جب مسخرے آئیڈیل بن جائیں | صدائے دل | کالم | صاحب زادہ زابر سعید بدر



 جب مسخرے آئیڈیل بن جائیں   


صدائے دل 


صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر 


کسی قوم کی بدقسمتی اس سے زیادہ کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے آئیڈیلز کے انتخاب میں اپنی ترجیحات ہی کھو بیٹھے۔


ہم لوگ آئیڈیلائز کس کو کرتے ہیں؟ کیا ہم نوبیل انعام یافتگان کو اپنا آئیڈیل بناتے ہیں؟ ڈاکٹر آئن اسٹائن، سگمنڈ فرائڈ، تھامس ایڈیسن، نیوٹن یا آج کے دور میں ایلون مسک جیسے لوگوں کو؟ یا پھر امیتابھ بچن، شاہ رخ خان، اداکاروں، گلوکاروں اور کھلاڑیوں کو؟


ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔ وہ اداکار یا کھلاڑی جنہیں اکثر بولنے کی بھی تمیز نہیں ہوتی، جن کی تعلیم واجبی سی ہے، اور جو کبھی کبھی بیرونِ ملک جا کر اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی بات تک درست طور پر نہیں کہہ پاتے، ان سے ملنے، ان کے آٹوگراف لینے اور ان کے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے لوگ پروانوں کی طرح ان پر گرتے نظر آتے ہیں۔ ان جیسا لباس پہنتے ہیں، ان جیسی وضع قطع اختیار کرتے ہیں، ان جیسی ادائیں اپنانے کی کوشش کرتے ہیں اور حتیٰ کہ ان کی نقل تک کرتے ہیں۔


یہ کسی قوم کی گراوٹ، تنزلی، پستی اور علم و کتاب سے دوری کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے مستقبل کا اظہار بھی ہے کہ وہ مستقبل میں کہاں کھڑی ہوگی۔


اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ اداکار، گلوکار یا کھلاڑی نہ بنیں۔ ضرور بنیں۔ فنونِ لطیفہ، کھیل اور تفریح بھی انسانی معاشرے کی ضرورت ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی اداکار یا کھلاڑی کیوں مشہور ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس حیثیت سے دیکھتے ہیں اور اپنی زندگی کے لیے کس حد تک اسے نمونہ بناتے ہیں۔


کسی قوم اور نسل میں آئیڈیلز کے لحاظ سے ترجیحات کی ترتیب کیا ہے؟ کیا معلم، کتاب، صاحبِ اخلاق، باکردار اور صاحبِ علم افراد ہمارے آئیڈیل ہیں؟ یا ہم اداکاروں کے عاشق اور کھلاڑیوں کے شیدا ہیں؟


ہم نے حکیم محمد سعید کو اپنا آئیڈیل کیوں نہیں بنایا؟ عبدالستار ایدھی ہمارے آئیڈیل کیوں نہیں بنے؟ وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگیاں دوسروں کے لیے وقف کر دیں، علم پیدا کیا، انسانوں کی خدمت کی، معاشرے کو کچھ دیا، ان کی زندگی ہمارے لیے اتنی پرکشش کیوں نہیں جتنی ایک مشہور چہرے کی زندگی ہے؟


اگر ذرا سا غور کریں تو یہ اندازا لگا سکتے ہیں جو آپ کا آئیڈیل ہے، بڑی حد تک وہی آپ ہیں۔ جو آپ ہیں، وہی آپ کا خاندان بننے والا ہے۔ جو آپ کا خاندان بنے گا، وہی معاشرہ بنے گا۔ اور جو معاشرہ بنے گا، وہی آپ کی کائنات ہوگی۔


میں خطابات اور اعزازات دینے کے خلاف نہیں ہوں۔ لیکن آپ خود دیکھ لیجیے کہ گزشتہ کئی برسوں سے کیسے کیسے لوگوں کو، کن کن بنیادوں پر، خطابات اور ایوارڈز مل رہے ہیں۔ معاشرہ جن لوگوں کو عزت دیتا ہے، نئی نسل بالآخر انہی سے اپنے کامیابی کے پیمانے اخذ کرتی ہے۔


