فطرت سے لڑتی قوم | بے ترتیب زندگی, بڑھتی بیماریاں | صاحب زادہ زابر سعید بدر




 فطرت سے لڑتی قوم 


بےترتیب زندگی | بڑھتی بیماریاں


صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر 


ہمارے معاشرے میں بیماریوں کا بڑھتا ہوا بوجھ صرف ہسپتالوں، ڈاکٹروں یا علاج کی سہولتوں کا مسئلہ نہیں۔ اس کے پیچھے ہماری خوراک، نیند، جسمانی سرگرمی، ذہنی دباؤ، کھانے کے اوقات، وزن، تمباکو نوشی، ماحولیاتی عوامل اور مجموعی طرزِ زندگی کا بہت بڑا کردار ہے۔ موروثی اور جینیاتی عوامل بھی اہم ہیں؛ بعض بیماریوں کا رجحان نسل در نسل منتقل ہوتا ہے، لیکن جینیاتی استعداد کا مطلب یہ نہیں کہ بیماری لازماً پیدا ہو گی۔ بہت سے معاملات میں ہمارا طرزِ زندگی اس استعداد کو بیماری میں تبدیل کرنے یا اسے برسوں تک خاموش رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔


آج ہمارے شہروں میں رات دیر تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ رات کے دو، تین بجے بھی چائے کے ہوٹل آباد ہیں، کھانے پینے کی دکانوں پر رش ہے، نوجوان سڑک کنارے بیٹھے ہیں، کہیں تاش ہو رہی ہے، کہیں کھیل کے نام پر وقت گزر رہا ہے، کہیں موبائل فون ہاتھ میں ہے اور کہیں محض گپ شپ جاری ہے۔ لاہور کی گوالمنڈی سے گلبرگ تک اور دوسرے بڑے شہروں کی مختلف مارکیٹوں تک رات گئے تک زندگی جاگتی نظر آتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ انسان کبھی رات کو باہر نہ نکلے یا دوستوں کے ساتھ نہ بیٹھے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب رات کا جاگنا مستقل معمول بن جائے اور اس کے نتیجے میں نیند، صبح، ورزش، کام، مطالعہ اور صحت سب متاثر ہونے لگیں۔


انسان کا جسم اپنی ایک قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے مطابق کام کرتا ہے۔ دن کی روشنی اور رات کی تاریکی اس نظام کو منظم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ رات کو مسلسل جاگنا، صبح دیر سے اٹھنا، دن کی روشنی سے محروم رہنا اور سونے جاگنے کے اوقات کو روز بدلتے رہنا جسم کے اس قدرتی نظام میں خلل ڈال سکتا ہے۔ تحقیق میں بےقاعدہ نیند اور کم نیند کو موٹاپے، بلند فشارِ خون، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے زیادہ خطرے سے وابستہ پایا گیا ہے۔


لیکن ہمارا مسئلہ صرف نیند نہیں۔ ہماری خوراک بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم دن بھر کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے ہیں۔ ناشتے کے بعد چائے، پھر بسکٹ، پھر کوئی مشروب، پھر دوپہر کا کھانا، اس کے بعد چائے، شام کا ناشتہ، رات کا کھانا اور رات گئے دوبارہ چائے، کافی، برگر، پیزا یا کوئی اور چیز۔ جسم کو آرام دینے کے بجائے ہم اسے مسلسل ہضم کرنے کا کام دیتے رہتے ہیں۔


یہاں انسولین کی مزاحمت کا مسئلہ سمجھنا ضروری ہے۔ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو خون میں شکر بڑھتی ہے اور جسم انسولین خارج کرتا ہے تاکہ خون میں موجود شکر کو خلیوں تک پہنچایا جا سکے۔ مسلسل زیادہ کھانا، زیادہ کیلوری لینا، جسم میں اضافی چربی (خصوصاً پیٹ کے گرد)، کم جسمانی سرگرمی اور بعض دوسرے عوامل وقت کے ساتھ جسم کے خلیوں کی انسولین کے لیے حساسیت کم کر سکتے ہیں۔ اسے انسولین کی مزاحمت کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم کو خون میں شکر کو قابو میں رکھنے کے لیے زیادہ انسولین بنانا پڑ سکتی ہے اور آگے چل کر ذیابیطس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔


