کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا | سنڈے کالم | زابر سعید بدر


 کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا 

سنڈے کالم |

صاحب زادہ  زابر سعید بدر

-------------------------------------------


کبھی انسان سمجھتا تھا کہ پانی شاید زمین کی ایک منفرد نعمت ہے، پھر فلکیات نے اس خیال کو بھی چیلنج کر دیا۔


زمین سے 12 ارب نوری سال سے زیادہ فاصلے پر، کائنات کے ایک انتہائی روشن کواسر  کے گرد آبی بخارات کا ایک ایسا عظیم ذخیرہ دریافت ہوا جس میں پانی کی مقدار زمین کے تمام سمندروں کے مجموعی پانی سے کم از کم 140 کھرب گنا زیادہ ہے۔ یہ کوئی مائع سمندر نہیں بلکہ سیکڑوں نوری سال پر پھیلے ہوئے گیس کے خطے میں موجود پانی کے بخارات ہیں۔


اس کواسر کے مرکز میں ایک انتہائی جسیم بلیک ہول موجود ہے، جس کی کمیت سورج سے تقریباً 20 ارب گنا زیادہ ہے۔ یہ بلیک ہول اپنے گرد موجود مادے کو جذب کرتے ہوئے اتنی توانائی خارج کرتا ہے جو تقریباً ایک ہزار کھرب سورجوں کی توانائی کے برابر بتائی گئی ہے۔ وہاں موجود گیس کا درجہ حرارت تقریباً منفی 53 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، جو ہمیں بہت سرد محسوس ہوتا ہے، مگر فلکیاتی معیار سے یہ اپنے ماحول کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر گرم اور کثیف ہے۔


اور شاید اس دریافت کا سب سے حیران کن پہلو پانی کی مقدار نہیں بلکہ اس کا زمانہ ہے۔ اس کواسر کی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں تقریباً 12 ارب سال لگے۔ یعنی جب یہ روشنی روانہ ہوئی، کائنات کی عمر صرف تقریباً 1.6 ارب سال تھی۔ اس طرح ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے ابتدائی دور میں بھی پانی کی اتنی بڑی مقدار موجود تھی۔


یہاں سائنس ایک دلچسپ سوال کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے اگر پانی صرف ہماری زمین تک محدود نہیں، اگر کائنات کے اتنے ابتدائی دور میں بھی اس کے اتنے عظیم ذخائر موجود تھے، تو پھر ہم جس کائنات کو اپنی آنکھوں، دوربینوں اور حساب کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ ہماری موجودہ معلومات سے کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہو سکتی ہے۔


اور اگر اسے ایک فکری زاویے سے دیکھا جائے تو سوال اور بھی بڑا ہو جاتا ہے۔ ہم نے کبھی کہا کہ پانی زمین پر ہے؛ پھر معلوم ہوا کہ پانی خلا میں بھی ہے۔ ہم نے سمجھا کہ زمین شاید ایک منفرد استثنا ہے؛ پھر کائنات نے اپنے ایک دور دراز گوشے میں پانی کا ایسا ذخیرہ دکھا دیا جس کا تصور بھی انسانی پیمانوں سے باہر ہے۔


یہاں ایمان اور سائنس کو ایک دوسرے کا متبادل بنانے کی ضرورت نہیں۔ سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ وہاں کیا دریافت ہوا ایمان انسان کو اس دریافت کے سامنے کھڑے ہو کر یہ سوچنے کا موقع دیتا ہے کہ کائنات کا نظام ہماری سمجھ سے کتنا بڑا ہے۔


شاید اصل حیرت یہ نہیں کہ خلا میں پانی مل گیا؛ اصل حیرت یہ ہے کہ جس کائنات کو ہم ابھی تک مکمل طور پر جان بھی نہیں سکے، اس میں ایسی چیزیں پہلے سے موجود تھیں جن کا ہمیں تصور تک نہیں تھا۔


اور یہی احساس انسان کو اپنی محدود معلومات کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے

ہم کائنات کو دریافت کر رہے ہیں، مگر کائنات ہم سے کہیں پہلے سے اپنے راز سنبھالے بیٹھی ہے۔