آئیڈیل عکس کے بغیر ایک خالی آئینہ ہے۔ آپ اس میں اپنا عکس ڈالتے ہیں تو وہ زندہ ہو جاتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اکثر ہم خود بھی اس حقیقت سے بے خبر ہوتے ہیں، لیکن ہمارا پورا ماحول اسے جانتا ہے۔


ہم صرف آئیڈیل منتخب نہیں کرتے، آئیڈیل کو مقصدِ حیات بھی بنا لیتے ہیں۔


جیسے ابھی گزشتہ سطروں میں ذکر کیا ہے کہ ہمارا مقصدِ حیات ایڈیسن بننا ہے، آئن اسٹائن بننا ہے، نیوٹن بننا ہے یا کوئی بڑا کھلاڑی بننا ہے۔ ہم نے عالم بننا ہے یا کرتب دکھانے والا بننا ہے؟ ہم نے صاحبِ علم بننا ہے یا مسخرہ بننا ہے؟ ہم نے جناح جیسی ہمت دکھانی ہے کہ بیماری کے باوجود اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کیا اور ایک ملک بنا دیا، یا ہٹلر کی طرح ناکامی پر خودکشی کرنی ہے؟ آئیڈیلز آپ کی ذہنی راہ کا تعین بھی کرتے ہیں۔ اگر ہمارا آئیڈیل جھوٹ بولنے کو برا نہیں سمجھتا تو ہم بھی اپنے آپ کو جسٹیفائی کریں گے کہ جھوٹ بولنا کوئی بری بات نہیں۔ اگر ہمارے آئیڈیل کی ذاتی زندگی خوش گوار نہیں یا اس کا ماضی زیادہ پاکیزہ نہیں تو ہم خود کو یہ کہہ کر تسلی دیں گے کہ یہ تو ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہیں نہ کہیں ہم بھی وہی کام کر چکے ہوں۔ انسانی دماغ بہت پیچیدہ ہے، لیکن نفسیاتی تجزیے اور تحلیلِ نفسی کے ذریعے ہم اس کے بہت سے رویوں کو سمجھ سکتے ہیں۔


ڈاکٹر سلیم اختر، ہمارے محترم بزرگ، جن سے میری کئی ملاقاتیں رہیں، اکثر کہا کرتے تھے کہ آئیڈیل کی تشکیل اور اس سے وابستہ تصورات کی نشوونما میں کسی فرد کی نرگسیت اور خود پسندی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ خود کو بڑا، اہم اور برتر تصور کرنا ایک نفسیاتی رویہ ہے۔ کسی بڑے، اہم اور برتر وجود سے خود کو منسوب کرنا یا اس کے ساتھ اپنی شناخت قائم کرنا بھی ایک طرح کا نفسیاتی رویہ ہے۔’’میں صرف وہی بنوں گا۔’’میں صرف اسی کو حاصل کروں گا۔’’میں صرف یہی کروں گا۔’’میں تو صرف اسی کے ساتھ خوش رہ سکتا ہوں۔‘‘ وغیرہ 


یعنی انسان بعض اوقات آئیڈیلز کی صورت میں اپنے لیے رکاوٹوں کی ایک دوڑ تیار کر لیتا ہے، جس کا آغاز ہی مشکل ہوتا ہے اور پھر وہ مزید مشکل ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہی معاملہ ہم اپنی اولاد کے ساتھ بھی کرتے ہیں۔ ہم ان کے لیے وہی پروفیشن منتخب کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کبھی اپنے بارے خواب دیکھتے تھے کہ ہم  ڈاکٹر بن جائیں یا ہمیں استاد بننا چاہیے، بیوروکریٹ بننا چاہیے یا فوجی افسر بننا چاہیے۔ لاشعور کی آواز کی پکار ہمیں اپنے بچوں کو وہی بنانے پر اکساتی ہے جس کا خواب ہم نے دیکھ رکھا تھا اسی لیے خلیل جبران دی پرافٹ میں بچوں بارے کہتا ہے کہ یہ تم سے مختلف ہیں ان کو اپنے راستے کا انتخاب خود کرنے دو.  اگر ہمارے بچے ہمارے خوابوں کو پورا نہ کر سکیں تو پھر ہم داماد یا بہو کی صورت اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اگر ہم اپنا نفسیاتی جائزہ لیں تو ہم ساری زندگی اپنے اپ کو کسی طور دھوکہ دیتے ہیں ہم اپنے بچوں کو وہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو وہ نہیں بننا چاہتے ہم انہیں اج سے 20 سال پہلے کے تصورات کے مطابق ان خوابوں میں ڈھونڈتے ہیں جو ہمارے بچوں نے نہیں دیکھے ہوتے یہاں ہم خود غرضی کر جاتے ہیں

