دنیا کا معاشی منظر نامہ اور پاکستان | ستمبر 2026 | صاحب زادہ زابر سعید بدر

 عالمی معشیت

______

دنیا کا معاشی منظرنامہ اور پاکستان


صاحب زادہ   محمد زابر سعید بدر 


سب معاش ہے، باقی سب مایہ ہے۔ یہ فقر کیا ہے، اس کے پیچھے بھی سرمایہ ہے۔ بس یہی ازل تا ابد کہانی ہے۔ دنیا میں سیاست ہو، جنگ ہو، امن ہو، سفارت کاری ہو، انتخابات ہوں یا نئی ٹیکنالوجی کی آمد، اگر ان واقعات کے پیچھے موجود معاشی مفادات کو سمجھ لیا جائے تو عالمی منظرنامے کی بہت سی گرہیں خود بخود کھلنے لگتی ہیں۔ گلوبل ولیج کا تصور اب اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں مشرق وسطیٰ میں جنگ ہوتی ہے تو لاہور میں پٹرول کی قیمت کا سوال پیدا ہوتا ہے، امریکہ میں شرح سود تبدیل ہوتی ہے تو اسلام آباد کے لیے قرض مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، چین کی معیشت سست ہوتی ہے تو پاکستان کی برآمدات اور سی پیک سے وابستہ امکانات متاثر ہوتے ہیں اور امریکہ یا یورپ میں ٹیکنالوجی کی نئی دوڑ شروع ہوتی ہے تو ہمارے نوجوانوں کے لیے روزگار کی نوعیت بدلنے لگتی ہے۔


یہی وجہ ہے کہ میں اپنے طلبہ، خصوصاً میڈیا اسٹڈیز کے طلبہ سے ہمیشہ کہتا ہوں کہ کرنٹ افیئرز اخبار کے صفحے پر پڑی ہوئی الگ الگ خبریں نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی کہانی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو عالمی معاملات میں زیادہ دلچسپی نہیں۔ انہیں یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر آج کیا ٹرینڈ کر رہا ہے، لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا کہ دنیا میں تیل کی قیمت کیوں بڑھ رہی ہے، ڈالر کے مقابلے میں کسی کرنسی کی قدر کیوں بدل رہی ہے، امریکہ کے مرکزی بینک کا ایک فیصلہ پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے یا کسی عالمی جنگ کا اثر بالآخر ہمارے کچن کے بجٹ تک کیسے پہنچتا ہے۔ حالانکہ میڈیا کے طالب علم کے لیے دنیا کو سمجھنا محض علمی مشق نہیں، پیشہ ورانہ ضرورت ہے۔


گزشتہ ہفتے کا عالمی معاشی منظرنامہ اسی حقیقت کا ایک خوب صورت مگر قدرے تشویش ناک نقشہ پیش کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ لڑائی شروع ہوئی تو عالمی منڈی نے سب سے پہلے تیل کی قیمت کے ذریعے ردعمل دیا۔ برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا۔ ایک پاکستانی قاری کے لیے اس خبر کا مطلب سمجھنا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ ہم ان ملکوں میں شامل ہیں جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو ہمارے لیے صرف پٹرول مہنگا ہونے کا مسئلہ نہیں ہوتا، ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، بجلی کی پیداواری لاگت پر دباؤ آتا ہے، صنعت کی لاگت بڑھتی ہے، اشیائے خورونوش کی ترسیل مہنگی ہوتی ہے اور بالآخر مہنگائی ایک بار پھر گھر کے بجٹ میں داخل ہو جاتی ہے۔ یعنی مشرق وسطیٰ کا میزائل بہت دور چل کر بھی پاکستان کے پٹرول پمپ پر آ کر اثر دکھا سکتا ہے۔