اسی لیے کھانے کے درمیان مناسب وقفہ رکھنا بعض لوگوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ وقفے وقفے سے کھانے کو محدود کرنے کے طریقوں پر ہونے والی تحقیق میں وزن، خون میں شکر اور بعض افراد میں انسولین کی حساسیت میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ اگر کوئی صحت مند بالغ شخص اپنے معالج کی رہنمائی میں کھانے کے درمیان مناسب طویل وقفہ رکھتا ہے، بار بار کھانے کی عادت کم کرتا ہے اور مجموعی طور پر متوازن غذا استعمال کرتا ہے تو اس سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ سمجھنا درست نہیں کہ صرف سولہ یا سترہ گھنٹے کا وقفہ رکھ لینے سے ہر شخص کی انسولین کی مزاحمت ختم ہو جائے گی یا دل، جگر اور ہارمون کی تمام بیماریاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔ بیماریوں کی وجوہات متعدد ہوتی ہیں اور علاج بھی ہر شخص کی حالت کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔


ہمارے دوست ڈاکٹر شہزاد بصرہ نے بھی ایک حالیہ گفتگو میں کھانے کے درمیان وقفہ اور جسم کے اندر ہونے والی تبدیلیوں پر بات کی۔ ان کی اس گفتگو کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ انسان کو ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے کے بجائے کھانے کے درمیان مناسب وقفہ دینا چاہیے۔ یہ نکتہ موجودہ غذائی تحقیق کے ایک اہم موضوع سے مطابقت رکھتا ہے، اگرچہ کسی مخصوص بیماری کے علاج کے طور پر طویل روزے یا کھانے کے وقفے کو ہر شخص کے لیے یکساں طریقے سے تجویز نہیں کیا جا سکتا۔


دل کی بیماری، بلند فشارِ خون، ذیابیطس، جگر میں چربی، موٹاپا اور بعض دوسرے غیر متعدی امراض میں ہماری روزمرہ زندگی کے عوامل واقعی اہم ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت بھی بار بار اس بات پر زور دیتا ہے کہ تمباکو نوشی، غیر صحت مند غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی، موٹاپا اور بلند فشارِ خون جیسے قابلِ تبدیلی عوامل دنیا بھر میں غیر متعدی بیماریوں کے بڑے خطرات میں شامل ہیں۔


ہماری سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم جسمانی سرگرمی کو اپنی زندگی سے تقریباً نکالتے جا رہے ہیں۔ گاڑی گھر کے دروازے تک چاہیے، لفٹ سیڑھیوں کی جگہ لے چکی ہے، دفتر میں گھنٹوں بیٹھنا معمول ہے، گھر آ کر موبائل فون سامنے ہے اور تفریح بھی زیادہ تر بیٹھ کر ہوتی ہے۔ بچوں کے کھیل کے میدان کم ہو رہے ہیں اور موبائل فون کے سامنے گزارا جانے والا وقت بڑھ رہا ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد رات دیر تک جاگتی ہے، دن کا بڑا حصہ تھکن اور غنودگی میں گزارتی ہے اور باقاعدہ ورزش یا چہل قدمی کے لیے وقت نہیں نکال پاتی۔