یہ سب کیا ہے؟ بڑی حد تک دیکھا جائے تو آئیڈیل ازم کبھی کبھی اپنے آپ کو دھوکا دینے کی ایک کوشش بھی بن جاتا ہے۔ ہم اپنے ادھورے خواب کسی دوسرے شخص میں دیکھتے ہیں، پھر اس کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھ کر خود کو مطمئن کرتے رہتے ہیں۔


لیکن اگر ہم اپنے آئیڈیلز بڑی شخصیات کو بنائیں، تو معاملہ بالکل مختلف ہو سکتا ہے۔


ہم کہیں کہ ہمیں ایڈیسن جیسا بننا ہے۔ ہمیں ایلون مسک جیسا کچھ نیا کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہے۔ ہمیں نوبیل انعام جیتنا ہے۔ کس شعبے میں؟ فزکس میں، کیمسٹری میں، ادب میں یا کسی اور علمی میدان میں۔ ہمیں ایسا کام کرنا ہے جو دنیا کے علم میں اضافہ کرے، انسانیت کی بہتری کا باعث بنے۔ ہم کوئی ایسی دوا ایجاد یا دریافت کرنا چاہتے ہیں جو انسانیت کے لیے ہمیشہ کے لیے رحمت بن جائے۔یہ ایک مثبت آئیڈیلزم ہو سکتا ہےلیکن اگر ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمیں اداکار بننا ہے، مسخرہ بننا ہے، مشہور ہونا ہے، ہر وقت دوسروں کی توجہ حاصل کرنی ہے، تو پھر ہمیں اپنے انتخاب پر ضرور غور کرنا چاہیے۔


آپ اپنے اردگرد کی صورتحال کا بغور مشاہدہ کریں تو ہمیں نظر ائے گا کہ ہمارے گلی محلوں میں ہر شخص، ہر بچہ، کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنے کے بجائے یا تو اسکرولنگ کر رہا ہے، ٹک ٹاک پر ٹک ٹاکر بننے کی کوشش کر رہا ہے، یا اپنے آپ کو شاہ رخ خان سمجھ رہا ہے۔


کوئی اپنے آپ کو کھلاڑی سمجھتے ہوئے گلی میں لوگوں کی بددعائیں لیتا ہے، کھڑکیوں کے شیشے توڑتا ہے، گاڑیوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور شور مچا کر اپنے تئیں عمران خان یا جاوید میاں داد بننے کی کوشش کرتا ہے۔


یہ صرف کھیل نہیں یا تفریح نہیں۔ یہ ایک ثقافتی اور نفسیاتی رجحان ہے۔ ہمیں اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو کامیابی کا کیا تصور دے رہے ہیں؟ کیا کامیابی کا مطلب صرف شہرت ہے؟ کیا مقبول ہونا ہی  عظمت ہے؟ کیا سوشل میڈیا پر فالوورز کی تعداد انسان کی علمی یا اخلاقی قدر کا پیمانہ بن سکتی ہے؟


یونیورسٹی میں میڈیا سٹڈیز کے ایک سٹوڈنٹ نے مجھ سے کہا کہ میرے 10 لاکھ فالوورز ہیں اور میں اپ کا ایک مختصر انٹرویو لینا چاہتا ہوں میں نے مسکراتے ہوئے سوال کیا کہ اپ کے فالورز میں جو ماشاءاللہ 10 لاکھ ہیں کوئی ایک بھی ایسا شخص ہے جو ہاورڈ یونیورسٹی کا پروفیسر ہو یا پاکستان کی معروف علمی ادبی شخصیت ہو یا اپنے فیلڈ کا کوئی بہت دانش ور ہو تو اس نے نفی میں سر ہلایا میں نے اسے کہا بیٹا اگر اپ کے ان 10 لاکھ فالوورز میں پانچ بھی ایسے فالور ہوتے جو فارورڈ کیمبرج اکسفورڈ لمز یا اور بڑے تعلیمی اداروں سے ایسوسییٹ ہوتے کوئی محقق ہوتے تو میں خوشی سے اپ کو انٹرویو دیتا اصل دقت یہ ہے یہ 10 لاکھ فالوورز میری بات نہیں سمجھ پائیں گے کیونکہ مجھے اب یہ سمجھ ارہی ہے کہ ہم ایک خاص مائنڈ سیٹ کو اپنا نقطہ نظر نہیں سمجھا سکتے یہی بات گزشتہ دنوں ہمارے صحافی دوست طلعت حسین نے بڑے دکھ سے کی کہ اب یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کو سمجھانے کی بجائے اگر ہم سکول میں بچوں پر فوکس کریں تو شاید انہیں ایک اچھا انسان بنا سکیں.


اگر ہم موجودہ زمانے کی صورتحال کا ادراک نہ کر سکے تو پھر ہمیں شکایت نہیں کرنی چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں کتاب کیوں کم پڑھی جا رہی ہے، تحقیق کیوں نہیں ہو رہی، علمی گفتگو کیوں ناپید ہوتی جا رہی ہے اور نوجوان فوری شہرت کے پیچھے کیوں بھاگ رہے ہیں کیونکہ معاشرہ وہی پیدا کرتا ہے جسے وہ عزت دیتا ہے۔ اگر ہم کتاب لکھنے والے سے زیادہ کتاب کا کردار ادا کرنے والے کو اہم سمجھیں گے تو کتاب کی وقعت کم ہوگی۔ اگر استاد سے زیادہ مشہور اداکار ہمارے بچوں کے لیے رول ماڈل ہوگا تو علم کی قدر کم ہوگی۔ اگر کردار سے زیادہ شہرت کامیابی کا معیار ہوگی تو پھر کردار پس منظر میں چلا جائے گا۔


آئیڈیل صرف ایک شخص نہیں ہوتا؛ آئیڈیل ایک قدر ہوتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی میں کس چیز کو اہم سمجھنا ہے، کس چیز کے حصول کے لیے محنت کرنی ہے اور کس مقام کو کامیابی سمجھنا ہے۔


اسی لیے آج، اسی لمحے، جب یہ تحریر آپ کے سامنے ہے، ذرا ٹھہر کر رک کر اپنے آپ سے ایک سوال کیجیے میرا آئیڈیل کون ہے؟ اور پھر دوسرا سوال ,اگر میں واقعی اپنے آئیڈیل جیسا بن گیا تو کیا وہ خوشی ہمیشہ باقی رہے گی؟کہیں میں اپنے آپ کو دھوکہ تو نہیں دے رہا۔کیونکہ اکثر ہم مقصد کے حصول کے نام پر اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں، اور دھوکے میں ہوتے ہوئے بھی اپنے اوپر ایک ملمع چڑھائے رکھتے ہیں۔ بس اس ملمع کو ذرا ہٹا کر دیکھیے کہ اس آئیڈیلزم کے چکر میں آپ اپنا کتنا نقصان کر چکے ہیں، اپنی اولاد کا کتنا نقصان کر چکے ہیں، اپنے اردگرد کے رشتوں کو کتنا نقصان پہنچا چکے ہیں، اور ابھی مزید کتنا نقصان کرنا ہے۔یہ فیصلہ بھی ہمیں ہی کو کرنا ہو گا. یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے آئیڈیل اس کے مستقبل کا خاموش خاکہ ہوتے ہیں۔جس شخص کو ہم اپنی نظر میں بڑا بناتے ہیں، دراصل ہم اسی کے ذریعے اپنے لیے بڑا ہونے کا مفہوم متعین کرتے ہیں۔


اس لیے کبھی کبھی اپنے آئیڈیل کو بدلنا، دراصل اپنی زندگی کی سمت بدلنا ہوتا ہے۔


9 ستمبر 2026

Comments

Popular posts from this blog

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

کامیابی کا راز ٹکراؤ میں نہیں بلکہ مفاہمت میں ہے / تاریخ کا سبق, زابر سعید بدر