لارڈ کلائیو جس نے مغل سلطنت کی بنیادیں ہلا دیں | زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز
عجیب اتفاق ہے کہ تاریخ میں ہمیں بعض اوقات ایسے واقعات
ایک دوسرے سے ملتے جلتے دکھائی دیتے ہیں کہ انسان ٹھٹھک کر سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ موسیٰ بن نصیر اور محمد بن قاسم کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہو یا لارڈ کلائیو کے ساتھ ہونے والے حالات، دونوں میں ایک قدرِ مشترک ضرور نظر آتی ہے: وہ لوگ جنہوں نے سلطنت کے اقتدار اور توسیع میں غیر معمولی کردار ادا کیا، بالآخر اپنے ہی اقتدار کے سیاسی مفادات اور اندرونی کشمکش کا شکار ہوگئے۔
موسیٰ بن نصیر اور محمد بن قاسم کے معاملے میں روایات ہمیں بتاتی ہیں کہ سیاسی اقتدار کی تبدیلی کے بعد دونوں کے ساتھ انتہائی ناموافق سلوک ہوا۔ دوسری طرف لارڈ کلائیو کی داستان بھی ایک عجیب تاریخی المیے کی صورت ہمارے سامنے آتی ہے۔ وہ شخص جس نے ہندوستان میں برطانوی اقتدار کی بنیاد مضبوط کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، جس نے 1757ء کی جنگِ پلاسی میں فتح حاصل کی اور بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے سیاسی اقتدار کا دروازہ کھولا، بعد میں خود اسی نظام کی سیاسی کشمکش اور مخالفت کا نشانہ بن گیا۔
1757ء محض ایک جنگ کی تاریخ نہیں تھی؛ یہ ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا۔ پلاسی کی فتح کے بعد بنگال، جو ہندوستان کے سب سے زیادہ دولت مند اور سب سے زیادہ محاصل دینے والے علاقوں میں شمار ہوتا تھا، رفتہ رفتہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے مالی اور سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر آتا چلا گیا۔ کلائیو کی فتوحات اور اس کے بعد بنگال سے حاصل ہونے والے مالی وسائل نے کمپنی کو وہ معاشی طاقت فراہم کی جس نے ہندوستان میں اس کے بڑھتے ہوئے اقتدار کو مزید مضبوط کیا۔ اسی لیے اگرچہ مغلیہ سلطنت کا رسمی خاتمہ تقریباً ایک سو سال بعد 1857ء میں ہوا، لیکن 1757ء کی پلاسی کی جنگ کو اس سلطنت کے سیاسی زوال کا ایک فیصلہ کن موڑ سمجھنا زیادہ درست ہے۔ پلاسی نے مغلیہ اقتدار کی کمزوری کو نمایاں کیا اور ایک نئی سامراجی قوت کے عروج کی بنیاد رکھ دی۔
لیکن تاریخ کا المیہ دیکھیے کہ جس شخص نے اس نئے برطانوی اقتدار کی بنیاد رکھنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا، آخرکار اسی کو اپنے ملک واپس جاکر اپنے ہی لوگوں کی سیاسی مخالفت، الزامات اور تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا۔ کلائیو کی زندگی کے آخری برس اسی تضاد کی ایک دلچسپ مثال ہیں۔
