صاحب زادہ زابر سعید واپڈا ہاؤس میں جنرل فضل رازق کے ہم راہ | لاہور کی یادیں

لاہور کی یادیں

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

واپڈا ہاؤس کی چھت سے لاہور کا نظارہ

لارنس گارڈن کے جگنو

شاہ دین بلڈنگ کی ومٹو

فیروز سنز  کی کتابیں

سعید لخت سے ملاقاتیں 




 والدِ گرامی، جناب سعید بدر صاحب، ان دنوں واپڈا کے ایڈیٹر

 خبرنامہ و برقاب تھے سامنے شاہ دین بلڈنگ میں، ایڈورٹائزنگ کمپنی کمرشل سروسز اینڈ پبلسٹی کے مالک تھے۔ ہم دونوں بہن بھائیوں کو وہ اکثر واپڈا ہاؤس میں فنکشنز میں لے جاتے اور عظیم شخصیات سے ملنے کا موقع ملتا۔ یہ وہ دور ہے جب واپڈا واقعی واپڈا تھا۔ پاکستان کے  چند ایک بڑے ادارے تھے، ان میں ایک واپڈا بھی تھا۔ واپڈا آڈیٹوریم میں مہینے میں ایک مرتبہ دنیا کی بہترین فلمیں دکھانے کا بھی اہتمام ہوتا۔ تمام فیملی، میری والدہ اور چھوٹی بہن، ہم سب وہاں جاتے۔ مجھے یاد ہے کہ واپڈا کی چھت پر جا کر پورا لاہور  دیکھنا بہت اچھا لگتا تھا۔ اس وقت لاہور میں بہت زیادہ  بلند و بالا عمارتیں نہیں تھیں۔ سامنے سمٹ مینار تھا، شاہ دین بلڈنگ تھی اور باقی لاہور، بس روشنیاں نظر آتی تھیں۔


ابو کے پاس ان دنوں سفید رنگ کی ٹویوٹا گاڑی تھی۔اکثر میں اور بہن  ابو کے ڈرائیور کے ساتھ شاہ دین بلڈنگ آتے۔ وہاں مجھے یاد ہے ابو کی ایک لیڈی پی اے تھیں، وہ بڑی اچھی طرح ملتیں، اور ہم فیروز سنز جاتے۔ وہاں انکل سعید لخت ہوتے، ڈاکٹر عبدالرؤف ہوتے۔ تعلیم و تربیت لے کر آتا اور ساتھ اچھی اچھی کہانیاں، کتابیں، جو ان دنوں فیروز سنز کا خاصہ تھا کہ وہ اہتمام سے شائع کرتے۔ ہماری نسل کی اخلاقیات پر اس زمانے کے فیروز سنز اور شیخ غلام علی اینڈ سنز کی کہانیوں اور کتابوں کا بہت گہرا اثر ہے۔


سامنے سبز رنگ کی ایک گاڑی پر ومٹو شربت پیتے۔ نیچے انکل ذوقی، فوٹو اسٹوڈیوز والے، ہوتے، ان سے ملاقات ہو جاتی۔ ابو کے پاس دفتر میں اس زمانے کے نام ور صاحبان ملنے آیا کرتے، جو شاہ دین بلڈنگ کے اس دفتر میں لازمی چائے پیتے۔ سہ پہر کے قریب والد صاحب بھی واپڈا ہاؤس سے آ جاتے اور پھر شام تک یہیں رہتے۔


مہینے میں ایک آدھ مرتبہ، میں اور میری بہن، شاہ دین بلڈنگ کا چکر ضرور لگاتے۔ ابو کے دفتر کا واپڈا ہاؤس بھی ایک دو چکر لگتے، جس میں واپڈا ہاؤس کی چھت پر جانا مجھے بہت اچھا لگتا۔ اور نیچے ہال میں جب کوئی فنکشن ہوتا تو وہ بھی بہت زبردست ہوتا۔ بہت زبردست یادیں ہیں ان فنکشنز کے ساتھ۔ عظیم شخصیات سے ملنا اچھا لگتا تھا۔ حفیظ جالندھری سے بھی انہی دنوں ملاقات ہوئی، جب انہوں نے مجھے، میری بہن کو، قومی ترانہ لکھ کر دیا۔


ابو اکثر لارنس گارڈن لے جاتے۔ وہاں میں جگنو پکڑتا۔ مجھے ابھی تک یاد ہے، میں جگنو اکثر پکڑ کر گھر بھی لے آتا۔ مجھے لارنس گارڈن میں یا باغِ جناح میں جگنو پکڑنا بہت اچھا لگتا۔


یہ تصویر انہی دنوں کی ہے، جب ہم واپڈا ہاؤس میں کسی فنکشن میں شریک ہوئے اور ایک فیملی تقریب میں جنرل فضل رازق، چیئرمین واپڈا، کے ساتھ یہ تصویر اتری، جو واپڈا کے خبرنامےکے ساتھ ساتھ نوائے وقت اور مشرق میں بھی شائع ہوئی۔

صاحب زادہ

محمد زابر سعید بدر 

19 اگست 2026

Comments

Popular posts from this blog

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

کامیابی کا راز ٹکراؤ میں نہیں بلکہ مفاہمت میں ہے / تاریخ کا سبق, زابر سعید بدر