انسان: جبلت، تہذیب اور استحصال,زابر سعید بدر
انسان: جبلت، تہذیب اور استحصال
ذیلی سطر: مشرق و مغرب کے فریم ورک سے آگے ایک علمی و فکری بحث
ڈاکٹر زابر سعید بدر
آج فیس بک پر ایک صاحبِ مطالعہ شخص کی ایک طویل تحریر نظر سے گزری۔ تحریر کا بنیادی تھیسس یہ تھا کہ مدارس میں جنسی بے اعتدالی اور بعض دوسرے انحرافات کے پسِ پشت بنیادی عامل ’’جنسی گھٹن‘‘ اور طویل محرومی ہے۔ مصنف نے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ جب انسانی جذبات، خواہشات اور اظہار کو مسلسل دبایا جائے تو وہ کسی نہ کسی صورت میں پھٹ کر سامنے آتے ہیں۔
یہ ایک قابلِ غور نکتہ ہے، لیکن اس کا ایک اہم antithesis بھی سامنے آتا ہے۔
اگر جنسی گھٹن ہی جنسی استحصال کی بنیادی وجہ ہے تو پھر یورپ اور دوسرے نسبتاً آزاد معاشروں میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ وہاں بھی اساتذہ، تعلیمی اداروں کے کارکنوں، مذہبی شخصیات، کوچز اور دوسرے بااختیار افراد کی طرف سے بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ برطانیہ کی Independent Inquiry into Child Sexual Abuse نے اسکولوں میں ایسے واقعات کی تفصیلی تحقیقات کیں، جبکہ WHO اور دیگر عالمی ادارے بھی مختلف معاشروں میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد کو ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنسی گھٹن کا کوئی کردار نہیں۔ یقیناً مسلسل پابندی، خوف، عدمِ اظہار اور سماجی تنہائی بعض غیر صحت مند رویوں کو جنم دے سکتی ہے۔ لیکن اسے اس پیچیدہ مسئلے کی واحد یا بنیادی وجہ قرار دینا شاید درست نہیں۔
اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔
انسان نے تہذیب، قانون، تعلیم، مذہب، اخلاقیات، جمہوریت اور جدید اداروں کے ذریعے اپنے بہت سے جبلی رجحانات کو قابو میں لانے کی کوشش کی ہے، لیکن لالچ، طمع، اقتدار کی خواہش، دوسرے انسان پر غلبہ پانے کی خواہش، استحصال، ملکیت اور اپنی خواہش کو دوسرے کی آزادی پر ترجیح دینا آج بھی انسانی رویوں میں موجود ہیں۔
یہاں سوال صرف جنسی خواہش کا نہیں رہتا؛ سوال طاقت کا بھی ہے۔
ایک استاد کے پاس طالب علم پر اختیار ہے، ایک مذہبی پیشوا کے پاس اپنے پیروکار پر اثر ہے، ایک کوچ کے پاس کھلاڑی پر اختیار ہے، ایک بااثر شخص کے پاس کمزور فرد پر طاقت ہے۔ جب خواہش، موقع، طاقت، اخلاقی کمزوری اور ادارہ جاتی خاموشی ایک جگہ جمع ہوجائیں تو استحصال جنم لے سکتا ہے۔
شاید اسی لیے اس مسئلے کو صرف ’’مشرق کی جنسی گھٹن‘‘ یا ’’مغرب کی جنسی آزادی‘‘ کے خانوں میں رکھنا درست نہیں۔ اگر مغرب میں آزادی کے باوجود یہ مسئلہ موجود ہے اور مشرق میں پابندیوں کے باوجود، تو ہمیں اس کی وجوہات کو زیادہ وسیع انسانی، حیاتیاتی، نفسیاتی، سماجی اور ادارہ جاتی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔
ممکن ہے اس میں انسانی جبلت کا کوئی حصہ ہو، ممکن ہے شخصیت اور ذہنی ساخت اہم کردار ادا کرتی ہو، ممکن ہے طاقت اور اقتدار کا عنصر زیادہ بنیادی ہو، اور ممکن ہے محرومی، ماحول اور سماجی تربیت بھی اسے بڑھاتے ہوں۔
یعنی ’’جنسی گھٹن‘‘ شاید اس مسئلے کی ایک کڑی ہے، پوری زنجیر نہیں۔
اصل بات شاید یہ ہے کہ انسان تہذیب کے اعلیٰ ترین مراحل تک پہنچنے کے باوجود اپنے اندر موجود بعض قدیم خواہشات، لالچ، طمع، غلبے اور استحصال کے رجحانات پر مکمل قابو نہیں پاسکا۔
اس لیے یہ مسئلہ نہ صرف مدارس کا ہے، نہ مشرق کا، نہ مغرب کا۔
یہ بنیادی طور پر انسان اور اس کی نفسیاتی، حیاتیاتی، سماجی اور اخلاقی ساخت کا مسئلہ ہے۔
اور شاید اسی لیے یہ ہماری ابتدائی سوچ سے کہیں زیادہ پیچیدہ مسئلہ ہے۔
صاحب زادہ
محمد زابر سعید بدر
13 اگست 2026

Comments