یہاں پیش کیا جانے والا اقتباس اسی تاریخی مرحلے سے متعلق ہے، جس میں کلائیو کی انگلستان واپسی، ایسٹ انڈیا کمپنی کے اندر اس کے مخالفین کی سرگرمیاں، پارلیمانی تحقیقات اور اس کے آخری برسوں کے حالات بیان کیے گئے ہیں۔ یہ حصہ Lord Clive سے لیا گیا ہے اور قارئین کے سامنے اسی تاریخی پس منظر کو سمجھنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
صاحب زادہ محمد زابرسعیدبدر
پارلیمانی تحقیقات اور انگلستان میں زندگی کے آخری سال
کلائیو 14 جولائی 1767ء کو پورٹسماؤتھ پہنچا اور اگلے ہی روز لندن روانہ ہوگیا۔ لندن میں اس کے بے شمار ذاتی دوستوں اور کمپنی کے مجلسِ انتظامیہ کے ارکان نے اس کا نہایت گرمجوشی سے استقبال کیا۔ لیکن اس کی زندگی کے باقی ماندہ ایام کو تلخ اور اذیت ناک بنانے والے اسباب پہلے ہی اپنا کام شروع کرچکے تھے۔ اس مرتبہ اس کے ہم وطنوں کی طرف سے وہ پُرجوش خیرمقدم اور تحسین سننے کو نہیں ملی جو اس سے قبل انگلستان واپسی پر اس کا مقدر بنی تھی۔
مسٹر سلیوان اور ہندوستانی امور کے دفتر میں موجود اس کے مخالفین اب بھی پوری سرگرمی کے ساتھ اس کے خلاف برسرِپیکار تھے۔ ان کے ساتھ وہ تمام لوگ بھی شامل ہوگئے تھے جو اس کی اصلاحات سے براہِ راست یا بالواسطہ متاثر ہوئے تھے، یا جنہیں دولت کمانے کی اپنی توقعات پوری نہ ہونے پر مایوسی ہوئی تھی۔ اس کے خلاف اخبارات خریدے گئے یا نئے اخبارات قائم کیے گئے تاکہ اس کی کردارکشی کی جاسکے۔ اسی دوران نہایت ناشائستہ اور توہین آمیز پمفلٹ بڑی تعداد میں گردش کرنے لگے، جن میں اس کے ظلم و تشدد اور لالچ کے بارے میں ناقابلِ یقین کہانیاں بیان کی جاتی تھیں۔ جن تمام بدعنوانیوں اور خرابیوں کا اس نے خاتمہ کیا تھا، ان سب کا بدنامی کا بوجھ بھی اسی کے سر ڈال دیا گیا۔ عوام میں یہ تاثر عام ہوگیا کہ جن لوگوں کے ہندوستان میں طرزِ عمل نے ہر دیانت دار انگریز کو شدید غصے میں مبتلا کردیا تھا، کلائیو خود بھی انہی لوگوں کی بدترین برائیوں کا مالک تھا۔
مسٹر جانسٹن اور دوسرے وہ افراد جنہیں کلائیو کی اصلاحات کے نتیجے میں کمپنی کی ملازمت سے برطرف کردیا گیا تھا یا جنہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا، انہوں نے صرف اس مقصد سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے حصص خریدے کہ اس شخص سے انتقام لیا جاسکے جس نے ان کی ناجائز آمدنی کے ذرائع ختم کردیئے تھے۔ بہت جلد انہوں نے کمپنی کے حصص داروں کی مجلس میں ایک مضبوط گروہ بنا لیا۔ 6 مئی 1767ء کو منعقد ہونے والی ایک عام مجلس میں انہوں نے مجلسِ انتظامیہ کو مجبور کردیا کہ منافع کا حصہ بڑھا کر ساڑھے بارہ فیصد کردیا جائے۔ اسی مجلس میں انہوں نے بنگال کی مجلسِ عاملہ کے ان ارکان کو تحفظ دینے کی ایک قرارداد بھی منظور کرالی جنہوں نے انگلستان سے جاری احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تحائف اور نذرانے قبول کیے تھے۔
