جذبات کے غبار میں سچ کہیں گم ہے, صاحب زادہ زابر سعید بدر

 جذبات کے غبار میں سچ کہیں گم ہے

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر 



سہیل وڑائچ صاحب  جو ہمارے سینئر بھی ہیں اور دوست بھی  نے حال ہی میں ہمارے ایک دوست کے ساتھ گفتگو میں ایک ایسا متوازن تجزیہ پیش کیا جو شاید کچھ لوگوں کو غیر مقبول لگے، مگر تاریخ کے حوالے سے اور منطق کے ساتھ بہت واضح تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ جذبات میں بہہ کر ہم حقیقت سے دور چلے جاتے ہیں، جبکہ سچ تو وہی ہے جو سامنے ہے۔

ایران نے جو بھی "قلعے" بنائے تھے، وہ ایک ایک کر کے گر چکے ہیں۔ غزہ میں ٹوٹ گئے، لبنان میں ٹوٹ گئے، لیبیا میں، شام میں، عراق میں اور اب ایران خود میں بھی۔ آخری طاقت کے طور پر صرف امریکہ ہی کھڑا نظر آ رہا ہے۔ سعودی عرب اگر کھڑا ہوا تو شاید اس کا مقابلہ کر سکے، ورنہ باقی سب منظر سے غائب۔

امریکہ کو اب نہ اقوام متحدہ کی ضرورت ہے، نہ نیٹو کی۔ وہ جب چاہتا تھا ان اداروں کو بناتا تھا، مگر اب سمجھتا ہے کہ انہیں "پالنے" کا کوئی فائدہ نہیں۔ یورپ مدد نہیں کر رہا تو پھر امریکہ کیوں انہیں کھلاتا پھرے؟ یہ اس کی سپریم پاور کی نشانی ہے۔ بغداد کے سقوط کی مثال دیکھیں — چنگیز خان کے دور سے لے کر تاتاریوں کے زمانے تک، وقت اہم نہیں ہوتا۔ الٹی میٹ نتیجہ اہم ہوتا ہے۔ مغلوں نے بغداد کو روم دیا یا مسلم سلطنت کو تباہ کیا  تاریخ میں یہ بات یاد رہتی ہے، نہ کہ یہ کہ اس میں کتنے سال لگے۔

آج بھی الٹی میٹ حالات مسلم دنیا کی تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ ہم علم سے دور ہیں، ٹیکنالوجی سے دور ہیں، اے آئی سے دور ہیں، وسائل سے دور ہیں۔ ہم نہ گولی بنا سکتے ہیں، نہ گولا، نہ ٹینک، نہ بارود، نہ جدید اسلحہ۔ ہم انہی ممالک پر منحصر ہیں جن کے خلاف خطاب کرتے پھرتے ہیں۔

اسرائیل نے لبنان میں پیجر ٹیکنالوجی کے ذریعے جو گیم کھیلی، وہ حیران کن تھی۔ ایک چھوٹی سی انڈسٹری ہنگری میں لگائی، حزب اللہ کو پیجر بیچے، اندر بم لگائے، ایک سگنل دیا اور آدھی سے زیادہ قیادت ختم۔ یہ "8200" یونٹ کا کام تھا , صرف سگنلز انٹیلی جنس اور اے آئی پر مبنی۔ حسن نصر اللہ سمیت بہت سے لیڈرز گھر میں بیٹھے ڈرون کا شکار بن گئے۔ یہ کوئی بہادری کی جنگ نہیں، ٹیکنالوجی کی جنگ ہے۔

اب کچھ پاکستانی اور غیر ملکی تجزیہ کار، خاص طور پر انڈیا کے ڈیفنس انیلسٹ (جو مسلم ہيٹر بھی ہیں) کہہ رہے ہیں کہ ایران کے پاس اب بھی بڑا ڈیپت ہے، پرانا سافٹ ویئر استعمال کیا، مزائل ہیں، آخر تک لڑے گا اور اسرائیل کو پہلی بار اتنا نقصان ہوا ہے۔ ٹھیک ہے، مگر جنگ میں پہلا قتل عام ہوتا ہے تو سچ بھی مر جاتا ہے۔ دونوں طرف متضاد دعوے آ رہے ہیں۔ میڈیا شخص کے پاس ویریفائی کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ اس لیے جذبات میں سويپنگ سٹیٹمنٹس دینے سے گریز کرنا چاہیے۔

ایران کی سینٹرل لیڈر شپ ختم ہونے کے بعد انقلابی گارڈز کی چھوٹی لیڈر شپ نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یہ ڈی سنٹرلائزیشن نہیں، انارکی کی طرف قدم ہے۔ شام میں روس آیا تھا، بشار الاسد کو بچانے، مگر کیا ہوا؟ سب فال ہو گیا۔

ٹرمپ نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ "ہم اکیلے کافی ہیں"، مگر اب کہہ رہے ہیں کہ "میں بہت مایوس ہوں" — نارتھ کوریا، جاپان، برطانیہ، فرانس، نیٹو — کوئی ساتھ نہیں دے رہا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اکیلا ہی ساری دنیا پر بھاری ہے۔ نیٹو ٹوٹ رہا ہے تو اس کی ضرورت ہی کیا؟ اقتصادی جنگ ہے یہ۔ امریکہ کہتا ہے یورپ دفاع پر پیسے نہیں خرچ کر رہا، ہم کر رہے ہیں، تو پیسے دو۔

بعض لوگ ایپسٹین فائلز کی بلیک میلنگ کی تھیوری بھی چلا رہے ہیں۔ ویسے مسلمان ہمیشہ سازشوں کا شکار ہوتے ہیں،تاریخ ایک طرف رہی سنتے یہی ہیں کہ ہم کبھی نہیں ہارے۔ ہمارا نظریہ ہے ٹیکنالوجی کا کوئی رول نہیں، بہادری کا رول ہے۔ پرنٹنگ پریس لینے میں تاخیر، مشین نہ بنانا، انجن نہ بنانا  سب کچھ نظر انداز۔ یہ فلاسفیکل باتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مقابلہ ٹیکنالوجی کا ہے، تلواروں کا نہیں۔

اور سب سے بڑا سوال: اگلی باری پاکستان کی ہے؟ 
ہم نیوٹرل ملک ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ پیکٹ، اسرائیل کے ساتھ سفارت کاری نہیں رکھی۔ انڈیا اسرائیل کے ساتھ الائنس بنا رہا ہے تاکہ ہمیں کارنر کرے۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں بھی ہم طاقتور کا ساتھ دیتے رہے۔ عقل طاقتور کے ساتھ، دل کمزور کے ساتھ۔ اگر نشانہ بنے تو دیکھ لیں گے۔ مگر بیوقوفی سے نہیں، عقل سے۔

جذبات کے غبار میں سچ گم ہے۔ ایران کی روحانی فتح ہو چکی، اخلاقی فتح بھی۔ مگر مادی فتح کے لیے ہمیں جہاز، گولے، اے آئی، ٹیکنالوجی چاہیے۔ اس کے بغیر صرف نعرے بازی رہے گی۔

حقیقت پسندی کا وقت ہے، جذباتیت کا نہیں۔ 
انتظار کریں، تصویر واضح ہو گی۔ مگر جو بظاہر نظر آ رہا ہے، وہی حقیقت ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا