اشرافیہ کی جنت ہے ہمارا وطن || صاحب زادہ زابر سعید بدر


اشرافیہ کی جنت ہے ہمارا پاکستان

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر 



پاکستان کے بارے میں ایک تلخ مگر سچی بات اب کسی سیاسی جلسے یا جذباتی تقریر کا حصہ نہیں رہی، بلکہ عالمی اداروں کی تحقیق سے ثابت ہو چکی ہے۔ کی رپورٹ Pakistan National Human Development Report 2020 (جاری شدہ اپریل 2021) نے ایک ایسا آئینہ دکھایا ہے جس میں ریاست کا اصل چہرہ صاف نظر آتا ہے—یہ چہرہ عام آدمی کا نہیں، بلکہ اشرافیہ کا ہے۔

یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان میں ایک ایسا معاشی اور سماجی ڈھانچہ قائم ہو چکا ہے جہاں ریاست کی بڑی سہولتیں اوپر کے طبقے کو منتقل ہو رہی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اشرافیہ کو ملنے والی مراعات کی مجموعی مالیت تقریباً 2660 ارب روپے سالانہ ہے، جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا لگ بھگ 7 سے 8 فیصد بنتی ہے۔ یہ کوئی معمولی رقم نہیں؛ یہ وہ سرمایہ ہے جو اگر عوامی فلاح پر خرچ ہو تو ملک کے لاکھوں گھرانوں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی غلط فہمی کو دور کرنا ضروری ہے۔ یہ 2700 ارب روپے براہِ راست خزانے سے نکال کر کسی کو دیے نہیں جاتے، بلکہ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں مراعات مختلف شکلوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ ٹیکس میں چھوٹ دی جاتی ہے، بجلی اور گیس سستے نرخوں پر فراہم کی جاتی ہے، زمین اور وسائل تک آسان رسائی دی جاتی ہے، اور پالیسی سازی ایسے انداز میں کی جاتی ہے کہ مخصوص طبقات کو مسلسل فائدہ پہنچتا رہے۔ یوں ریاست ایک خاموش مگر مؤثر طریقے سے ایک طبقے کو سہارا دیتی رہتی ہے۔

یہ مراعات کن کو ملتی ہیں؟ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ اس نظام سے فائدہ اٹھانے والوں میں کارپوریٹ سیکٹر، جاگیردار طبقہ، بڑے تاجر، سیاسی اشرافیہ، اور طاقتور ادارے شامل ہیں۔ یہ سب مل کر ایک ایسا حلقہ بناتے ہیں جو نہ صرف وسائل پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ پالیسی سازی پر بھی گرفت رکھتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے ماہرین "elite capture" کا نام دیتے ہیں—یعنی وسائل کا ایک محدود طبقے کے ہاتھوں میں سمٹ جانا۔

اس کے برعکس عام آدمی کی حالت دیکھی جائے تو تصویر بالکل مختلف ہے۔ رپورٹ کے مطابق غریب ترین طبقہ سرکاری اخراجات کا صرف 14 فیصد حصہ حاصل کرتا ہے، جبکہ امیر ترین طبقہ 37 فیصد سے زیادہ فوائد سمیٹ لیتا ہے۔ مزید یہ کہ ملک کی کل آمدنی کا تقریباً نصف حصہ صرف امیر ترین 20 فیصد کے پاس ہے، جبکہ نچلے 20 فیصد کے پاس بمشکل چند فیصد رہ جاتا ہے۔ یہ عدم توازن محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ ایک سماجی بحران کی نشاندہی ہے۔

تعلیم اور صحت کے میدان میں یہ فرق اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ امیر طبقہ بہترین نجی تعلیمی اداروں اور جدید ہسپتالوں تک رسائی رکھتا ہے۔ ان کے لیے بیرون ملک علاج اور تعلیم ایک معمول کی بات ہے۔ دوسری طرف ایک عام شہری سرکاری ہسپتال کی لمبی قطار میں کھڑا ہے، جہاں کبھی ڈاکٹر دستیاب نہیں، کبھی دوا۔ سرکاری سکولوں کی حالت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں—بنیادی سہولتوں کی کمی، اساتذہ کی قلت، اور ایک ایسا نظام جو بچوں کو آگے بڑھانے کے بجائے پیچھے دھکیل دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کی اس رپورٹ میں یہ جملہ خاص طور پر نمایاں ہے کہ پاکستان میں امیر اور غریب ایسے رہتے ہیں جیسے دو الگ ممالک ہوں۔ ایک وہ پاکستان ہے جہاں وسائل کی فراوانی ہے، اور دوسرا وہ جہاں بنیادی ضروریات بھی ایک جدوجہد بن چکی ہیں۔

اگر ریاستی ترجیحات کا موازنہ کیا جائے تو صورتحال مزید واضح ہو جاتی ہے۔ ایک طرف اشرافیہ کو ملنے والی مراعات 2660 ارب روپے کے قریب ہیں، اور دوسری طرف غریبوں کے لیے سماجی تحفظ کے پروگرام اس سے کہیں کم وسائل پر چل رہے ہیں۔ گویا ریاست کا جھکاؤ واضح ہے—سہولت اوپر جا رہی ہے اور ضرورت نیچے رہ گئی ہے۔

اس تمام صورتحال کی جڑ کو اگر سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ تین عناصر میں سمٹ جاتی ہے: طاقت، معاشرتی رویے، اور پالیسی۔ طاقتور طبقہ وسائل پر قابض ہے، معاشرہ اس تقسیم کو خاموشی سے قبول کر چکا ہے، اور پالیسیاں اس عدم مساوات کو کم کرنے کے بجائے کئی مواقع پر بڑھا دیتی ہیں۔ یوں ایک ایسا دائرہ بنتا ہے جو ٹوٹنے کے بجائے مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

پاکستان کا اصل مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں، بلکہ ان کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ جب ریاست ایک طبقے کے لیے سہولت اور دوسرے کے لیے امتحان بن جائے تو ترقی کے تمام دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ملک کے پاس کتنا ہے، سوال یہ ہے کہ جو ہے وہ کس کے لیے ہے۔

یہی وہ سوال ہے جو آج بھی جواب کا منتظر ہے، اور شاید اسی میں پاکستان کے مستقبل کا راستہ بھی پوشیدہ ہے۔



Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا