کتاب پڑھنے کے یا توجہ کے پیسے | صدائے دل | کالم | صاحب زادہ زابر سعید بدر
کتاب پڑھنے یا توجہ کے پیسے
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
دنیا بھر میں اس وقت یہ احساس تیزی سے تقویت پکڑ رہا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور خصوصاً اسمارٹ فون نے جہاں انسان کے لیے معلومات تک رسائی آسان بنائی ہے، وہیں مسلسل اسکرولنگ، مختصر ویڈیوز اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے انسانی توجہ، مطالعے اور گہری سوچ کے معمولات کو بھی متاثر کیا ہے۔ اسی پس منظر میں سنگاپور کی طرف سے شروع کیا جانے والا ایک پروگرام خاص توجہ کا مستحق ہے، جس کے تحت شہریوں کو روزانہ کم از کم پندرہ منٹ کتاب پڑھنے پر ورچوئل کوائنز دیے جا رہے ہیں، جنہیں ایک مخصوص حد تک پہنچنے کے بعد رقم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
سنگاپور کے نیشنل لائبریری بورڈ کے تحت شروع کیے گئے اس پروگرام کا بنیادی مقصد لوگوں میں مطالعے کی عادت کو فروغ دینا ہے۔ پندرہ منٹ یا اس سے زیادہ مطالعے کے ایک سیشن پر 20 ورچوئل کوائنز دیے جاتے ہیں جبکہ ایک ہزار کوائنز ایک سنگاپوری ڈالر کے برابر ہیں۔ بادی النظر میں یہ کتاب پڑھنے کے عوض رقم دینے کا منصوبہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی اصل اہمیت مالی معاوضے سے کہیں زیادہ اس رویے میں ہے جسے یہ پروگرام فروغ دینا چاہتا ہے۔ ریاست لوگوں کو اس بات کی طرف متوجہ کر رہی ہے کہ وہ روزمرہ کی مصروفیات اور موبائل اسکرین کے مسلسل استعمال سے کچھ وقت نکال کر کتاب کے ساتھ بیٹھیں اور اپنی توجہ کو ایک ہی موضوع پر مرکوز کریں۔
دنیا کے مختلف معاشروں میں اب یہ احساس صرف مطالعے تک محدود نہیں رہا بلکہ بچوں اور نوجوانوں کے اسکرین ٹائم اور سوشل میڈیا کے استعمال پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ بعض ممالک میں کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے کی قانون سازی اور پالیسی اقدامات سامنے آئے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی موبائل فون کے استعمال کے حوالے سے ضوابط سخت کیے جا رہے ہیں۔ دنیا کی بڑی جامعات میں کلاس روم اور تعلیمی ماحول میں موبائل فون کے استعمال کو محدود کرنے کے تجربات بھی اسی وسیع تر بحث کا حصہ ہیں کہ طالب علم کی توجہ کو مسلسل ڈیجیٹل مداخلت سے کس طرح محفوظ رکھا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ لائبریری اور کتاب کے ماحول کو دوبارہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ محض یہ نہیں کہ کتاب معلومات کا ذریعہ ہے بلکہ مطالعہ انسان کو ایک خاص ذہنی کیفیت بھی فراہم کرتا ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے انسان کو ایک متن کے ساتھ وقت گزارنا پڑتا ہے، اس کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنا پڑتا ہے، پہلے بیان کیے گئے خیال کو بعد کے خیال سے جوڑنا پڑتا ہے اور مصنف کے استدلال کو سمجھنے کے لیے اپنی ذہنی توجہ کو برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ یہی عمل تنقیدی سوچ، تخیل، زبان اور فہم کی صلاحیتوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے حوالے سے بھی دنیا میں اسی تشویش کا اظہار سامنے آیا ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بچوں اور نوجوانوں کے حوالے سے اپنے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن اور استعمال کے طریقوں پر مختلف ممالک میں قانونی اور انتظامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میٹا کو بھی بچوں کے تحفظ اور سوشل میڈیا کے اثرات سے متعلق قانونی کارروائیوں اور جرمانوں کا سامنا رہا ہے۔ ان اقدامات کے پیچھے بنیادی بحث یہی ہے کہ ایسے ڈیزائن اور طریقہ ہائے کار جو صارف کو زیادہ سے زیادہ دیر تک پلیٹ فارم پر رکھنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں، کم عمر صارفین کی عادات اور رویوں پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔
پاکستان میں بھی اس معاملے پر تشویش موجود ہے اور بچوں کے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل مواد کے استعمال سے متعلق عدالتی اور پالیسی سطح پر گفتگو سامنے آتی رہی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بچوں کے حوالے سے آنے والی ہدایات اور احکامات بھی اسی وسیع تر تشویش کا حصہ ہیں کہ نئی نسل کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات سے کس طرح محفوظ رکھا جائے۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ تقریباً پوری دنیا میں والدین، اساتذہ، ماہرین تعلیم اور پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم سوال بن چکا ہے۔
اس پوری بحث کا ایک پہلو ہمارے تعلیمی نظام سے بھی براہ راست جڑتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں رٹا سسٹم اب بھی بہت مضبوط ہے۔ استاد کی حیثیت سے مجھے خود کلاس رومز میں ایسے طلبہ سے واسطہ پڑتا ہے جن کی پہلی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ انہیں چند سلائیڈز دے دی جائیں، ایک مختصر نوٹس شیٹ فراہم کر دی جائے اور امتحان میں آنے والے ممکنہ سوالات بتا دیے جائیں۔ بعض اوقات طالب علم کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اگر امتحان میں دو سوال آنے ہیں تو صرف وہ دو سوال بتا دیے جائیں تاکہ انہیں تیار کرکے امتحان دیا جا سکے۔
یہ صورت حال صرف مطالعے سے دوری نہیں بلکہ سوچنے کے عمل سے دوری بھی ہے۔ جب طالب علم کا مقصد کسی موضوع کو سمجھنے کے بجائے صرف امتحان پاس کرنا رہ جائے تو کتاب، تحقیق، حوالہ، استدلال اور تحریر سب غیر ضروری محسوس ہونے لگتے ہیں۔ نتیجتاً ہم معلومات یاد کرنے والے طلبہ تو پیدا کر لیتے ہیں لیکن معلومات کو سمجھنے، پرکھنے اور اس سے نئی بات اخذ کرنے کی صلاحیت کمزور رہ جاتی ہے۔
مجھے اپنے تدریسی تجربے میں یہ بھی محسوس ہوا ہے کہ ہمارے بہت سے طلبہ پڑھنے سے تو دور جا ہی رہے ہیں، لکھنے سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض شعبوں میں یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ تحریری کام کے بجائے کوئی ڈاکومنٹری بنا دی جائے، چند بولنے والے نکات پیش کر دیے جائیں یا کسی تیار شدہ مواد کو استعمال کرکے کام مکمل کر لیا جائے۔ تخلیقی کام کی اپنی اہمیت ہے اور تعلیمی اداروں کو طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو ضرور فروغ دینا چاہیے، لیکن تخلیقیت کا مطلب یہ نہیں کہ مطالعہ اور تحریر کو تعلیمی عمل سے نکال دیا جائے۔
اسی لیے میں نے اپنی کلاسز میں کوشش کی کہ طلبہ کے فائنل پیپر ضرور لیے جائیں۔ انہیں لکھنا پڑے، کسی موضوع کو اپنے الفاظ میں بیان کرنا پڑے، دلیل قائم کرنا پڑے اور کچھ دیر کے لیے اپنے ذہن کو ایک مسئلے کے ساتھ مصروف رکھنا پڑے۔ مقصد صرف امتحان لینا نہیں بلکہ اس ذہنی مشق کو برقرار رکھنا ہے جس کے بغیر تعلیم محض معلومات جمع کرنے کا نام بن کر رہ جاتی ہے۔
صحافت کے طالب علم کے لیے تو مطالعہ اور تحریر کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایک صحافی صرف واقعات کا ریکارڈ مرتب نہیں کرتا بلکہ اسے واقعات کے پس منظر، تاریخ، سماجی اثرات اور مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے وسیع مطالعہ ضروری ہے۔ اسی طرح اچھی صحافتی تحریر کے لیے زبان پر گرفت، مشاہدہ، تحقیق اور اپنے خیال کو مربوط انداز میں بیان کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ یہ صلاحیتیں محض چند سلائیڈز یا مختصر نوٹس یاد کرنے سے پیدا نہیں ہوتیں۔