یہ فیصلہ مجلسِ انتظامیہ کے اختیار اور ہندوستان کے بہتر انتظامِ حکومت، دونوں کے لیے ایک شدید دھچکا تھا۔ اس سے کمپنی کے ملازمین کو واضح پیغام ملا کہ اگر انگلستان میں ان کے بااثر سرپرست موجود ہوں تو وہ کمپنی کے احکامات اور ضوابط کو کھلے عام نظرانداز کرسکتے ہیں۔ اور یہ سبق ضائع نہیں گیا۔
کلائیو کے انگلستان سے روانہ ہونے سے پہلے ہی ملک کی توجہ ہندوستانی امور کی طرف پوری شدت سے مبذول ہوچکی تھی۔ جب ہندوستان سے یہ خبریں پہنچیں کہ کلائیو کی کامیاب مذاکراتی کوششوں کے نتیجے میں کمپنی کو بڑے فوائد حاصل ہوئے ہیں تو یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ آیا قوم کو بھی ان فوائد میں حصہ دار نہیں ہونا چاہیے۔ کلائیو ہمیشہ اس بات کا حامی رہا تھا کہ ہندوستان کے معاملات پر ریاست کا کنٹرول ہونا چاہیے۔ اس نے اپنی یہ رائے پِٹ کو بھی بتائی تھی، اور پِٹ بھی اسی نقطۂ نظر کی طرف مائل تھا، اگرچہ وہ اس مسئلے سے وابستہ متعدد قانونی اور سیاسی مشکلات سے پوری طرح آگاہ تھا۔
جولائی 1766ء میں لارڈ چیتھم کی حکومت کے قیام کے فوراً بعد مجلسِ انتظامیہ کو اطلاع دی گئی کہ غالب امکان ہے کہ کمپنی کے معاملات پارلیمان کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ چنانچہ 25 نومبر 1766ء کو ایلڈرمین بیک فورڈ نے کمپنی کے معاملات کی تحقیقات کے لیے ایک تحریک پیش کردی۔ مختلف کمیٹیاں قائم کی گئیں، شہادتیں ریکارڈ کی گئیں اور اس معاملے پر متعدد مباحثے ہوئے۔
اگرچہ بظاہر حکومت کی یہ رائے تھی کہ کمپنی کی حاصل کردہ علاقائی فتوحات اور علاقوں پر حقِ ملکیت تاجِ برطانیہ کا ہونا چاہیے، تاہم حکومت اس معاملے میں خاموش رہی۔ لارڈ چیتھم صحت کی خرابی کے باعث حکومتی امور پر توجہ دینے کے قابل نہیں تھے۔ ہندوستانی معاملات کے بارے میں ان کی آرا ایک ناقابلِ فہم راز کی طرح پوشیدہ تھیں اور ان کے رفقائے کار ان کی غیر موجودگی میں کوئی اہم اقدام کرنے کی جرأت نہیں کرتے تھے۔
حکومت میں اتنی ہمت نہ تھی کہ کمپنی کی علاقائی حاکمیت براہِ راست تاجِ برطانیہ کو منتقل کردیتی۔ چنانچہ 12 جون کو ایک قانون منظور کیا گیا جس کے تحت کمپنی کو اپنے موجودہ حقوق برقرار رکھنے کے بدلے خزانے میں سالانہ چار لاکھ پاؤنڈ جمع کرانا لازم قرار دیا گیا۔ ایک الگ قانون کے ذریعے کمپنی کے منافع کا حصہ دس فیصد مقرر کردیا گیا۔
پارلیمانی مباحثوں کے دوران دونوں فریق کلائیو کے طرزِ عمل اور اس کی خدمات کی تعریف پر متفق تھے۔ اس کی انگلستان واپسی کے تقریباً دو ماہ بعد حصص داروں کی مجلس نے متفقہ طور پر کلائیو اور اس کے قانونی وارثوں کے حق میں جاگیر کی مدت مزید دس سال کے لیے بڑھا دی۔
