شاہ دین بلڈنگ لاہور اور میرا بچپن | زابر سعید بدر
شاہ دین بلڈنگ اور میرے والد سعید بدر
صاحبزادہ زابر سعید بدر کی لاہور سے جڑی بچپن کی یادیں
شاہ دین بلڈنگ.... میاں فیملی آف باغبان پورہ کے جسٹس میاں محمد شاہ دین ہمایوں کی 1914 میں تعمیر کردہ..... بعد ازاں ان کے پوتے میاں منظر بشیر نے بی سی سی آئی کو پیچ دی.... اور آغا حسن عابدی کے زوال کے بعد الفلاح بنک کے پاس آئی..... ابا جی سعید بدر صاحب کا دفتر بھی یہیں تھا پہلا کمرہ انہی کا تھا.... یہ دفتر کسی زمانے میں میاں بشیر احمد صاحب مدیر یمایوں کا تھا جو بعد ازیں ابا جی کے پاس آ گیا.... ذوقی انکل کی شاپ نظر آ رہی ہے ابو کے پاس اکثر آتے تھے.....
ابھی ہمارے ایک دوست نے یہ تصویر لگا کر پوچھا کہ لاہوریو یہ کون سی جگہ ہے ما سوائے ایک دوست کے سب نے غلط جواب دیا تو میرا جی چاہا کہ میں تصحیح کر دوں کیونکہ میری اس جگہ سے بچپن کی بہت یادیں ہیں بہت وقت شاہ دین بلڈنگ میں گزرا ہے سامنے ومٹو والے کی سبز رنگ کی گاڑی کھڑی ہوتی تھی جس میں وہ ومٹو اور اورنج جوس دیا کرتا جو میں اکثر ملا کر پیتا ذرا آگے فیروز سنز ہوا کرتا جس میں اکثر جا کر میں کتابیں لیتا وہاں انکل سعید لخت ہوا کرتے کبھی ڈاکٹر عبدالرؤف مل جاتے جن سے ملاقات ہوتی بچوں کے معروف رسالے تعلیم و تربیت کا دفتر بھی فیروز سنز کی بالائی منزل پر ہوا کرتا بہت پیارا اور خوبصورت وقت تھا الفلاح بلڈنگ اس کے سامنے تھی جہاں ابو جان کے بہت قریبی دوست انکل نزاکت علی بھٹی صاحب ہوا کرتے ہیں پنجاب سیڈ کوآپریشن کا دفتر ہوا کرتا تھا شاہ دین منزل کے ایک طرف واپڈا ہاؤس ہے جہاں ابو جی-32 میں جایا کرتے جو واپڈا پبلک ریلیشنز کا آفس ہے وہاں ابو نے بحیثیت ایڈیٹر خبرنامہ و برقاب بہت عرصہ کام کیا وہاں رضی الدین شیخ ہوا کرتے جو بعد میں برطانیہ میں پاکستان کے سفیر بنے واپڈا ہاؤس کے ہال میں اکثر انگریزی فلمیں لگا کرتیں مجھے یاد ہے کہ ہم سب فیملی اکثر وہ فلمیں دیکھنے جایا کرتے واپڈا ہاؤس میں بہت فنکشن ہوا کرتے میری بہت سی تصویریں اس وقت کے چیئرمین واپڈا جنرل فضل رازق کے ساتھ موجود ہیں انہی دنوں 14 اگست کے موقع پر حفیظ جالندھری صاحب سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے مجھے اور میری بہن شمائلہ کو قومی ترانہ لکھ کر دیا اور بہت شفقت فرمائی کسی زمانے میں نوائے وقت کا دفتر بھی شاہ دین بلڈنگ میں ہوا کرتا اس حوالے سے بھی والد گرامی نے بہت سے واقعات سنائے جو پھر کبھی سہی انشاءاللہ
صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر

Comments