یورپ میں اسلام: خوف، حقیقت اور اسلامو فوبیا| اکانمسٹ رپورٹ | صاحب زادہ زابر سعید بدر
اکانمسٹ لیڈ اسٹوری
_______
یورپ میں اسلام: خوف، حقیقت اور اسلامو فوبیا
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
اکانمسٹ کا 12 ستمبر 2026 کا تازہ شمارہ میرے سامنے ہے سب سے پہلے تو اس کے ٹائٹل نے مجھے چونکا دیا جس پر لکھا تھا
“The reality of Islam in
Europe”
یعنی ’’یورپ میں اسلام کی حقیقت‘‘۔
ذیلی سرخی اس سے بھی زیادہ توجہ طلب ہے
“Islam poses no serious
danger to Europeans. But Islamism and the fear of Islam do”
یعنی اسلام خود یورپیوں کے لیے کوئی سنجیدہ خطرہ نہیں، لیکن اسلام ازم اور اسلام کا خوف خطرہ بن سکتے ہیں۔
ایک لمحے سے بھی کم وقت میں اسکو پڑھنے کا فیصلہ کر چکا تھا کیونکہ ہم برسوں سے یہ سنتے آئے ہیں کہ اسلام امریکہ اور یورپ میں تیزی سے پھیل رہا ہے، مسلمان آبادی بڑھ رہی ہے، یورپ کی تہذیبی شناخت تبدیل ہو رہی ہے اور شاید آنے والے وقت میں یورپ ایک مختلف سماجی و سیاسی حقیقت بن جائے گا۔ مگر اکانمسٹ کی یہ تحریر اس پورے معاملے کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتی ہے، اور مجھے مناسب لگا کہ اسے میڈیا اسٹڈیز کے طلبہ، دوستوں اور ان تمام لوگوں کے ساتھ زیر بحث لایا جائے جو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مغرب ہمارے بارے میں، اسلام کے بارے میں اور یورپ میں مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں آخر سوچ کیا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یورپ کے کئی ملکوں میں اب آبادی کا ایک بڑا حصہ یہ سمجھنے لگا ہے کہ اسلام مغربی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جرمنی کے مشرقی صوبے سیکسنی انہالٹ میں پاپولسٹ رائٹ جماعت اے ایف ڈی کا 44 فیصد ووٹ حاصل کرنا اور ’’اسلامائزیشن‘‘ کے خلاف سخت بیانیہ اختیار کرنا اسی بڑھتے ہوئے خوف کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ برطانیہ میں تارکین وطن اور خصوصاً کشتیوں کے ذریعے آنے والوں کے خلاف احتجاج، فرانس میں اسلامی حجاب پر پابندی کی حمایت اور امریکہ میں بھی اسلام کے حوالے سے بڑھتا ہوا خدشہ اس بحث کو محض یورپی معاملہ نہیں رہنے دیتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یورپ اسلام کے قبضے کی طرف بڑھ رہا ہے یا یورپی معاشرہ اسلام کے بارے میں ایک ایسے خوف میں مبتلا ہو رہا ہے جس کے اعداد و شمار اس خوف کی مکمل تائید نہیں کرتے؟
اکانمسٹ نے دوسرا رخ پیش کیا ہے اس کے مطابق یورپ میں نہ کوئی اسلامی قبضہ ہو رہا ہے، نہ مسلمانوں کی کوئی وسیع پیمانے پر انتہاپسندی کی طرف منتقلی واقع ہو رہی ہے، نہ شریعت یورپی ریاستوں کے قوانین کی جگہ لے رہی ہے اور نہ ’’گریٹ ری پلیسمنٹ‘‘ جیسی کوئی آبادیاتی سازش موجود ہے۔ رپورٹ یاد دلاتی ہے کہ اکثریتی مسلم ممالک سے ریکارڈ ہجرت کے باوجود یورپ کی مجموعی آبادی میں مسلمان تقریباً چھ فیصد ہیں۔ مسلمان خاندانوں میں بعض اوقات شرحِ پیدائش زیادہ ضرور ہوتی ہے، لیکن عموماً نئی نسلوں میں یہ شرح مقامی آبادی کے قریب آتی جاتی ہے۔ یعنی جس ’’تہذیبی خاتمے‘‘ کا خوف بعض سیاسی حلقوں میں پیدا کیا جا رہا ہے، اس کے لیے موجودہ آبادیاتی اعداد و شمار کوئی سادہ یا فوری بنیاد فراہم نہیں کرتے۔