یہ صورتِ حال صرف جسم کو متاثر نہیں کرتی، دماغ کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب نوجوان رات تین بجے تک موبائل فون دیکھتا رہے، صبح دیر سے اٹھے، دن کی روشنی کم حاصل کرے، جسمانی سرگرمی نہ کرے اور پھر کلاس میں بیٹھے تو اس کی توجہ، یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ یونیورسٹیوں میں کبھی کبھی ایسے طلبہ نظر آتے ہیں جو کلاس میں بیٹھے بیٹھے نیند سے لڑ رہے ہوتے ہیں۔ بعض واقعی سو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو نوجوان اپنے جاگنے کے بہترین اوقات نیند اور اسکرولنگ میں گزار دے، وہ علم، تحقیق، تخلیق اور نئی سوچ کے لیے اپنی پوری ذہنی صلاحیت کیسے استعمال کرے گا؟


یہاں ہمیں اپنے نوجوانوں کو برا بھلا کہنے کے بجائے پورے معاشرتی ماحول کو دیکھنا ہو گا۔ موبائل فون اور سماجی ذرائع ابلاغ نے ہماری توجہ کو مسلسل چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو، پھر دوسری، پھر تیسری؛ ایک پیغام، پھر دوسرا، پھر بے مقصد دیکھتے رہنا۔ دماغ کو مسلسل تحریک ملتی رہتی ہے مگر گہری توجہ، مطالعہ اور غوروفکر کے لیے وقت کم ہوتا جاتا ہے۔


چائے بھی ہماری روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ پاکستان میں چائے کا استعمال بہت زیادہ ہے اور ہم اس پر خطیر رقم خرچ کرتے ہیں۔ چائے خود کسی صورت میں زہر نہیں، اور مناسب مقدار میں چائے پینا لازماً نقصان دہ نہیں۔ مسئلہ اس وقت بنتا ہے جب چائے بار بار کھانے، چینی، بسکٹ، مٹھائی اور رات دیر تک جاگنے کے ساتھ جڑ جائے۔ پھر چائے صرف مشروب نہیں رہتی بلکہ ایک ایسے طرزِ زندگی کا حصہ بن جاتی ہے جس میں نیند کم، خوراک زیادہ اور جسمانی سرگرمی بہت کم ہو جاتی ہے۔


ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر بیماری صرف ہماری غلطی نہیں۔ جینیاتی عوامل، خاندانی تاریخ، عمر، ہارمونز، بعض ادویات، آلودگی، معاشی حالات اور دیگر عوامل بھی بیماریوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ کسی ایسے شخص کو جس کے خاندان میں ذیابیطس یا دل کی بیماری کا رجحان موجود ہو، صرف یہ کہہ دینا کہ آپ نے اپنی زندگی خراب کی ہے، نہ سائنسی طور پر درست ہے اور نہ انسانی طور پر مناسب۔ لیکن جینیاتی خطرہ موجود ہونے کے باوجود صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا بہت سے لوگوں میں بیماری کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔


اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم بیماری کو صرف اس وقت سنجیدگی سے لیتے ہیں جب وہ سامنے آ جائے۔ بلڈ پریشر بڑھ گیا تو دوا شروع کر دی۔ خون میں شکر بڑھ گئی تو علاج شروع کر دیا۔ وزن بہت بڑھ گیا تو پریشانی شروع ہو گئی۔ جگر میں چربی آ گئی تو ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے۔ دل میں تکلیف ہوئی تو ہسپتال دوڑ گئے۔ لیکن اس سے پہلے ہم نے کئی سال تک جسم کو کیا دیا، کتنی نیند لی، کتنا چلے، کیا کھایا، کتنی بار کھایا اور کتنے گھنٹے موبائل دیکھتے رہے، اس کا حساب کم ہی رکھا۔


ہمیں اپنی سوچ تبدیل کرنا ہوگی۔ صحت کا مطلب صرف بیماری نہ ہونا نہیں۔ صحت ایک ایسا طرزِ زندگی ہے جس میں مناسب نیند، متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب وزن، ذہنی سکون، سماجی تعلقات اور روزمرہ زندگی میں نظم شامل ہو۔