یہ دریافت صرف خلا میں پانی کی موجودگی کی خبر نہیں دیتی، یہ انسان کو اپنی بساط پر بھی غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہم اپنی محدود عقل، محدود علم اور چند صدیوں کی سائنسی دریافتوں کے بل پر کبھی کبھی خدا کے وجود اور اس کے نظام پر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ جس کائنات کے ایک معمولی سے حصے کو بھی ہم ابھی پوری طرح نہیں سمجھ سکے، اس پوری کائنات کے خالق اور اس کے نظام پر فیصلہ صادر کرنے کی ہماری بساط آخر کتنی ہے؟


آئن اسٹائن سے منسوب ایک خوب صورت تشبیہ اسی احساس کو بیان کرتی ہے کہ انسان اس بچے کی مانند ہے جو ایک ایسی عظیم الشان لائبریری میں داخل ہو جہاں ہزاروں نہیں، لاکھوں کتابیں موجود ہوں۔ بچہ کتابیں دیکھتا ہے، مگر یہ نہیں جانتا کہ یہ سب کس نے لکھیں، کس ترتیب سے رکھی گئیں اور پوری لائبریری کا نظام کیسے قائم ہوا۔


کائنات شاید اس سے بھی کہیں بڑی لائبریری ہے۔ ہم اس کی چند کتابیں کھول کر پڑھ رہے ہیں، چند قوانین سمجھ رہے ہیں، چند راز دریافت کر رہے ہیں اور پھر کبھی کبھی پوری لائبریری کے وجود ہی پر سوال اٹھا دیتے ہیں۔


سائنس ہمیں کائنات کے قوانین سمجھنے کا راستہ دیتی ہے؛ لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ یہ قوانین موجود ہی کیوں ہیں؟ یہ کائنات اس قدر منظم کیوں ہے؟ اور وہ بنیادی قوت یا حقیقت کیا ہے جس نے اس پورے نظام کو وجود بخشا؟


یہاں انسان کا ایک بنیادی اعتراف شاید کافی ہے: ہمیں ہر چیز کا جواب معلوم نہیں، مگر کائنات کا یہ غیر معمولی نظم ہمیں اس امکان پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ اس کے پسِ پشت کوئی عظیم تر حقیقت اور کوئی خالقانہ قوت موجود ہے۔ میرے لیے اسی حقیقت کا نام خدا ہے۔


اس کے بعد خدا کی طرف سے انسانوں تک کیا ہدایات پہنچیں، کس نے ان کی ترجمانی کی، کس مذہبی روایت نے انہیں کیسے بیان کیا اور ان کی تفہیم میں کہاں اختلاف پیدا ہوا  یہ ایک الگ اور بہت وسیع بحث ہے۔ اس پر اختلاف ہو سکتا ہے، سوال ہو سکتے ہیں اور مکالمہ بھی ہو سکتا ہے۔


لیکن اگر کوئی انسان یہ کہتا ہے کہ اسے خدا کی طرف سے انسانوں کے لیے کوئی پیغام ملا ہے، اور اس پیغام کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ انسان دوسروں کو تکلیف نہ دے، انسانیت کے لیے کام کرے، انصاف کرے، بھلائی اختیار کرے اور ایک بہتر انسان بن کر زندگی گزارے، تو کم از کم اس دعوے کو سننے اور اس پر غور کرنے میں کیا حرج ہے؟


شاید ہمیں خدا کو سمجھنے سے پہلے اپنی محدودیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔


کیونکہ جس کائنات میں 12 ارب نوری سال دور پانی کا ایسا ذخیرہ موجود ہو، جس کی مقدار زمین کے تمام سمندروں کے پانی سے کھربوں گنا زیادہ ہو، وہاں کھڑے ہو کر یہ کہنا کہ ’’ہم سب کچھ جانتے ہیں‘‘ شاید انسان کی سب سے بڑی خوش فہمی ہے۔


ہم ابھی کائنات کے راز پڑھنا شروع ہی ہوئے ہیں ممکن ہے اصل کتاب ابھی بہت آگے ہو۔


4 

اکتوبر 

2026

Comments

Popular posts from this blog

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

کامیابی کا راز ٹکراؤ میں نہیں بلکہ مفاہمت میں ہے / تاریخ کا سبق, زابر سعید بدر