بین الاقوامی پالیسی ساز کیا سوچ رہے | فارن افئیرز | اگست 2026 | صاحب زادہ زابر سعید بدر
تازہ شمارۂ فارن افیئرز | بدلتی ہوئی عالمی طاقت کا فکری منظرنامہ
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
#زابرسعیدانسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز کی جانب سے عالمی سطح کے اہم جرائد میں شائع ہونے والے مضامین اور بین الاقوامی تعلقات سے متعلق تازہ فکری مباحث کو اردو قارئین کے لیے نمایاں کرنا اس مقصد کا حصہ ہے کہ ہمارے طلبہ، اساتذہ، محققین اور عام قارئین دنیا میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کو صرف خبروں کے ذریعے نہیں بلکہ ان کے پسِ پشت موجود فکری رجحانات کے ذریعے بھی سمجھ سکیں۔ اسی سلسلے میں تازہ شمارۂ فارن افیئرز کا مطالعہ ایک دلچسپ اور اہم عالمی منظرنامہ ہمارے سامنے رکھتا ہے۔
اس شمارے کے مختلف مضامین کو اگر الگ الگ پڑھا جائے تو ان میں مصنوعی ذہانت، چین کی صنعتی پیداوار، نایاب معدنیات، حیاتیاتی ہتھیار، امریکی عسکری ٹیکنالوجی، حکومتی کارکردگی، جمہوری نظام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے موضوعات نظر آتے ہیں۔ لیکن جب ان تمام مباحث کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ایک وسیع تر تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ تصویر اس دنیا کی ہے جہاں طاقت کے پرانے مراکز اب بھی مضبوط ہیں، لیکن ان کی برتری پہلے جیسی غیر متنازع نہیں رہی۔
خصوصاً چین سے متعلق مضامین اس شمارے کے فکری رجحان کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک مضمون عالمی معاشی بحران کے ممکنہ چینی پس منظر پر توجہ مرکوز کرتا ہے، دوسرا چین کی نایاب معدنیات پر بڑھتی ہوئی گرفت کو اس کی ایک اہم تزویراتی قوت قرار دیتا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بحث میں چینی اداروں کو ان طاقتوں میں شمار کیا گیا ہے جو مستقبل قریب میں نہایت خطرناک سائبر صلاحیتیں پیدا کر سکتی ہیں۔ یہاں ایک بنیادی تبدیلی محسوس ہوتی ہے: چین کو محض ایک علاقائی طاقت یا مستقبل کی ممکنہ طاقت کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا بلکہ اسے موجودہ عالمی طاقت کے توازن کا ایک فیصلہ کن کردار سمجھا جا رہا ہے۔
اس سے بھی زیادہ قابلِ توجہ بات مصنوعی ذہانت سے متعلق مضمون میں سامنے آتی ہے۔ اس میں یہ استدلال موجود ہے کہ بعض خطرناک ٹیکنالوجی کے حوالے سے امریکہ کو چین اور دوسری بڑی طاقتوں کے ساتھ مشترکہ حفاظتی اصول طے کرنے کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔ یہ بات محض ٹیکنالوجی کی بحث نہیں۔ اس کے اندر عالمی نظام کے بارے میں ایک اہم تصور پوشیدہ ہے۔ اگر کسی ایک طاقت کے لیے انتہائی اہم اور خطرناک ٹیکنالوجی کے قواعد اکیلے طے کرنا ممکن نہ رہے اور مختلف بڑی طاقتوں کو باہم بیٹھ کر اصول تشکیل دینا پڑیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی فیصلہ سازی بتدریج زیادہ مشترکہ اور مسابقتی نوعیت اختیار کر رہی ہے۔
تاہم اس صورتِ حال کو فوراً امریکہ کے زوال یا چین کی عالمی بالادستی کے طور پر بیان کرنا علمی احتیاط کے خلاف ہوگا۔ خود شمارے کے مضامین یہ بتاتے ہیں کہ امریکہ اب بھی ایک بڑی معاشی، عسکری، تکنیکی اور سیاسی طاقت ہے۔ اصل سوال اس کی طاقت کے ختم ہونے کا نہیں بلکہ اس کی طاقت کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کا ہے۔ "امریکہ کی گم شدہ عسکری انقلاب" جیسے عنوان کے ذریعے توجہ اس مسئلے کی طرف دلائی گئی ہے کہ اگر واشنگٹن نئی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں اپنی رفتار برقرار نہ رکھ سکا تو مستقبل کی عسکری برتری کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے۔ کسی عالمی طاقت کی کمزوری صرف اس وقت شروع نہیں ہوتی جب اس کی طاقت ختم ہو جائے؛ بعض اوقات تبدیلی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب دوسری طاقتیں اس کے برابر کے سوالات اٹھانے لگیں۔ اس شمارے میں چین کے بارے میں موجود بحث شاید اسی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ چین کو ایک طرف عالمی معاشی اور تکنیکی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے، لیکن دوسری طرف اسے عالمی سطح کے نئے قواعد تشکیل دینے کے لیے ایک ایسے فریق کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسی تناظر میں "جمہوریتوں کو تخلیقی انہدام کی ضرورت ہے" جیسے مضمون کا عنوان بھی معنی خیز ہے۔ اس میں توجہ بیرونی طاقتوں سے زیادہ خود امریکی حکمرانی اور ریاستی صلاحیت کے مسائل پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ گویا بحث صرف یہ نہیں کہ دنیا میں دوسری طاقتیں کیوں آگے بڑھ رہی ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ موجودہ بڑی طاقتیں اپنے داخلی اداروں، معیشت، ٹیکنالوجی اور حکومتی نظام کو بدلتی ہوئی دنیا کے مطابق کس حد تک ڈھال سکتی ہیں۔