امریکہ میں لیبر ڈے کے موقع پر پٹرول کی قیمت 4.14 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی جو اس تعطیل کے لیے بلند ترین سطح ہے۔ وہاں اس کا سیاسی نقصان ری پبلکن پارٹی کو اٹھانا پڑ سکتا ہے کیونکہ امریکی ووٹر بھی آخرکار اپنی گاڑی کی ٹینکی اور گھر کے بجٹ سے سیاست کو پرکھتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی سیاست کے بڑے بڑے نعرے اس وقت کمزور پڑ جاتے ہیں جب موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوانے والا شہری قیمت سن کر چند لمحے خاموش ہو جاتا ہے۔ مہنگائی کا سیاسی شعور کسی سیاسی فلسفے سے نہیں، اکثر رسید دیکھ کر پیدا ہوتا ہے۔


دنیا کی کرنسی مارکیٹ بھی اسی معاشی کہانی کا حصہ ہے۔ جاپانی ین 153 فی ڈالر کے قریب رہا اور امریکی وزیر خزانہ نے کرنسی مارکیٹ میں قیاس آرائی کرنے والوں کو واضح پیغام دیا۔ یہ خبر پاکستانی قاری کے لیے اس لیے اہم ہے کہ ہماری اپنی معیشت میں ڈالر محض ایک غیر ملکی کرنسی نہیں بلکہ تقریباً ہر معاشی گفتگو کا مرکزی کردار ہے۔ پٹرول کی قیمت ہو، بیرونی قرضہ ہو، درآمدات ہوں، مشینری خریدنی ہو یا بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر، ڈالر کی قدر براہ راست یا بالواسطہ ہماری معیشت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اسی لیے عالمی کرنسی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنا دراصل اپنی معیشت کو سمجھنا ہے۔


امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی جنگ کی نئی قسط بھی بہت کچھ سمجھاتی ہے۔ کینیڈا نے 27 ارب کینیڈین ڈالر کے امریکی سامان پر جوابی محصولات عائد کیے اور امریکہ نے بھی کینیڈین مصنوعات پر پابندیاں لگائیں۔ امریکی صدر نے بمبارڈیئر کے بائیکاٹ کی اپیل کی تو کمپنی نے جواب دیا کہ اس نے امریکہ میں دسیوں ہزار ملازمتیں پیدا کی ہیں اور اس کی سپلائی چین میں تقریباً 2800 امریکی کمپنیاں شامل ہیں۔ یہاں پاکستانی قاری کے لیے سبق بہت واضح ہے: آج کی عالمی تجارت میں مصنوعات ایک ملک کی اور سرمایہ دوسرے ملک کا نہیں رہا۔ سپلائی چین پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہی وہ تصور ہے جسے پاکستان کو بھی اپنی برآمدی پالیسی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ صرف یہ سوچنا کافی نہیں کہ ہم اپنی چیز کس ملک کو فروخت کریں گے، اصل سوال یہ ہے کہ ہم عالمی سپلائی چین کا حصہ کیسے بنیں گے۔


امریکی معیشت نے اگست میں 162 ہزار ملازمتیں پیدا کیں اور اس کے بعد فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود کے فیصلے پر نظریں جم گئیں۔ پاکستان میں عام آدمی شاید یہ سوچے کہ امریکہ میں کتنی ملازمتیں پیدا ہوئیں، اس سے اسے کیا؟ لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں عالمی معیشت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کی شرح سود میں تبدیلی عالمی سرمایہ کے بہاؤ کو متاثر کرتی ہے۔ سرمایہ بہتر منافع کی تلاش میں ایک مارکیٹ سے دوسری مارکیٹ منتقل ہوتا ہے۔ ترقی پذیر معیشتیں اس حرکت سے متاثر ہوتی ہیں۔ ہماری کرنسی، بیرونی قرضوں، سرمایہ کاری اور مالیاتی دباؤ پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی معیشت میں کوئی فیصلہ واقعی صرف مقامی نہیں رہ گیا۔


