سانس ٹیکس لگائیے اربوں کمائیے / یہی کسر باقی ہے صاحب زادہ زابر سعید بدر


سانس ٹیکس لگائیے اربوں کمائیے



______

یہی کسر باقی ہے

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر  کی یہ ایک طنزیہ تحریر  ہے جو موجودہ معاشی حالات اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں پر ایک تلخ مگر حقیقت پسندانہ تبصرہ پیش کرتی ہے۔”


سانس پر ٹیکس: ایک سنجیدہ مذاق یا مذاق میں سنجیدگی؟


صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر 


پاکستانی حکومت کو شاید اب ایک نیا اور “انقلابی” ٹیکس متعارف کرا دینا چاہیے—سانس ٹیکس۔

آخر انسان اس ملک میں رہتا ہے، سانس لیتا ہے، تو کیوں نہ اس پر بھی ٹیکس لگا دیا جائے؟

ذرا سادہ حساب دیکھتے ہیں:

  • ایک دن میں: 24 گھنٹے
  • ایک گھنٹے میں: 60 منٹ
  • ایک منٹ میں: 60 سیکنڈ

یعنی:

  • ایک دن میں کل سیکنڈ:
    24 × 60 × 60 = 86,400 سیکنڈ

اگر ایک روپے فی سیکنڈ سانس ٹیکس ہو:

  • روزانہ ٹیکس:
    86,400 روپے

  • ماہانہ (30 دن):
    86,400 × 30 = 25,92,000 روپے

  • سالانہ:
    86,400 × 365 = 3,15,36,000 روپے
    (یعنی تقریباً 3 کروڑ 15 لاکھ روپے فی شخص)


اگر فی منٹ ٹیکس لگایا جائے (1 روپیہ فی منٹ):

  • ایک دن میں منٹس:
    24 × 60 = 1,440 منٹ

  • روزانہ: 1,440 روپے

  • ماہانہ: 43,200 روپے

  • سالانہ: 5,25,600 روپے


اگر فی گھنٹہ ٹیکس ہو (1 روپیہ فی گھنٹہ):

  • روزانہ: 24 روپے
  • ماہانہ: 720 روپے
  • سالانہ: 8,760 روپے

طبقاتی انصاف (یا ناانصافی؟)

  • غریب: فی گھنٹہ سانس لے گا
  • متوسط طبقہ: فی منٹ
  • امیر: فی سیکنڈ

یعنی جتنا زیادہ کماؤ، اتنا ہی زیادہ سانس لینے کی سزا!


اب ذرا قومی خزانے کا اندازہ لگائیں

اگر ہم پاکستان کی آبادی تقریباً 24 کروڑ (240,000,000) مان لیں:

اگر صرف 1 روپیہ فی گھنٹہ ٹیکس ہو:

  • ایک شخص سالانہ: 8,760 روپے
  • کل آبادی سے سالانہ:
    8,760 × 240,000,000 =
    2,102,400,000,000 روپے
    (یعنی تقریباً 2100 ارب روپے)

اور اگر فی منٹ ہو؟

  • ایک شخص سالانہ: 5,25,600 روپے
  • کل آبادی:
    = 126,144,000,000,000 روپے
    (یعنی 126 کھرب روپے)

اور اگر فی سیکنڈ ہو؟

  • ایک شخص سالانہ: 3 کروڑ 15 لاکھ
  • پوری آبادی سے:
    = 75,68,64,00,00,00,00,000 روپے
    (یعنی اتنا کہ شاید معیشت خود ہی سانس لینا چھوڑ دے!)

نتیجہ

یہ محض ایک طنز ہے، مگر حقیقت کی ایک جھلک بھی رکھتا ہے۔

ہم پہلے ہی بجلی کے بل میں یونٹ کے علاوہ:

  • سیلز ٹیکس
  • انکم ٹیکس
  • فیول ایڈجسٹمنٹ
  • مختلف سرچارجز

ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر سانس پر بھی ٹیکس لگ جائے تو شاید حیرت نہ ہو۔

یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے:
کیا ہم ایک ایسی معیشت کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں جینا بھی 
مہنگا ہو جائے؟




Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا