گودی میڈیا کی خاموشی اور پاکستان کی گونجتی سفارت کاری, زابر سعید بدر
گودی میڈیا کی خاموشی اور پاکستان کی گونجتی سفارت کاری
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
یہ معاملہ صرف ایک خبر کا نہیں، بلکہ بیانیے کی جنگ کا ہے۔ ایک طرف بھارت کا وہ میڈیا ہے جسے عام زبان میں “گودی میڈیا” کہا جاتا ہے جہاں سچ کو سننے اور ماننے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان کے کردار کا نہ صرف اعتراف نہیں کیا جا رہا بلکہ دانستہ طور پر اسے پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے۔ میں خود دیکھ رہا ہوں کہ بھارت کے کئی نمایاں ٹی وی چینلز اور اخبارات اس پوری سفارتی پیش رفت میں پاکستان کا ذکر تک نہیں کر رہے۔ خبریں اس انداز میں ترتیب دی جا رہی ہیں جیسے ایران نے خود فیصلہ کیا، امریکہ نے خود اعلان کر دیا، اور آبنائے ہرمز خود بخود کھل گئی گویا اس پورے عمل میں پاکستان کہیں موجود ہی نہیں تھا۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے، اور وہ زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ بھارت ہی کے ایک معتبر اخبار The Telegraph India میں سابق سفارت کار T.C.A. Raghavan نے ایک ایسا کالم لکھا ہے جو اس پورے بیانیے کو چیلنج کرتا ہے۔ وہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت اپنے ہمسایہ ممالک، خاص طور پر پاکستان کے حوالے سے اپنی سوچ پر نظرِ ثانی کرے۔ ان کے مطابق بھارت کے اندر ایک عمومی تاثر پیدا کر دیا گیا ہے کہ پاکستان ایک غیر اہم یا ناکام ریاست ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دنیا پاکستان کو اس زاویے سے نہیں دیکھتی جس زاویے سے بھارت کے اندر دیکھا جاتا ہے۔
یہ بات محض ایک رائے نہیں بلکہ زمینی حقائق سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان 25 کروڑ سے زائد آبادی، ایک حساس جغرافیائی محلِ وقوع، منظم عسکری قوت اور ایٹمی صلاحیت کے ساتھ ایک ایسا ملک ہے جسے عالمی سیاست میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب حالیہ بحران میں امریکہ اور ایران کو قریب لانے کی بات ہوئی تو پاکستان نے ایک مؤثر سفارتی کردار ادا کیا۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں کہ ایک شدید نوعیت کے جیو اکنامک تنازعے کو کم از کم وقتی طور پر روکنے میں کردار ادا کیا جائے۔
سابق سفارت کار اپنے مؤقف کو مضبوط کرنے کے لیے تاریخ کا سہارا بھی لیتے ہیں۔ 1915 کی Gallipoli Campaign ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی ملک کو اس کے اپنے قریب واقع تنگ سمندری راستے سے ہٹانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ اس وقت بڑی طاقتیں، تمام تر وسائل کے باوجود، ایک نسبتاً کمزور قوت کے سامنے رک گئیں۔ اسی طرح 1956 کا Suez Crisis یہ دکھاتا ہے کہ کس طرح ایک آبی گزرگاہ کو کنٹرول کر کے ایک فوجی تنازعے کو معاشی بحران میں بدلا جا سکتا ہے، اور طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔
آج یہی حقیقت Strait of Hormuz کے معاملے میں سامنے آ رہی ہے۔ یہ محض پانی کا راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ اسے کنٹرول کرنا یا کھلوانا صرف فوجی طاقت سے ممکن نہیں۔ یہاں جغرافیہ، حکمت عملی اور سفارت کاری ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے اب Donald Trump بھی سمجھنے لگے ہیں کہ ایسے معاملات میں محض دباؤ کافی نہیں ہوتا۔
اصل مسئلہ دراصل perception کا ہے تصور اور حقیقت کے درمیان فاصلہ۔ بھارت کے اندر جو بیانیہ تشکیل دیا گیا ہے، وہ پاکستان کو کمزور، غیر اہم اور تنہا دکھاتا ہے۔ مگر عالمی سطح پر تصویر مختلف ہے۔ وہاں ممالک اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتے ہیں، اور پاکستان کو ایک اہم کھلاڑی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہی وہ تضاد ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جب تک جذبات، تعصبات اور یک طرفہ بیانیے غالب رہیں گے، حقیقت دھندلی ہی رہے گی۔ لیکن جیسے جیسے زمینی حقائق خود کو منواتے ہیں، ویسے ویسے بیانیے بھی بدلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
دنیا طاقت سے ضرور چلتی ہے، مگر صرف طاقت سے نہیں۔ اس کے ساتھ حکمت، جغرافیہ اور بروقت سفارت کاری بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔ اور جو قومیں اس توازن کو سمجھ لیتی ہیں، وہی اصل کھیل میں اپنی جگہ بناتی ہیں۔

Comments