مصنوعی ذہانت کی دنیا میں بھی سرمایہ مستقبل کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اوپن اے آئی نے اپنا نیا ماڈل GPT-6 Astra پیش کیا اور اسے صلاحیت میں ایک نئی نسل کی چھلانگ قرار دیا، جبکہ اینتھروپک سے وابستہ ایک محقق نے مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں حفاظتی خدشات کو نظرانداز کرنے پر سخت انتباہ دیا۔ یہاں ہمارے نوجوانوں کے لیے ایک بہت بڑا سوال موجود ہے۔ ہم پاکستان میں اکثر نوجوانوں کو نوکری نہ ملنے، سرکاری ملازمتوں کی کمی اور بیرون ملک جانے کی خواہش پر بات کرتے ہیں، مگر آنے والی دنیا میں روزگار کی نوعیت کس قدر تیزی سے تبدیل ہونے والی ہے، اس پر ہماری گفتگو نسبتاً کم ہے۔ اگر دنیا مصنوعی ذہانت کے ذریعے لاکھوں کاموں کا طریقہ بدل رہی ہے تو ہمارے تعلیمی اداروں کو بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ نوجوانوں کو صرف ڈگری دے رہے ہیں یا مستقبل کی معیشت کے لیے تیار بھی کر رہے ہیں۔


ایپل نے تقریباً دو ہزار ڈالر سے شروع ہونے والا فولڈ ایبل آئی فون متعارف کرایا۔ ایک پاکستانی طالب علم کے لیے دو ہزار ڈالر محض فون کی قیمت نہیں، ایک معاشی سوال ہے۔ کتنے پاکستانی گھرانوں کی ماہانہ آمدنی اس رقم کے قریب ہے؟ کتنے نوجوان ایسے ہیں جو ایک فون خریدنے کے لیے کئی ماہ کی بچت کریں گے؟ اور پھر بھی دنیا میں ایسے صارفین موجود ہیں جو نئی ٹیکنالوجی کے لیے اتنی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔ یہی سرمایہ داری کی طاقت ہے کہ وہ ایک طرف ضرورت پیدا کرتی ہے، دوسری طرف خواہش، اور پھر اسی خواہش کو مارکیٹ میں تبدیل کر دیتی ہے۔


جرمنی کی ووکس ویگن نے مزید 50 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کیا، جبکہ برطانیہ کی جیگوار لینڈ روور نے چار ہزار ملازمتیں کم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس خبر کو پاکستان میں بیٹھ کر پڑھیں تو ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے: جب دنیا کی بڑی صنعتی معیشتیں بھی اپنی صنعت میں روزگار برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں تو پاکستان اپنی صنعتی بنیاد کو کس طرح مضبوط کرے گا؟ ہمارے ہاں روزگار کا بحران اکثر صرف نوجوانوں کے مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، حالانکہ اصل مسئلہ صنعتی پیداوار، برآمدات، توانائی کی قیمت، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور پالیسی کے پورے نظام سے جڑا ہوا ہے۔


ووکس ویگن کی ایک فیکٹری میں کاروں کے بجائے اسرائیل کے آئرن ڈوم دفاعی نظام کے پرزے بنانے کا فیصلہ ایک اور بڑی حقیقت سامنے لاتا ہے۔ جرمنی میں روایتی کار سازی دباؤ میں ہے لیکن دفاعی اخراجات بڑھ رہے ہیں، اس لیے سرمایہ ایک صنعت سے دوسری صنعت کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ جنگیں صرف انسانی جانیں نہیں لیتیں، وہ عالمی سرمایہ کاری کی سمت بھی بدل دیتی ہیں۔ جہاں جنگ کا خطرہ بڑھتا ہے وہاں دفاعی بجٹ بڑھتے ہیں، دفاعی کمپنیاں پھیلتی ہیں، نئی فیکٹریاں بنتی ہیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سرمایہ داری کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ امن اور جنگ دونوں معیشت کو حرکت دیتے ہیں، مگر مختلف سمتوں میں۔