جاگیر کی مدت میں توسیع کی تجویز کلائیو کے انگلستان پہنچنے سے پہلے ہی ایک سابقہ اجلاس میں پیش کی گئی تھی، لیکن کسی غلط فہمی کے باعث اس وقت یہ تحریک صرف 29 ووٹوں کی معمولی اکثریت سے منظور ہوئی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کلائیو نے اپنے دوستوں کو اس معاملے میں غیر پُرجوش سمجھا اور مجلسِ انتظامیہ کے طرزِ عمل سے اسے شدید ناگواری ہوئی۔ چنانچہ اس نے حصص داروں کی مجلس میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے بھرپور کوشش شروع کردی اور، بدقسمتی سے، ایک بار پھر لیڈن ہال اسٹریٹ کی سیاسی کشمکش کے گدلے دھارے میں کھنچتا چلا گیا۔
اس کے لیے کہیں بہتر یہ ہوتا کہ وہ اپنے دوست جارج گرین وِل کے اس دانش مندانہ مشورے پر عمل کرتا کہ وہ خود کو ’’ایک ایسے باعزت عوامی شخص کی حیثیت میں رکھے جو صرف اس وقت اپنا مشورہ اور تعاون پیش کرے جب اس سے کہا جائے، تاکہ اس ملک کو اس عظیم سلطنت کے تحفظ میں مدد دے سکے جس کے حصول میں اس کا اتنا بڑا حصہ تھا۔‘‘
وہ صحت بالکل تباہ اور جسمانی طاقت شدید متاثر ہونے کی حالت میں انگلستان واپس آیا تھا، اور جن معمولی نوعیت کی پریشانیوں کا اسے سامنا کرنا پڑ رہا تھا، ان سے وہ حد سے زیادہ ذہنی اذیت میں مبتلا ہوگیا۔ برمنگھم میں اور پھر اسٹائچ میں اسے شدید بیماری لاحق ہوئی۔ اس کے ساتھ ناقابلِ برداشت درد بھی ہوتا تھا، جس سے نجات حاصل کرنے کے لیے وہ افیون کی بھاری مقدار استعمال کرتا تھا۔
اس کے ڈاکٹروں نے اسے باتھ جانے کا مشورہ دیا اور ہر قسم کے کاروباری و سیاسی معاملات سے مکمل طور پر دور رہنے کی ہدایت کی۔ جب وہاں کے معدنی پانی سے بھی اسے کوئی فائدہ نہ ہوا تو ڈاکٹروں نے اسے جنوبی فرانس کا سفر کرنے کا مشورہ دیا۔ بظاہر اس تبدیلیِ آب و ہوا کا مطلوبہ اثر ہوا، کیونکہ اگست 1768ء کے آخر میں وہ صحت میں خاصی بہتری کے ساتھ واپس آیا تاکہ پارلیمان میں ہندوستانی امور پر ہونے والے مباحثوں میں حصہ لے سکے۔
حکومت کمپنی پر زور دے رہی تھی کہ موجودہ معاہدے کی تجدید کی جائے، جس کے تحت کمپنی خزانے میں سالانہ چار لاکھ پاؤنڈ ادا کرتی تھی۔ کچھ مذاکرات کے بعد اس معاہدے کو معمولی تبدیلیوں کے ساتھ مزید پانچ سال کے لیے برقرار رکھنے کی منظوری دے دی گئی۔
کلائیو اس انتظام سے متفق نہیں تھا۔ اس کے خیال میں یہ کمپنی کی کمزوری اور حکومت کی جانب سے ناجائز مطالبے کا مظہر تھا۔ اس نے دارالعوام میں بھی، مجلسِ انتظامیہ کے ساتھ بھی، اور حصص داروں کی مجلس میں بھی اس انتظام کی مخالفت کی۔
اس وقت اسے سخت مایوسی ہوئی جب اس کی تمام کوششوں کے باوجود حصص داروں کی مجلس میں یہ تجویز چالیس ووٹوں کی اکثریت سے منظور ہوگئی۔ وہ شدید بیزاری کے عالم میں باتھ واپس چلا گیا۔ اس کی صحت اور مزاج دونوں ہی ان گرم جوش اور تلخ مباحثوں کے لیے موزوں نہیں تھے جو اس دوران جاری رہے تھے۔ بظاہر وہ مایوسی کا شکار ہوگیا تھا اور سنجیدگی سے ریٹائرمنٹ کے بارے میں سوچنے لگا تھا۔