رات کو دن بنا دینا دانش مندی نہیں۔ ضروری طبی خدمات، صنعت، ذرائع ابلاغ، پولیس، سفر اور بہت سے دوسرے شعبوں میں رات کی ڈیوٹی ہمیشہ ضروری رہے گی۔ مسئلہ مجبوری کی رات نہیں؛ مسئلہ بلا ضرورت رات کو جاگنا اور دن کے قدرتی معمول کو مسلسل بگاڑ دینا ہے۔


اسی طرح ہمیں چائے، ریسٹورنٹ، دوستوں کی محفل یا تفریح کو دشمن نہیں سمجھنا۔ زندگی میں خوشی بھی ضروری ہے۔ لیکن اگر ہماری بہترین توانائی کھانے، بیٹھنے، موبائل دیکھنے اور بے مقصد گفتگو میں ختم ہو جائے اور علم، کام، ورزش، تحقیق اور تخلیق کے لیے ہمارے پاس صرف تھکا ہوا ذہن باقی بچے تو پھر ہمیں اپنے طرزِ زندگی پر ضرور غور کرنا چاہیے۔


ہمارے پاس کتنے ہسپتال ہیں یہ سوال اہم نہیں کیونکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کتنے صحت مند ہیں۔ صحت مند بچوں، توانا نوجوانوں، متحرک کارکنوں، مطالعہ کرنے والے ذہنوں، کھیل کے میدانوں، صاف خوراک، مناسب نیند اور منظم روزمرہ زندگی میں ہوتی ہے۔


ہمیں ہسپتال بھی چاہئیں، اچھے ڈاکٹر بھی چاہئیں، جدید علاج بھی چاہیے اور بہترین تشخیصی مراکز بھی۔ لیکن ساتھ ہی ہمیں یہ سوال بھی پوچھنا ہوگا کہ ہم ایسے حالات کیوں پیدا کر رہے ہیں جن میں ہر آنے والی نسل کو پہلے سے زیادہ بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔


اگر ہم اپنے کھانے کے معیار کو بہتر کریں، بلا ضرورت بار بار کھانے کی عادت کم کریں، کھانے کے درمیان مناسب وقفہ رکھیں، جسمانی سرگرمی بڑھائیں، وزن کو قابو میں رکھیں، رات کی نیند کو سنجیدہ لیں، صبح کی روشنی حاصل کریں، موبائل اور اسکرین کا بے مقصد استعمال کم کریں اور اپنے بچوں کو کتاب، کھیل، مطالعہ اور باقاعدہ زندگی کی طرف واپس لے جائیں تو ہم اپنی صحت کے لیے ایک بڑا کام خود کر سکتے ہیں۔


ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ آئن سٹائن، بل گیٹس، زکربرگ یا ایلون مسک کیوں نہیں بن رہے۔ ہمیں پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم نے انہیں وہ ماحول دیا ہے جس میں وہ گہری نیند لے سکیں، صحت مند رہ سکیں، مسلسل مطالعہ کر سکیں، توجہ مرکوز کر سکیں، سوال پوچھ سکیں، تحقیق کر سکیں اور اپنی صلاحیت کو کئی سال تک مسلسل استعمال کر سکیں۔


قومیں صرف ذہانت سے نہیں بنتیں۔ ذہانت کو صحت، نظم، محنت، علم اور مسلسل توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔


ہماری بڑھتی ہوئی بیماریوں کا مقابلہ صرف ہسپتال بنا کر نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں اپنے گھروں، باورچی خانوں، بازاروں، تعلیمی اداروں، کھیل کے میدانوں اور روزمرہ معمولات میں بھی تبدیلی لانا ہوگی۔


کیونکہ بیماری کے بستر تک پہنچنے سے پہلے صحت ہماری زندگی میں ہر روز بنتی یا بگڑتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

کامیابی کا راز ٹکراؤ میں نہیں بلکہ مفاہمت میں ہے / تاریخ کا سبق, زابر سعید بدر