چین نے اپنے سرکاری بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کو مضبوط کرنے کے لیے 54 ارب ڈالر فراہم کیے۔ چین کی معیشت کو پراپرٹی بحران، مقامی حکومتوں کے قرضوں اور کمزور قرض طلب جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستان کے لیے چین کی معیشت کی صحت کا سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ہمارا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور اہم معاشی پارٹنر چین ہے۔ چین کی معیشت کی رفتار، اس کی صنعتی پالیسی اور اس کی عالمی سرمایہ کاری کا رخ ہماری برآمدات، درآمدات، سرمایہ کاری اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ ہمیں چین کو صرف ایک دوست ملک کے طور پر نہیں بلکہ ایک بڑی عالمی معاشی طاقت کے طور پر بھی سمجھنا ہوگا۔


برطانیہ کے فضائی ٹریفک کنٹرول نظام میں سافٹ ویئر کی خرابی نے سیکڑوں پروازیں منسوخ کر دیں۔ یہ خبر بھی ہمارے لیے معمولی نہیں۔ دنیا کی جدید معیشت میں اب انفراسٹرکچر صرف سڑک، پل، بجلی گھر اور ریلوے لائن کا نام نہیں۔ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بھی قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ ایک سافٹ ویئر کی خرابی ہوائی سفر روک سکتی ہے، ایک سائبر حملہ بینکنگ نظام کو متاثر کر سکتا ہے اور ایک ڈیٹا سینٹر کی خرابی کاروبار کو گھنٹوں میں اربوں کا نقصان پہنچا سکتی ہے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کی بات کرتے ہوئے ہمیں اسی بنیادی ڈھانچے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔


فرانس میں شراب کی پیداوار میں کمی بھی معیشت کا ایک دلچسپ سبق ہے۔ شدید گرمی اور خشک موسم نے انگوروں کو نقصان پہنچایا، لیکن مسئلہ صرف پیداوار میں کمی نہیں، طلب میں کمی بھی ہے۔ فرانسیسی صارفین کم شراب پی رہے ہیں، اس لیے کسان اپنی بیلیں اکھاڑنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں ہم اس خبر کو اپنے زرعی شعبے کے آئینے میں دیکھ سکتے ہیں۔ کسان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ صرف فصل پیدا کرنا نہیں، اس فصل کی منڈی، قیمت، طلب اور مستقبل کا یقین بھی ہے۔ اگر پیداوار ہو مگر مناسب خریدار نہ ہو تو کسان کی محنت معاشی کامیابی میں تبدیل نہیں ہوتی۔


یہی وہ مقام ہے جہاں عالمی معیشت اور پاکستانی معیشت ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ ہمارے ہاں پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو ہم اسے صرف حکومت کے فیصلے کے طور پر دیکھتے ہیں، حالانکہ اس کے پیچھے عالمی تیل منڈی بھی ہوتی ہے۔ ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو ہم اسے صرف کرنسی کا مسئلہ سمجھتے ہیں، حالانکہ اس کے پیچھے عالمی سرمایہ، شرح سود، تجارتی توازن اور ہماری اپنی معاشی کمزوریاں بھی ہوتی ہیں۔ بجلی مہنگی ہوتی ہے تو اس کے پیچھے توانائی کی درآمد، قرض، پیداواری لاگت اور پالیسی کے کئی برسوں کے فیصلے موجود ہوتے ہیں۔ نوجوان بے روزگار ہوتا ہے تو مسئلہ صرف اس کی ڈگری نہیں، پوری معیشت کی پیداواری صلاحیت کا سوال بھی ہوتا ہے۔


اسی لیے پاکستان کو عالمی معیشت کا تماشائی نہیں بلکہ اس کا فعال حصہ بننے کی ضرورت ہے۔ ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ دنیا میں تیل کتنا مہنگا ہوگیا، بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم اپنی توانائی کی درآمدی ضرورت کیسے کم کر سکتے ہیں۔ صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ ڈالر کتنا مہنگا ہے، بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم اتنی برآمدات کیسے کریں کہ ڈالر کمانے کے لیے مسلسل قرض لینے کی ضرورت کم ہو۔ صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ نوجوانوں کو نوکریاں کہاں ملیں گی، بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم ایسی صنعت، ٹیکنالوجی اور خدمات کیسے پیدا کریں جو دنیا خریدنا چاہے۔


دنیا میں سرمایہ اس وقت وہاں جاتا ہے جہاں اسے تین چیزیں نظر آتی ہیں: استحکام، صلاحیت اور منافع کا امکان۔ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی ہے، جغرافیائی محل وقوع ہے، بڑی داخلی مارکیٹ ہے اور بے شمار باصلاحیت لوگ ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان امکانات کو معاشی پالیسی، سیاسی استحکام، تعلیم، ٹیکنالوجی اور صنعتی منصوبہ بندی کے ساتھ جوڑا جائے۔


اور شاید یہی وجہ ہے کہ عالمی کرنٹ افیئرز کو پڑھنا ہمارے لیے محض معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنی سمت کا تعین کرنا ہے۔ آج برینٹ آئل 100 ڈالر سے اوپر جاتا ہے تو کل اس کا اثر ہمارے گھر کے بجٹ پر آ سکتا ہے۔ آج امریکہ شرح سود بڑھاتا ہے تو کل ہمارے قرض کا بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ آج چین اپنی بینکاری کو سہارا دیتا ہے تو کل ہماری تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔ آج مصنوعی ذہانت نئی صلاحیت حاصل کرتی ہے تو کل ہمارے نوجوان کے روزگار کی تعریف بدل سکتی ہے۔ آج جرمنی اپنی کار فیکٹری میں دفاعی پیداوار شروع کرتا ہے تو کل عالمی صنعت کا پورا نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے۔


اس لیے دنیا کو سمجھنا دراصل پاکستان کو سمجھنا ہے۔ عالمی معیشت سے بے خبری اب مقامی زندگی سے بے خبری کے مترادف ہے۔ ہمارے طالب علم، خصوصاً میڈیا کے طالب علم اگر عالمی منڈی، سرمایہ، تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی اور روزگار کے باہمی تعلق کو نہیں سمجھیں گے تو وہ خبر تو لکھ سکیں گے، خبر کے پیچھے چھپی دنیا نہیں سمجھ سکیں گے۔


سب معاش ہے، باقی سب مایہ ہے۔ سرمایہ صرف بینک میں پڑا ہوا پیسہ نہیں، یہ دنیا کو حرکت دینے والی قوت ہے۔ سیاست اس کے گرد راستے بناتی ہے، جنگیں اس کے بہاؤ کو بدلتی ہیں، ٹیکنالوجی اسے نئی شکل دیتی ہے اور عام آدمی اس کے فیصلوں کا اثر اپنی جیب میں محسوس کرتا ہے۔ بس یہی ازل تا ابد کہانی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے بادشاہ سرمایہ جمع کرتے تھے، آج ریاستیں اور کارپوریشنیں کرتی ہیں؛ پہلے جنگیں زمین کے لیے ہوتی تھیں، آج مارکیٹ، وسائل، ٹیکنالوجی اور سپلائی چین بھی میدانِ جنگ ہیں۔ اور اس پوری کہانی میں پاکستان کا سوال وہی ہے جو ہر پاکستانی گھر کا سوال ہے: دنیا کی اس معاشی دوڑ میں ہم صرف قیمتیں ادا کرتے رہیں گے یا کبھی قیمت طے کرنے والوں میں بھی شامل ہوں گے؟


#زابرسعیدبدر #معشیت #پاکستان

#ZabirSaeedBadar

#Economy #Pakistan

Comments

Popular posts from this blog

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

کامیابی کا راز ٹکراؤ میں نہیں بلکہ مفاہمت میں ہے / تاریخ کا سبق, زابر سعید بدر