اپنے ایک دوست کے نام اس نے لکھا:
’’ہم بہت تیزی سے ایک خطرناک بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں،
’’ایک اعلیٰ درجے کی غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے شخص کی ضرورت ہے، لیکن فی الحال یہ معلوم نہیں کہ ایسا شخص کہاں سے ملے گا۔‘‘
اور ایک دوسرے دوست کو اس نے لکھا:
’’میں خود کو تمام سرکاری اور عوامی معاملات سے مکمل طور پر الگ کرلینے کی طرف بہت زیادہ مائل پاتا ہوں۔ میری نظر میں اب صرف اپنی اور اپنے خاندان کی خوشی ہی مقصد ہے، اور یہ اسی صورت حاصل ہوسکتی ہے کہ میں ایک ایسی مصروف، بدحال اور تقریباً تباہ حال قوم کے ہنگامہ خیز اور شور شرابے سے کنارہ کش ہوکر ریٹائرمنٹ کی زندگی اختیار کرلوں۔‘‘
اپریل 1768ء میں مسٹر سلیوان اور اس کے ساتھی، جنہیں حکومت کی بھرپور حمایت حاصل تھی، مجلسِ انتظامیہ میں شامل ہوگئے اور اس کے نتیجے میں نظامِ کار میں ایک اہم تبدیلی واقع ہوئی۔ مسٹر وینسِٹارٹ نے کلائیو سے کھلے عام اختلاف کیا تھا اور ہندوستانی دفتر میں مسٹر سلیوان کے گروہ سے وابستہ ہوگیا تھا۔ وہ ہندوستان واپس جاکر گورنر جنرل کا منصب سنبھالنے کا خواہش مند تھا۔
کلائیو کے دوستوں نے اس تقرری کی مخالفت کی۔ چونکہ دونوں میں سے کوئی بھی فریق اپنی بات منوانے کے لیے کافی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس لیے ایک سمجھوتا کرلیا گیا۔ اس کے تحت مسٹر وینسِٹارٹ، کرنل فورڈ اور مسٹر اسکرَافٹن کو ہندوستان بھیجا گیا تاکہ وہ نگران کی حیثیت سے ہندوستان کی حکومت کو ازسرِنو منظم کریں۔
یہ تینوں حضرات بدقسمت جہاز اورورا کے سمندر میں ڈوب جانے کے باعث ہلاک ہوگئے۔ جب انگلستان میں ان کی ہلاکت کی خبر پہنچی تو کلائیو نے سفارش کی کہ اس وقت مدراس کی مجلسِ عاملہ کے رکن وارن ہیسٹنگز کو بنگال کا گورنر مقرر کیا جائے۔
نئے گورنر کو مبارک باد دینے کے لیے کلائیو نے جو خط لکھا، وہ اس کے طرزِ فکر کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ بنگال کی مجلسِ عاملہ میں کئی ممتاز افراد کو مقرر کرنے کی ایک تجویز بیان کرنے کے بعد وہ لکھتا ہے:
’’حالات کا تقاضا ہے کہ آپ بہت محتاط اور فعال ہوں۔ عوام کے ساتھ غیر جانب دار اور منصفانہ رویہ اختیار کریں۔ جب قوم کی عزت اور کمپنی کے حقیقی مفاد کا معاملہ ہو تو افراد کے ذاتی مفادات سے قطع نظر فیصلہ کریں، اور اپنے طے کردہ فیصلے کو عملی جامہ پہنانے میں پُرعزم رہیں۔ میری امید ہے کہ آپ ہر موقع پر اپنے فیصلے کی بنیاد دوسروں کی رائے کے بجائے اپنی ذاتی رائے پر رکھیں گے۔