یہاں ایک اہم بات ہمارے لیے بھی ہے۔ پاکستان میں ہم اکثر یورپ کے مسلمانوں کے بارے میں دو انتہاؤں میں بات کرتے ہیں۔ ایک طرف یہ تصور ہے کہ مسلمان وہاں مسلسل دباؤ، نفرت اور تعصب کا شکار ہیں اور دوسری طرف یہ خیال پیش کیا جاتا ہے کہ مسلمان اتنی بڑی تعداد میں بڑھ رہے ہیں کہ جلد یورپ کی اکثریت بن جائیں گے۔ دونوں تصورات کے درمیان ایک پیچیدہ حقیقت موجود ہے۔ یورپ میں مسلمان مختلف ملکوں، نسلوں، زبانوں اور معاشرتی طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر بھی ہیں، انجینئر بھی، کاروباری بھی، سیاست دان بھی، مزدور بھی، طالب علم بھی اور عام شہری بھی۔ ان کی بڑی تعداد اپنی نئی سرزمین میں بہتر زندگی، تعلیم، روزگار اور شہری شناخت چاہتی ہے، نہ کہ اپنے اردگرد کی پوری ریاستی ساخت کو تبدیل کرنا۔
رپورٹ میں برطانیہ کی ایک مثال بھی دی گئی ہے جہاں بنگلہ دیشی نژاد نوجوانوں کی یونیورسٹی تک رسائی سفید فام برطانوی نوجوانوں کے مقابلے میں زیادہ بتائی گئی ہے۔ برطانیہ کی سیاست میں مسلمان پس منظر رکھنے والے اہم عہدوں پر بھی موجود ہیں۔ لندن کے میئر سے لے کر مرکزی حکومت کی سطح تک مسلمان سیاست دان مین اسٹریم سیاسی نظام کا حصہ ہیں۔ اس سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر ایک مسلمان یورپی ریاست کے سیاسی، تعلیمی اور معاشی نظام میں آگے بڑھ رہا ہے تو کیا اسے لازماً اس نظام کا دشمن سمجھا جائے گا یا اسے اسی معاشرے کا حصہ سمجھا جائے گا؟
لیکن یہاں اکانمسٹ خود مسلمانوں کے بارے میں ایک مشکل سوال بھی اٹھاتا ہے، اور میرے خیال میں یہی اس تجزیے کا سب سے اہم حصہ ہے۔ اسلام کو اسلام ازم کے ساتھ خلط ملط نہ کیا جائے۔ اسلام ایک مذہب ہے جبکہ اسلام ازم ایک سیاسی نظریہ ہے جو ریاست اور معاشرے پر مخصوص اسلامی اصول نافذ کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ہر مسلمان اسلامسٹ نہیں، بالکل اسی طرح جیسے ہر مذہبی شخص کسی سیاسی مذہبی تحریک کا کارکن نہیں ہوتا۔ لیکن اگر کوئی سیاسی گروہ جمہوری اداروں میں داخل ہو کر انہیں آزادیٔ اظہار، خواتین کے حقوق یا دوسرے شہریوں کی آزادی محدود کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہے تو اس پر تنقید کو صرف اسلام دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہاں مغرب کا اپنا ایک مسئلہ بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یورپ کے بعض حلقے اسلام ازم کے حقیقی لیکن نسبتاً محدود خطرات کو بیان کرنے سے اس خوف کے باعث گریز کرتے ہیں کہ کہیں ان پر نسل پرستی یا اسلاموفوبیا کا الزام نہ لگ جائے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک طرف انتہاپسندی کے خلاف ضروری گفتگو دب جاتی ہے اور دوسری طرف یہی خاموشی دائیں بازو کے انتہا پسندوں کو یہ کہنے کا موقع دیتی ہے کہ ’’دیکھا، حکومتیں حقیقت چھپا رہی ہیں۔