اسی تناظر میں سنگاپور کا پندرہ منٹ کا تجربہ قابلِ غور ہے۔ وہاں دی جانے والی رقم اتنی نہیں کہ اسے کتاب پڑھنے کا معاشی معاوضہ سمجھا جائے۔ ایک ہزار ورچوئل کوائنز کے بدلے ایک سنگاپوری ڈالر دراصل ایک معمولی مالی ترغیب ہے۔ اس اقدام کا اصل مقصد لوگوں کو مطالعے کی طرف واپس لانا اور ایک ایسی عادت پیدا کرنا ہے جس کے وسیع تر اثرات فرد اور معاشرے دونوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
بادی النظر میں اسے توجہ کی قیمت بھی کہا جا سکتا ہے، لیکن شاید زیادہ درست بات یہ ہے کہ یہ توجہ کو دوبارہ اہمیت دینے کی ایک کوشش ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ہماری توجہ حاصل کرنے کے لیے مسلسل مقابلے میں ہیں، کتاب کے لیے روزانہ پندرہ منٹ مختص کرنا بظاہر ایک چھوٹا سا قدم ہے، لیکن یہی چھوٹے قدم کسی بڑے معاشرتی رویے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
پاکستان میں بھی ہمیں اس مسئلے کو صرف موبائل فون کے استعمال یا سوشل میڈیا کی پابندی کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ نئی نسل کو دوبارہ پڑھنے، لکھنے، تحقیق کرنے، سوال کرنے اور کسی موضوع پر ٹھہر کر سوچنے کی عادت کیسے دی جائے۔ اس کے لیے گھر، اسکول، کالج اور یونیورسٹی سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ لائبریریوں کو فعال بنانا، مطالعے کے مواقع پیدا کرنا، طلبہ کو کتابوں سے جوڑنا اور امتحانی نظام میں رٹے کے بجائے فہم اور استدلال کو اہمیت دینا اسی سلسلے کی بنیادی کڑیاں ہیں۔
ہماری نئی نسل کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ معلومات کہاں سے حاصل کرنی ہیں۔ اسے یہ بھی سکھانا ہوگا کہ معلومات کو پڑھنا کیسے ہے، سمجھنا کیسے ہے، پرکھنا کیسے ہے اور پھر اپنی رائے اور دلیل کیسے قائم کرنی ہے۔ یہی وہ صلاحیتیں ہیں جو ایک طالب علم کو محض امتحان دینے والے فرد سے ایک باشعور شہری اور ایک ذمہ دار پیشہ ور میں تبدیل کرتی ہیں۔
سنگاپور کا اقدام اسی بڑے عالمی رجحان کی ایک مثال ہے جس میں دنیا نئی نسل کو ڈیجیٹل دنیا سے مکمل طور پر دور کرنے کے بجائے ٹیکنالوجی اور انسانی توجہ کے درمیان ایک صحت مند توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ موبائل فون اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا حصہ رہیں گے، لیکن کتاب، مطالعہ، تحریر، لائبریری اور گہری سوچ کو ان کے مقابلے میں غیر ضروری سمجھ لینا ایک ایسی قیمت ہے جو کوئی معاشرہ طویل عرصے تک ادا نہیں کر سکتا۔
ہمیں بھی اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہماری نسل صرف اسکرین دیکھنے والی نسل نہ بن جائے بلکہ کتاب پڑھنے، لکھنے، تحقیق کرنے اور سوچنے والی نسل بھی رہے۔ صحت مند معاشرہ صرف تیز رفتار معلومات سے تشکیل نہیں پاتا؛ اس کے لیے ایسے افراد بھی درکار ہوتے ہیں جو معلومات کے شور میں ٹھہر کر سوچ سکیں، کسی بات کو سمجھنے کے لیے وقت دے سکیں اور اپنے خیالات کو دلیل کے ساتھ بیان کر سکیں۔
شاید اسی لیے سنگاپور کا پندرہ منٹ کا یہ منصوبہ محض کتاب پڑھنے کی ترغیب نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کی طرف ایک چھوٹا سا قدم ہے جس میں انسان اپنی توجہ، مطالعے اور سوچنے کی صلاحیت کو دوبارہ اہمیت دے۔ پاکستان میں ہمیں بھی اسی سوال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ہم اپنی نئی نسل کو صرف معلومات فراہم کر رہے ہیں یا اسے علم حاصل کرنے کی عادت بھی دے رہے ہیں۔

Comments