موساد کا پچھتاوا: جب دنیا اسلام آباد کو دیکھ رہی تھی,زابر سعید بدر
موساد کا پچھتاوا: جب دنیا اسلام آباد کو دیکھ رہی تھی
___________
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
ذرا ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے۔
دنیا ایک ایسی جنگ کے کنارے کھڑی تھی جس کے شعلے صرف ایران، اسرائیل یا امریکہ تک محدود نہیں رہنے تھے۔ تیل کی قیمتیں بے قابو ہو رہی تھیں۔ عالمی منڈیاں لرز رہی تھیں۔ تجزیہ کار تیسری عالمی جنگ کے خدشات پر گفتگو کر رہے تھے۔ لاکھوں نہیں، اربوں انسانوں کے گھروں میں خوف داخل ہو چکا تھا۔ ماں اپنے بچے کے دودھ کی قیمت دیکھ رہی تھی، مزدور پیٹرول کے بڑھتے نرخوں سے پریشان تھا، اور حکومتیں آنے والے بحران کا حساب لگا رہی تھیں۔
پھر دنیا کے ٹی وی سکرینوں پر ایک منظر ابھرا۔
سوئٹزرلینڈ کے پُرسکون پہاڑوں کے درمیان عالمی سفارت کاری کا ایک غیر معمولی منظر ترتیب پا رہا تھا۔
واشنگٹن، لندن، بیجنگ، ماسکو، دوحہ، ریاض، تہران، استنبول اور برسلز کے نیوز رومز میں ایک ہی خبر گردش کر رہی تھی۔
اسلام آباد۔
جی ہاں، اسلام آباد۔
وہی اسلام آباد جسے کبھی صرف ایک ترقی پذیر ملک کا دارالحکومت سمجھا جاتا تھا، اس دن عالمی سفارت کاری کے مرکز کے طور پر لیا جا رہا تھا۔
دنیا بھر کے چینلز پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم دکھائی دے رہا تھا۔ عالمی نشریاتی اداروں کے اینکر بار بار پاکستان کا نام لے رہے تھے۔ سکرینوں پر پاکستانی قیادت کے مناظر تھے۔ تجزیہ کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ آخر پاکستان نے ایسا کیا کردار ادا کیا جس نے جنگ کے بادل چھٹنے میں مدد دی۔
یہ صرف ایک سفارتی لمحہ نہیں تھا۔
یہ دراصل نصف صدی پہلے کیے گئے ایک فیصلے کی بازگشت
تھی۔
یہ اس شخص کی محنت کا عکس تھا جسے دنیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام سے جانتی ہے۔
آج سے کئی دہائیاں پہلے جب پاکستان نے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تو بہت سے لوگوں نے اسے ناممکن قرار دیا۔ پابندیاں لگیں، دباؤ آیا، دھمکیاں دی گئیں، تنہائی مسلط کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن پاکستان اپنے راستے پر چلتا رہا۔
شاید اسی لیے موساد کے سابق سربراہ شبطائی شاویت کا اعتراف اتنا اہم ہے۔
وہ کہتا ہے کہ اگر ہم عبدالقدیر خان کو راستے سے ہٹا دیتے تو تاریخ مختلف ہوتی۔
یہ محض ایک جملہ نہیں۔
یہ ایک دشمن کی زبان سے ادا ہونے والا اعتراف ہے کہ ایک پاکستانی سائنس دان نے خطے کی طاقت کا توازن بدل دیا تھا۔
آج پاکستان کی معیشت کو مشکلات کا سامنا ضرور ہے، لیکن عالمی سیاست میں اس کی اہمیت صرف معیشت سے متعین نہیں ہوتی۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ جنوبی ایشیا کا تزویراتی توازن پاکستان کے بغیر نامکمل ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ چین، امریکہ، روس، عرب دنیا اور ایران سب اسلام آباد کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
اسی لیے آج اگر عالمی بحران کے لمحوں میں پاکستان کا نام لیا جاتا ہے تو اس کے پیچھے صرف سفارت کاری نہیں، بلکہ وہ دفاعی طاقت بھی موجود ہے جس نے پاکستان کو عالمی میز پر مستقل نشست دلائی۔
اور شاید اسی لیے موساد کا وہ سابق سربراہ آج بھی یہ سوچتا ہوگا کہ اگر عبدالقدیر خان نہ ہوتے تو شاید یہ دنیا واقعی مختلف ہوتی۔
لیکن تاریخ "اگر" سے نہیں لکھی جاتی۔
تاریخ ان لوگوں کے نام سے لکھی جاتی ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دیتے ہیں۔


Comments