‘‘ یوں ایک عجیب دائرہ بن جاتا ہے: اسلام ازم کا خوف بڑھتا ہے، خوف کے جواب میں ریاست خاموش ہوتی ہے، خاموشی سازشی نظریات کو طاقت دیتی ہے اور پھر دائیں بازو مزید سخت سیاست کے ساتھ میدان میں آ جاتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ بعض مسلمان سماجی اور اخلاقی معاملات پر قدامت پسند خیالات رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں مسلمانوں کے ایک حصے کے درمیان ہم جنس پرستی کے بارے میں منفی رائے پائی جاتی ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین کے معاملے میں تشدد کو جائز سمجھنے والے نوجوان مسلمانوں کا بھی ایک تناسب موجود ہے۔ ان اعداد و شمار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہاں بھی فرق سمجھنا ضروری ہے کہ کسی سماجی معاملے پر قدامت پسند رائے رکھنا اور تشدد یا دہشت گردی کی حمایت کرنا ایک ہی چیز نہیں۔ ایک آزاد معاشرے میں اختلافِ رائے اور انتہاپسندی کے درمیان یہ لکیر بہت اہم ہے۔
مجھے اس رپورٹ کا وہ حصہ بھی خاص طور پر قابلِ غور محسوس ہوا جہاں کہا گیا ہے کہ اسلام ازم کے بعض مقامی اثرات کا سب سے بڑا نقصان خود مسلمانوں کو پہنچ سکتا ہے۔ برطانیہ کے بعض علاقوں میں مسلم آبادی بہت زیادہ ہے اور وہاں بعض خواتین پر مذہبی کونسلوں کے ذریعے خاندانی معاملات طے کرنے کا سماجی دباؤ، ہم جنس پرست اور لبرل مسلمانوں کے خلاف دباؤ یا غیر روایتی مسلم آوازوں کے لیے مشکلات جیسے مسائل موجود ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ صرف ’’مسلمان بمقابلہ یورپ‘‘ کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ خود مسلمان معاشرے کے اندر آزادی، اختیار اور مذہبی تعبیر کے اختلاف کا مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جس پر پاکستان میں ہمیں زیادہ سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہم جب یورپ میں اسلام کی بات کرتے ہیں تو عموماً اپنی خواہشات، اپنے خدشات اور اپنی سیاسی ترجیحات کو خبر بنا دیتے ہیں۔ کبھی ہم کہتے ہیں کہ یورپ اسلام کی طرف دوڑ رہا ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ یورپ اسلام کو ختم کرنے پر تلا ہوا ہے۔ حقیقت شاید ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ یورپ میں اسلام موجود ہے، مسلمان معاشروں میں ضم بھی ہو رہے ہیں، نئی نسلیں تعلیم اور سیاست میں آگے بھی بڑھ رہی ہیں، لیکن ساتھ ہی اسلام ازم، انتہاپسندی، ثقافتی تصادم اور شناخت کی سیاست جیسے حقیقی سوالات بھی موجود ہیں۔
اور یورپی دائیں بازو کی سیاست بھی اس مسئلے کو اپنے انداز میں استعمال کر رہی ہے۔ جب تمام مسلمانوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے، جب اجتماعی ملک بدری، مذہبی لباس پر وسیع پابندی یا مسلمانوں کی علیحدگی جیسے مطالبات سامنے آتے ہیں تو اس کا نتیجہ لازماً وہ نہیں نکلتا جو اس سیاست کے علمبردار چاہتے ہیں۔ ایسی پالیسیاں معتدل مسلمانوں کو بھی دفاعی کیفیت میں دھکیل سکتی ہیں، ان کے اندر محرومی کا احساس پیدا کر سکتی ہیں اور بالآخر انہی انتہا پسند عناصر کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں جن کے خلاف یہ پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔
یہاں آزاد اظہارِ رائے کا سوال بھی اہم ہے۔ اکانمسٹ کا مؤقف ہے کہ کسی مذہب کے احترام اور آزاد معاشرے میں آزادانہ گفتگو کے درمیان توازن ضروری ہے۔ کسی بھی مذہب یا سیاسی نظریے پر تنقید کو محض نفرت قرار دینا بھی درست نہیں اور کسی مذہب کے پیروکاروں کو اجتماعی طور پر خطرہ قرار دینا بھی درست نہیں۔ جمہوری معاشرہ اسی وقت جمہوری رہتا ہے جب وہ اختلاف، تنقید اور سوال برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور ساتھ ہی تشدد، دھمکی اور امتیازی سلوک کو قانون کے ذریعے روکے۔
یہاں ہمارے میڈیا اسٹوڈنٹس کے لیے بھی ایک بہت بڑا سبق ہے۔ خبر یہ نہیں کہ ’’یورپ اسلام کے خلاف ہوگیا‘‘ یا ’’یورپ اسلام قبول کرنے جا رہا ہے‘‘۔ خبر یہ ہے کہ یورپ میں اسلام، امیگریشن، قومی شناخت، سیکولرازم، آزادیٔ اظہار اور دائیں بازو کی سیاست کے درمیان ایک نئی بحث پیدا ہو رہی ہے۔ صحافی کا کام کسی ایک فریق کا ترجمان بننا نہیں بلکہ اس پیچیدہ حقیقت کو سمجھنا اور اپنے قارئین تک اس کی تہہ تک پہنچانا ہے۔
اور آخر میں شاید اس پوری بحث کا سب سے اہم سوال یہی ہے کہ وہ ہمارے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں؟ جواب یہ نہیں کہ ’’یورپ اسلام سے ڈرتا ہے‘‘ اور نہ یہ کہ ’’یورپ مسلمانوں کو خوش آمدید کہہ رہا ہے‘‘۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ یورپ کا ایک بڑا حصہ اسلام کو اپنے معاشرے کا حصہ سمجھنے لگا ہے، مگر اسی معاشرے کے اندر ایک سیاسی خوف بھی پیدا ہو رہا ہے۔ کچھ لوگ اسلام اور اسلام ازم میں فرق کرتے ہیں، کچھ نہیں کرتے۔ کچھ مسلمان اپنی نئی قومی شناخت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، کچھ مذہبی اور ثقافتی بندشوں میں خود کو محدود محسوس کرتے ہیں۔ کچھ دائیں بازو کے سیاست دان اس خوف کو ووٹ میں تبدیل کر رہے ہیں اور کچھ مرکزی دھارے کے سیاست دان اس خوف کا جواب دینے میں محتاط ہیں۔
میرے نزدیک اکانمسٹ کی اس پوری بحث کا حاصل یہی ہے کہ اسلام کو اسلام ازم سمجھنا غلطی ہے اور اسلام کے بارے میں پیدا ہونے والے ہر خوف کو بھی محض تعصب کہہ کر مسترد کر دینا اتنی ہی بڑی غلطی ہے۔ خطرہ جہاں ہے، وہاں اس کی نشاندہی ہونی چاہیے؛ لیکن جہاں خطرہ نہیں، وہاں خوف پیدا کرنا بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ یورپ کے مسلمان بھی اسی انسانی معاشرے کا حصہ ہیں، ان کے مسائل بھی حقیقی ہیں، ان کے اندر موجود انتہاپسند رجحانات بھی بحث طلب ہیں اور ان کے خلاف پیدا ہونے والا اجتماعی تعصب بھی قابلِ تشویش ہے۔
شاید یورپ کے لیے اصل امتحان اسلام کا نہیں، اپنی جمہوری اقدار کا ہے۔ اگر وہ انتہاپسندی کا مقابلہ قانون سے، نفرت کا جواب انصاف سے اور اختلاف کا جواب آزادیٔ اظہار سے دے سکے تو مسلمان بھی یورپی معاشروں میں اپنا مقام بناتے جائیں گے، جیسے اس سے پہلے مختلف ادوار میں دوسرے مذہبی اور نسلی گروہ ان معاشروں کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ لیکن اگر خوف سیاست پر غالب آگیا تو نقصان صرف مسلمانوں کا نہیں ہوگا، یورپ کی اپنی لبرل جمہوریت بھی اس کی قیمت ادا کرے گی۔
اور شاید اسی لیے اس رپورٹ کو پڑھنا ہمارے لیے بھی ضروری ہے۔ کیونکہ کبھی کبھی دوسروں کے بارے میں ہماری بنائی ہوئی کہانی سے زیادہ اہم یہ جاننا ہوتا ہے کہ دوسرے واقعی ہمارے بارے میں کیا لکھ رہے ہیں۔
#ZabirSaeedBadar
#economist #Islam
#highlights

Comments