اسرائیلی اخبارات میں عمران خان کی حمایت کا معاملہ
یونیورسٹی کیفے میں گرم کافی کا ایک اور
مگ لایا گیا۔ ڈاکٹر انوار احمد نے اپنی سنہری عینک کے اوپر سے طلبا کی جانب دیکھا اور اپنے مخصوص انداز سے مسکراتے ہوئے کہا، "بھئی، بسکٹ ختم نہ ہو جائیں، یہ کافی کا مزہ بسکٹ کے ساتھ ہی ہے!"
آمنہ، حفصہ، احمد، اور علی کافی کی چسکیاں لینے میں مصروف تھے، لیکن سیاسی گفتگو کا موضوع کافی سے کہیں زیادہ تلخ تھا۔
"تو ڈاکٹر صاحب، یہ عالمی میڈیا #عمران_خان کی حمایت کیوں کر رہا ہے؟" احمد نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا۔
ڈاکٹر انوار نے کافی کا گھونٹ لیا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا، "دیکھو، یہ سب ایک بین الاقوامی کھیل ہے۔ یہ صرف عمران خان کی بات نہیں، بلکہ بین الاقوامی طاقتوں کا کھیل ہے۔ جیسے 30 سال پہلے حکیم محمد سعید اور ڈاکٹر اسرار احمد نے ہمیں خبردار کیا تھا کہ یہ سب نیو ورلڈ آرڈر کا حصہ ہے۔ اور آج ہم جو دیکھ رہے ہیں، وہ انہی باتوں کا نتیجہ ہے۔"
علی نے حیران ہو کر کہا، "لیکن عمران خان تو ہمیشہ اس خاص ملک کے مخالف رہے ہیں، تو یہ باتیں کہاں سے آ رہی ہیں کہ وہ ا س ر ا ئ ی ل کے حمایتی ہیں؟"
ڈاکٹر انوار نے سر ہلایا، "یہی تو سپن ڈاکٹرائن کا کمال ہے۔ بظاہر تو وہ ام ری کہ اور اس رائ ی ل کے مخالف ہیں، لیکن حقیقت میں یہ سب ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ عمران خان نے خود ام ری کی لابی کی مدد سے سیاست میں قدم رکھا تھا، اور اب وہ انہی کی حمایت سے اپنی سیاسی بازی جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"
حفصہ، جو اب تک خاموش تھی، بولی، "لیکن ڈاکٹر صاحب، اس خاص ملک کے اخبارات میں عمران خان کی حمایت کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟"
ڈاکٹر انوار نے مسکراتے ہوئے کہا، "یہ وہی کھیل ہے جس کی پیشگوئی صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر صاحب نے اپنے کئی کالموں میں کی تھی۔ وہ بار بار خبردار کرتے رہے کہ یہ کوئی مقامی مسئلہ نہیں، بلکہ بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کو پاکستان میں لانچ کرنے کا مقصد یہی تھا کہ ملک کو عدم استحکام کا شکار کر کے معاشی بحران میں دھکیل دیا جائے، تاکہ بین الاقوامی مطالبات کو منوایا جا سکے۔"
آمنہ نے بسکٹ اٹھاتے ہوئے سوال کیا، "تو اس کا مطلب ہے کہ یہ سب ایک طے شدہ کھیل ہے؟"
ڈاکٹر انوار نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا، "بالکل! اور اب ( اس رائ ی لی) میڈیا کی حمایت کے بعد بین الاقوامی لابی بھی کھل کر عمران خان کے حق میں سامنے آ چکی ہے۔ پچھلے سال امریکی سینیٹ کے 60 اراکین نے بھی ان کی حمایت کی، جن میں زیادہ تر ی ہ ودی اور ہندو تھے۔ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ یہ کھیل صرف پاکستان کا نہیں، بلکہ نیو ورلڈ آرڈر کا حصہ ہے۔"
علی نے حیرت سے پوچھا، "تو اب کیا ہوگا؟"
ڈاکٹر انوار نے مسکراتے ہوئے کہا، "اب آگے کا کھیل چین کے ہاتھ میں ہے۔ چین نے حالیہ سیاسی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ خطہ دو عالمی طاقتوں کی جنگ کا میدان بن چکا ہے۔ جب ہم پانامہ کیس میں الجھے ہوئے تھے، تو زابر سعید بدر مسلسل خبردار کرتے رہے کہ پانامہ کو ایک مقامی مسئلہ نہ سمجھو، یہ ایک بین الاقوامی سازش ہے۔"
احمد نے ہنستے ہوئے کہا، "ڈاکٹر صاحب، کافی ختم ہو گئی لیکن بات ابھی باقی ہے!"
ڈاکٹر انوار نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "ہاں، اگلی نشست میں انشاءاللہ چین کے کردار اور سی پیک پر بات کریں گے۔ اور یہ بھی دیکھیں گے کہ کیسے پاکستان میں بعض سیاسی پارٹیاں بین الاقوامی ایجنڈے کا حصہ بنی ہیں۔ فی الحال، بسکٹ کھاؤ اور لطف اندوز ہو!"
حفصہ نے کہا، "ڈاکٹر صاحب، کوئی شعر سنائیں!"
ڈاکٹر انوار نے علامہ اقبال کا شعر سنایا:
"ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں!"
---
یہ مکالمہ پاکستان کی سیاست اور بین الاقوامی حالات پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ طلبا اور استاد کے درمیان ایک دلچسپ اور خوشگوار گفتگو کو پیش کرتا ہے۔
نوٹ:
اس مکالمے میں اپ کو ایک خاص ملک کے لیے ایسا محسوس ہوگا کہ اس ملک کا نام لینے سے گریز کیا گیا ہے اس کی وجہ ان فلٹرز کا ہونا ہے جو ان تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر موجود ہیں جس کے بعد دیکھا گیا ہے کہ فوری طور پر فیس بک کو بلاک کر دیا جاتا ہے لیکن امید ہے کیونکہ اس مکالمے کا مخاطب وہ افراد ہیں جو ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اس لیے وہ اس خصوصی احتیاط کو درگزر فرمائیں گے اور مکالمہ کا صحیح ابلاغ ہو پائے گا
Comments