کیا ایک پرخلوص شخص بے وقوف ہوتا ہے دوستو فسکی کی دی پرنس کے کردار مشکن پر مکالمہ
یونیورسٹی کیفے، میز پر خلیفہ کی مشہور نان خطائی رکھی ہے اور چائے کے مگ بھاپ دے رہے ہیں۔ کیفے کا ماحول مودب اور خاموش ہے کیونکہ ڈاکٹر انور احمد کا مکالمہ شروع ہو چکا ہے۔
---
ڈاکٹر انور احمد:
(چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے)
"دوستوفسکی کا ناول 'دی ایڈیٹ' انسانی فطرت کی پیچیدگیوں اور اخلاقی نظام پر ایک بے حد خوبصورت طنز ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار پرنس_مشکن ایک مخلص، سادہ دل اور معصوم شخص ہے۔ لیکن، جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں، اس معاشرتی نظام میں اس کی معصومیت کو ناسمجھی اور بیوقوفی سمجھا جاتا ہے۔"
حفصہ:
(کچھ الجھن میں)
"سر، کیا واقعی پرنس مشکن جیسا خلوص رکھنے والا شخص بیوقوف ہوتا ہے؟ یعنی جو دوسروں کا خیال رکھتا ہو، اور بدلے میں کچھ نہ مانگے، اسے واقعی بیوقوف کہا جا سکتا ہے؟"
ڈاکٹر انور احمد:
(مسکراتے ہوئے)
"یہی تو دوستوفسکی کا نکتہ ہے، حفصہ۔ ہمارے معاشرے میں، جہاں لوگ دھوکہ دہی اور خود غرضی کو ہوشیاری سمجھتے ہیں، وہاں ایک سچے اور خلوص دل انسان کو اکثر بیوقوف کہا جاتا ہے۔ پرنس مشکن کا کردار اس بات کا مظہر ہے کہ سچائی اور معصومیت کس طرح اس دنیا میں نامناسب سمجھی جاتی ہے۔"
آمنہ:
"لیکن سر، دوستوفسکی نے یہ کردار کیوں تخلیق کیا؟ کیا وہ واقعی یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ نیک دل انسان اس معاشرے میں کامیاب نہیں ہو سکتا؟"
ڈاکٹر انور احمد:
"یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ دوستوفسکی انسانی نفسیات اور معاشرتی اصولوں پر گہری نظر رکھتے تھے۔ 'دی ایڈیٹ' میں پرنس مشکن کو اس لیے 'ایڈیٹ' کہا گیا کیونکہ وہ سماجی معیارات پر پورا نہیں اترتا تھا۔ لیکن درحقیقت، وہ ان تمام لوگوں سے بہتر تھا جو اسے کم تر سمجھتے تھے۔ دوستوفسکی کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس تضاد کو واضح کریں، کہ اصل بیوقوف کون ہے، پرنس مشکن یا وہ معاشرہ جو اس کو نہیں سمجھ پاتا۔"
اسی اثناء میں احمد نے نان خطائی کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور اسے چائے میں غوطہ دیا
علی:
"سر، صاحبزادہ زابر سعید بدر صاحب نے بھی اپنی گزشتہ کلاسز میں 'دی ایڈیٹ' پر روشنی ڈالی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ دوستوفسکی نے اس ناول کے ذریعے ہمارے معاشرتی اقدار کو آئینہ دکھایا ہے۔ وہ ہمیشہ عظیم مصنفین کے حوالے اپنے لیکچرز میں دیتے ہیں۔"
ڈاکٹر انور احمد:
(سر ہلاتے ہوئے)
"بالکل درست کہا علی! زابر سعید بدر ایک پر خلوص شخصیت ہیں۔ ان کے لیکچرز میں واقعی ایسی گہرائی ہوتی ہے کہ سامع کو غور و فکر پر مجبور کر دیتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک اعلیٰ صحافی ہیں بلکہ علمی وراثت کے امین بھی ہیں۔"
اس دوران فاطمہ کیفے کے دروازے پر جھجھکتے ہوئے داخل ہوتی ہے اور ایکسکیوز می کہہ کر بیٹھنے کی اجازت مانگتی ہے
ڈاکٹر انور احمد:
"آئیں فاطمہ، تشریف لائیے۔"
فاطمہ:
(کچھ جھجھکتے ہوئے)
"سر، میں کافی دنوں سے آپ کی گفتگو سن رہی تھی، مگر ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ شامل ہوں۔ آج کا ماحول بہت خوشگوار لگا تو میں نے سوچا کہ میں بھی شریک ہو جاؤں۔"
ڈاکٹر انور احمد:
"یہ تو بہت اچھا کیا آپ نے، فاطمہ۔ ہم دوستوفسکی کے ناول *'دی ایڈیٹ'* اور پرنس مشکن پر بات کر رہے تھے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟"
فاطمہ:
(گہرا سانس لیتے ہوئے)
"سر، میں یہ سوچ رہی تھی کہ کیا دوستوفسکی واقعی یہ بتانا چاہتے تھے کہ ایک سچے اور خلوص دل انسان کی معاشرت میں کوئی جگہ نہیں؟"
ڈاکٹر انور احمد:
(سوچتے ہوئے)
"فاطمہ، دوستوفسکی نے اپنی تحریروں میں یہ دکھایا ہے کہ انسانی فطرت کی نرمی اور سادگی کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، اور بگاڑ زدہ معاشرے میں وہ لوگ جو معصوم ہوتے ہیں، انہیں کمزور سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ان کا مقصد یہ بھی تھا کہ ایسے لوگ ہی حقیقی انسانیت کی مثال ہیں، اور شاید طویل مدت میں وہی دنیا کو بدل سکتے ہیں۔"
حفصہ:
"سر، یہ تو واقعی بہت گہری بات ہے۔ تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ خلوص دل اور ایماندار ہوتے ہیں، انہیں اس دنیا میں ہمیشہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟"
ڈاکٹر انور احمد:
"جی حفصہ، یہ مشکلات کا سامنا تو ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ خود کو کبھی شکستہ محسوس نہیں کرتے۔ وہ اپنی انسانیت میں مضبوط رہتے ہیں، اور یہی بات دوستوفسکی ہمیں سکھانا چاہتے ہیں۔"
(اتنے میں کیفے کا ماحول اور بھی خاموش اور مودب ہو جاتا ہے، اور ہر طرف ڈاکٹر انور احمد کی باتوں کی بازگشت سنائی دینے لگتی ہے)
آمنہ:
"سر، وائس چانسلر صاحب نے بھی کل آپ کے لیکچرز کی تعریف کی تھی۔ یہ نشستیں واقعی لاجواب ہیں۔"
ڈاکٹر انور احمد:
(مسکراتے ہوئے)
"یہ سب آپ لوگوں کی دلچسپی کا نتیجہ ہے۔ اور ہاں، دوستوفسکی کی باتوں سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ سچائی اور معصومیت کی ہمیشہ قدر ہونی چاہیے، چاہے دنیا کچھ بھی کہے۔"
مکالمہ جاری رہتا ہے، اور کیفے کا پورا ماحول اس گفتگو میں شامل ہو جاتا ہے۔
Comments