن خریدتا ہے اور روزمرہ سفر کے اخراجات پورے کرتا ہے۔ اگر اس کی آمدنی میں اضافہ نہ ہو لیکن اشیائے ضروریہ اور خدمات کی قیمتیں بڑھتی رہیں تو اسے یا تو اپنے اخراجات میں کمی کرنا ہوگی، قرض لینا پڑے گا یا کچھ ضروریات کو مؤخر کرنا ہوگا۔ مہنگائی کی شرح 9.9 فیصد ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شے کی قیمت لازماً اتنی ہی بڑھے گی، بلکہ اس سے مراد عمومی قیمتوں میں اضافے کی متوقع رفتار ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی گھرانے کے اخراجات ایک لاکھ روپے ماہانہ ہوں اور اس کے زیرِ استعمال اشیا و خدمات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر اسی تناسب سے اضافہ ہو تو وہی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً ایک لاکھ نو ہزار نو سو روپے درکار ہوں گے۔ یہ ایک وضاحتی مثال ہے، لیکن اس کا اصل سوال یہ ہے کہ جس شخص کی آمدنی پہلے ہی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے، وہ اضافی رقم کہاں سے لائے گا؟

غربت کا مسئلہ اس سے بھی زیادہ گہرا ہے۔ ورلڈ بینک کی اکتوبر 2026ء کی علاقائی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت میں اضافے نے پورے خطے کے اعداد و شمار کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔ رپورٹ میں روزانہ تین ڈالر کی غربت کی بین الاقوامی لکیر کے مطابق پاکستان میں 2018-19ء سے 2024-25ء کے درمیان غربت کی شرح میں 6.4 فیصدی پوائنٹس اضافے کی نشان دہی کی گئی ہے۔ اس پیمانے کے تحت پاکستان خطے میں غربت کے بڑے مراکز میں شامل ہے، جبکہ یمن، افغانستان اور شام بھی شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔ یہاں یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ غربت کی شرح اور مہنگائی کی شرح دو الگ اشاریے ہیں؛ مہنگائی بڑھنے سے کم آمدنی والے خاندانوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن غربت کی شرح کا تعین الگ پیمانے اور اعداد و شمار سے کیا جاتا ہے۔

معاشی مشکلات کا اثر صرف جیب تک محدود نہیں رہتا۔ جب والدین بچوں کو مناسب خوراک فراہم نہ کر سکیں، اسکول کے اخراجات پورے نہ ہوں، علاج مشکل ہو جائے اور ہر ماہ کے اختتام پر اگلے مہینے کی ضروریات کا خوف لاحق ہو تو اس کا اثر انسانی نفسیات پر بھی پڑتا ہے۔ بے یقینی، اضطراب، نیند کے مسائل اور خاندانی تناؤ بڑھ سکتے ہیں۔ بعض لوگ حالات کا مقابلہ کرتے ہیں، بعض اپنے مسائل دوسروں سے بیان نہیں کر پاتے اور بعض شدید ذہنی دباؤ میں ایسے فیصلے کر بیٹھتے ہیں جن کے نتائج ناقابلِ تلافی ہوتے ہیں۔ تاہم کسی ایک افسوس ناک واقعے کو صرف غربت کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں؛ ایسے واقعات میں نفسیاتی، سماجی، خاندانی اور دیگر عوامل بھی اہم ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشی تحفظ کے ساتھ ذہنی صحت اور مشکل حالات سے گزرنے والے افراد کی مدد کو بھی اہمیت دی جائے۔

یہ صورت حال صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، جنگ کے خدشات اور علاقائی عدم استحکام پہلے ہی عالمی معیشت کے لیے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے اپنی تازہ عالمی رپورٹ میں تنازعات، توانائی کی بلند قیمتوں، قرضوں اور عالمی معاشی بے یقینی کو ترقی کے لیے اہم خطرات قرار دیا ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کو مہنگائی، درآمدی بل، بیرونی ادائیگیوں اور معاشی استحکام کے حوالے سے اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورت حال میں سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کا تحفظ اور استحکام بھی علاقائی امن سے جڑا ہوا ہے۔ فی الحال کسی فوری اور آسان حل کی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں۔