سیاسی اقدامات کے بارے میں اصول یہ ہے کہ انہیں حالات کے تقاضے کے مطابق اختیار کیا جائے۔ جب خطرہ پیدا ہو تو ہر ممکن احتیاطی تدبیر اختیار کی جانی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کو اس خطرے کا سامنا کرنے اور اس سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ یہ کام آپ کو خوش دلی اور اعتماد کے ساتھ کرنا ہوگا۔ جب تک کوئی مصیبت حقیقت میں واقع نہ ہوجائے، کبھی یہ خیال اپنے ذہن میں نہ آنے دیں کہ آپ ناکام ہوسکتے ہیں۔ اور اگر کوئی بدقسمتی پیش آ بھی جائے تو اس وقت بھی مایوس نہ ہوں، بلکہ مسلسل ایسے منصوبے بناتے اور انہیں عملی جامہ پہناتے رہیں جن کے ذریعے حالات کو دوبارہ بہتر بنایا جاسکے۔ ہمیشہ اپنے آپ کو یہ یقین دلاتے رہیں کہ وقت اور مستقل مزاجی بالآخر ہر مشکل پر قابو پالیں گے۔
آپ کے بارے میں جتنا معمولی سا علم مجھے حاصل ہے، اس کی بنیاد پر مجھے یقین ہے کہ آپ میں نہ صرف صلاحیت اور ذاتی عزم موجود ہے بلکہ دولت کے معاملے میں دیانت داری اور اعتدال بھی ہے۔ تاہم، مجھے آپ میں اپنے فیصلے پر اعتماد کی کچھ کمی اور مزاج میں ضرورت سے زیادہ نرمی محسوس ہوئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ آپ غیر محسوس طور پر وہاں دوسروں کے تابع ہوجائیں جہاں آپ کو خود رہنمائی کرنی چاہیے۔
اس کا ایک اور نقصان یہ ہوسکتا ہے کہ آپ مقامی لوگوں کی باتوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے لگیں اور معاملات کو بہتر کے بجائے بدترین پہلو سے دیکھنے کے عادی ہوجائیں۔ اپنے آپ پر مناسب اعتماد اور کامیابی کی کبھی ختم نہ ہونے والی امید اس کمزوری اور ان تمام دوسری مشکلات کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ثابت ہوگی جن کا آپ کو اپنے منصب کے باعث سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ گورنر کے عظیم منصب کے لیے آپ میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں۔ اس لیے مجھے یہ بھی کہنا چاہیے کہ اب آپ کو یہ موقع حاصل ہوگیا ہے کہ آپ اپنے آپ کو اس ملک کی ممتاز ترین شخصیات میں شامل کرسکیں۔‘‘
1770ء اور 1771ء کے انتخابات میں مسٹر سلیوان اور اس کے حامیوں نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی، اور بظاہر اس صورتِ حال نے کلائیو کے ریٹائر ہونے کے عزم کو مزید مضبوط کردیا۔ 8 اپریل 1771ء کو اس نے لکھا:
’’میں اس فیصلے پر پہنچ چکا ہوں کہ ہندوستانی معاملات سے خود کو مکمل طور پر الگ کرلوں اور اپنی باقی زندگی سکون اور گوشہ نشینی میں گزاروں۔‘‘
لیکن وہ جس آرام اور سکون کی زندگی کی امید کر رہا تھا، اسے کبھی نصیب نہ ہوئی۔ ہندوستان کے حالات انتہائی ناموافق رخ اختیار کرچکے تھے۔ دستیاب آمدنی میں کمی واقع ہوگئی تھی، جبکہ اخراجات میں بے حد اضافہ ہوگیا تھا۔ اس کی ایک وجہ نواب کے عزائم کے بارے میں ایک بے بنیاد خوف بھی تھا۔۔۔
©ZIMS

Comments