اس پورے منظرنامے کو مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں دیکھنا بھی ضروری ہے، لیکن یہاں کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے پورے شمارے میں ایران، اسرائیل، خلیجی ریاستوں، روس، چین اور امریکی کردار سے متعلق تمام متعلقہ مضامین کا مطالعہ ضروری ہوگا۔ اگر ان مباحث میں بھی یہی رجحان برقرار رہتا ہے تو پھر یہ سوال زیادہ اہم ہو جائے گا کہ کیا مشرقِ وسطیٰ بھی اس عالمی تبدیلی کا ایسا خطہ بن رہا ہے جہاں پہلے کے مقابلے میں طاقت کے کئی مراکز بیک وقت اثرانداز ہو رہے ہیں۔
اس شمارے کا ایک اور اہم پہلو ماضی کی امریکی خارجہ پالیسی کے جائزے میں نظر آتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے پچیس سالہ تجربے کو دوبارہ دیکھنے والا مضمون اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ موجودہ عالمی منظرنامے کو سمجھنے کے لیے صرف آج کی طاقتوں کو دیکھنا کافی نہیں؛ پچھلی دو دہائیوں کی جنگوں، پالیسیوں اور ان کے نتائج کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ اس طرح ماضی کی امریکی ترجیحات اور موجودہ عالمی طاقت کے توازن کے درمیان ایک فکری ربط قائم ہوتا ہے۔
چنانچہ اس تازہ شمارے کا مجموعی مطالعہ ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور نہیں کرتا کہ امریکی دور ختم ہو چکا ہے یا چین نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ اس کے بجائے زیادہ محتاط اور علمی نتیجہ یہ ہے کہ دنیا ایک ایسے عبوری مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں امریکی برتری اب بھی موجود ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ عالمی طاقت کی تقسیم زیادہ پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ چین معاشی، تکنیکی اور تزویراتی میدانوں میں ایک ایسا کردار حاصل کر چکا ہے جسے عالمی پالیسی سازی میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جبکہ دوسری طاقتیں بھی اپنے اپنے دائرۂ اثر میں زیادہ نمایاں ہو رہی ہیں۔
یوں اس شمارے کا اصل فکری سوال شاید یہ نہیں کہ "اگلی عالمی طاقت کون ہوگی؟" بلکہ یہ ہے کہ "آنے والی دنیا میں طاقت کس طرح تقسیم ہوگی؟" کیا دنیا ایک نئی واحد بالادستی کی طرف جائے گی، یا ایسا نظام تشکیل پائے گا جس میں متعدد بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ مسابقت بھی کریں گی، تعاون بھی کریں گی اور بعض عالمی مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے کی ضرورت بھی محسوس کریں گی؟
ایک غیر جانب دار محقق کی حیثیت سے یہی پہلو سب سے زیادہ اہم ہے۔ عالمی سیاست کو صرف طاقت کے عروج و زوال کی کہانی سمجھنا شاید کافی نہیں۔ اصل تبدیلی اس وقت ہوتی ہے جب طاقت کے استعمال کے طریقے، عالمی قواعد بنانے کی صلاحیت اور مختلف ممالک کے باہمی انحصار کی نوعیت تبدیل ہونے لگتی ہے۔ تازہ شمارۂ فارن افیئرز کے مضامین اسی ممکنہ تبدیلی کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لاتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ یہ شمارہ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے فکری منظرنامے کو سمجھنے کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
یہ تجزیہ کسی ملک کے حق یا مخالفت میں نہیں بلکہ اس سوال کے تعاقب میں ہے کہ دنیا جس سمت بڑھ رہی ہے، اس کے بارے میں عالمی سطح کے سنجیدہ فکری اور پالیسی حلقے کیا سوچ رہے ہیں۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ایسے بین الاقوامی جرائد کا مطالعہ ہمارے لیے سب سے زیادہ مفید بن جاتا ہے: وہ ہمیں صرف یہ نہیں بتاتے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے، بلکہ یہ سمجھنے میں بھی مدد دیتے ہیں کہ دنیا کے بااثر ذہن آنے والی دنیا کو کس زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔

Comments