اس پورے منظرنامے میں ایک بنیادی سوال مسلم دنیا کے بارے میں بھی ہے۔ مختلف مسلم ممالک کے درمیان تنازعات، باہمی عدم اعتماد اور سیاسی و عسکری کشمکش نے خطے کو کس حد تک کمزور کیا ہے؟ امریکہ اور اسرائیل سمیت دیگر طاقتوں کے کردار، مفادات اور پالیسیوں کا تجزیہ اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مسلم ممالک کے باہمی اختلافات اور تصادم کے نتائج بالآخر انہی کے عوام کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ جب ریاستیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوں، وسائل دفاعی کشمکش میں صرف ہوں اور معاشی تعاون کی جگہ عدم اعتماد لے لے تو اس کا فائدہ ان طاقتوں کو بھی پہنچ سکتا ہے جو اپنے مفادات کے لیے اس صورت حال سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں۔ تاہم ہر تنازع کو صرف بیرونی سازش یا صرف داخلی اختلاف کا نتیجہ قرار دینا بھی درست تجزیہ نہیں؛ ہر صورت حال کے اپنے تاریخی، سیاسی اور تزویراتی عوامل ہوتے ہیں۔

تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ داخلی انتشار، معاشی کمزوری اور سیاسی تقسیم کسی بھی معاشرے کی اجتماعی قوت کو متاثر کرتی ہے۔ یہ صرف اسلامی تاریخ کا معاملہ نہیں، دنیا کی مختلف تہذیبوں اور ریاستوں کی تاریخ میں بھی ایسے شواہد ملتے ہیں کہ باہمی کشمکش نے معاشروں کو کمزور کیا اور بیرونی طاقتوں کے لیے مداخلت کے مواقع پیدا کیے۔ جب لوگ آپس میں لڑتے رہیں، ادارے کمزور ہوں اور بنیادی مسائل پس منظر میں چلے جائیں تو ترقی کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اختلاف کیوں موجود ہے، بلکہ یہ ہے کہ اختلاف کو تعاون اور مکالمے میں بدلنے کے بجائے تصادم کا راستہ کیوں اختیار کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے لیے آج اصل چیلنج صرف مہنگائی کو قابو کرنا نہیں، بلکہ ایسا معاشی اور سماجی ماحول پیدا کرنا ہے جس میں عام آدمی کی آمدنی اس کی بنیادی ضروریات کے قریب پہنچ سکے، بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو، صحت کی سہولتیں قابلِ رسائی ہوں، روزگار کے مواقع بڑھیں اور شہری مستقبل کے بارے میں مسلسل خوف میں مبتلا نہ رہیں۔ اسی طرح علاقائی سطح پر جنگ کے بجائے مکالمے، باہمی احترام اور معاشی تعاون کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ اعداد و شمار مستقبل کے تمام واقعات کی پیش گوئی نہیں کرتے، لیکن خطرات کی نشان دہی ضرور کرتے ہیں۔ اگر ان اشاروں کو نظر انداز کیا جائے تو معاشی مشکلات سماجی بے چینی اور سیاسی عدم استحکام کو مزید گہرا کر سکتی ہیں۔

آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ اگلے سال مہنگائی کتنی ہوگی یا غربت کی شرح کیا رہے گی، بلکہ یہ ہے کہ ہم ان اعداد و شمار کے پیچھے موجود انسانوں کی زندگیوں کو کتنا اہم سمجھتے ہیں۔ کسی ملک کی حقیقی ترقی کا اندازہ صرف مجموعی قومی پیداوار سے نہیں ہوتا، یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ اس کے عام شہری کو دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم، علاج، روزگار اور ذہنی سکون میسر ہے یا نہیں۔ اسی طرح کسی خطے کی طاقت صرف اس کے وسائل اور فوجی صلاحیت سے نہیں، اس کی سیاسی بصیرت، داخلی استحکام اور باہمی تعاون سے بھی متعین ہوتی ہے۔ اگر معاشرے اور ریاستیں ان بنیادی حقیقتوں کو سمجھنے میں ناکام رہیں تو آنے والے وقت کے خطرات کسی پیچیدہ تجزیے کے محتاج نہیں رہیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

کامیابی کا راز ٹکراؤ میں نہیں بلکہ مفاہمت میں ہے / تاریخ کا سبق, زابر سعید بدر