مطالعہ کی اہمیت پر مکالمہ
یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کا لان۔ ستمبر کا آخر ہے، موسم میں ابھی تک حبس موجود ہے لیکن ہلکی سی خنکی بھی محسوس ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر انوار احمد چند طلباء کے ساتھ ایک نشست میں مصروف ہیں۔ ان کے ارد گرد چند طلباء موجود ہیں: اقبال، سعید، رابعہ اور اسماء۔ گفتگو کا آغاز مطالعے کی اہمیت پر ہو چکا ہے، اور آہستہ آہستہ مزید طلباء بھی اس مکالمے کا حصہ بننے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔

مطالعہ کی اہمیت پر مکالمہ
ڈاکٹر انوار احمد: (مسکراتے ہوئے)
"اقبال، سعید، رابعہ، اسماء، مجھے خوشی ہوئی کہ آج آپ لوگ مطالعے پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ ویسے میں آپ کو بتاؤں، صاحبزادہ زابر سعید بدر صاحب نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں روزنامہ جنگ میں مطالعے کے بارے میں جو کچھ لکھا، وہ
انتہائی متاثر کن تھا۔"
اقبال:
"سر، وہ مضمون میں نے بھی پڑھا! انھوں نے لکھا تھا کہ مطالعہ محض معلومات جمع کرنے کا عمل نہیں، بلکہ یہ انسان کی شخصیت اور سوچ کی تشکیل کرتا ہے۔"
رابعہ:
"بالکل! اور سر، جیو نیوز پر بھی ان کے بارے میں ایک رپورٹ دیکھی تھی جس میں مطالعے کے اصول اور دنیا کے مشہور فلسفیوں کی رائے شامل تھی، چاہے وہ مشرق کے ہوں یا مغرب کے۔"
ڈاکٹر انوار احمد:
"یہی تو بات ہے! زابر سعید بدر صاحب ہمیشہ کہتے ہیں کہ انسان اپنی سوچ اور خیالات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جس طرح آپ جو کچھ کھاتے ہیں، وہ آپ کے جسم کا حصہ بنتا ہے، بالکل اسی طرح جو کچھ آپ پڑھتے ہیں، وہ آپ کی سوچ کا حصہ بن جاتا ہے۔"
اسماء:
"سر، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم پڑھتے تو ہیں، مگر یاد نہیں
رہتا۔ پھر اس کا کیا فائدہ؟"
ڈاکٹر انوار احمد: (مسکراتے ہوئے)
"یہی سوال میں نے بھی ایک بار اپنے استاد سے کیا تھا، اور انھوں نے مجھے ایک کھجور دے کر کہا تھا، ’اسے کھاؤ اور بتاؤ، کیا تمہیں اس کا ذائقہ یاد رہے گا؟‘ میں نے کہا، شاید نہیں۔ تو انھوں نے کہا، ’لیکن یہ کھجور تمہارے جسم کا حصہ بن چکی ہے، اور اب اس کا اثر تمہارے وجود پر ہمیشہ رہے گا۔‘ یہی حال مطالعے کا ہے۔ آپ جو کچھ پڑھتے ہیں، وہ آپ کی سوچ، آپ کے نظریات، اور آپ کی شخصیت میں کہیں نہ کہیں اپنا اثر چھوڑ جاتا ہے
چند مزید طلباء آ کر بیٹھ جاتے ہیں، کچھ نوٹس لے رہے ہیں، کچھ موبائل فون سے ریکارڈنگ کر رہے ہیں)
ڈاکٹر انوار احمد: (زیر لب مسکراتے ہوئے)
"لیکن بھئی، ٹک ٹاک نہ بنانا۔ سنجیدہ ویڈیو بنانا، مجھے یہ ٹک ٹاک سٹائل بالکل پسند نہیں!"
(سب ہنستے ہیں)
سعید:
"سر، مطالعہ انسان کی فکر کو کیسے بدلتا ہے؟"
ڈاکٹر انوار احمد:
"مطالعہ ایک ایسا عمل ہے جو آپ کے ذہن کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ مثلاً، جب آپ مشرقی فلسفے کے ساتھ مغربی فلسفے کا مطالعہ کرتے ہیں، تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کو سمجھنے کے مختلف طریقے ہیں۔ مطالعہ ہمیں ایک جامع اور عمیق سوچ کا حامل بناتا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو انسان کی فکری نشوونما کرتی ہے۔ جیسے زابر سعید بدر صاحب بھی کہتے ہیں، انسان کی شخصیت اس کی سوچ کا پرتو ہوتی ہے، اور یہ سوچ مطالعے سے بنتی ہے۔"
رابعہ:
"سر، کیا اس کا مطلب ہے کہ اگر ہم اچھا مطالعہ کریں تو ہم بہتر انسان بن سکتے ہیں؟"
ڈاکٹر انوار احمد:
"بالکل! آپ جو کچھ پڑھتے ہیں، وہ آپ کی زندگی کا حصہ بنتا ہے۔ کتابیں انسان کی زندگی کو نئی روشنی میں دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں، وہ آپ کے اخلاق، علم، اور حتی کہ آپ کے بولنے اور لکھنے کے انداز کو بھی نکھارتی ہیں۔ اسی لیے، زابر صاحب ہمیشہ کہتے ہیں کہ مطالعہ محض وقت کا ضیاع نہیں، بلکہ یہ انسان کی فکر کو نیا رخ دینے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔"
اتنے میں چند طالب علم کیفے سے چائے لے آتے ہیں۔ سب
چائے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں
ڈاکٹر انوار احمد: (چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے)
"مجھے خوشی ہے کہ آپ سب مطالعے کی اہمیت کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ دیکھو، ابھی ہم چار پانچ لوگ بیٹھے تھے، اور اب ہمارے ارد گرد 30-40 طالب علم جمع ہو چکے ہیں، سب یہی جاننا چاہتے ہیں کہ کتابیں کیوں پڑھنی چاہئیں، اور مطالعہ کیسے کیا جائے۔"
اسماء:
"سر، موسم بھی تو آج خوبصورت ہے، ستمبر کا آخری حصہ، ہلکی خنکی اور چائے کا مزہ بھی!"
ڈاکٹر انوار احمد:
"جی، چائے تو ہر موسم میں لطف دیتی ہے! لیکن یاد رکھو، مطالعہ بھی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے، یہ آپ کو وہ چیزیں سکھاتا ہے جو زندگی میں ہر موسم کے ساتھ چلنے کے قابل بناتی ہیں۔"
سب طالب علم چائے پیتے ہوئے مسکراتے ہیں اور اپنی گفتگو میں مگن ہو جاتے ہیں۔
صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر
#زابرسعیدانسٹیوٹ_برائےعلوم_ابلاغ_عامہ
انتہائی متاثر کن تھا۔"
اقبال:
"سر، وہ مضمون میں نے بھی پڑھا! انھوں نے لکھا تھا کہ مطالعہ محض معلومات جمع کرنے کا عمل نہیں، بلکہ یہ انسان کی شخصیت اور سوچ کی تشکیل کرتا ہے۔"
رابعہ:
"بالکل! اور سر، جیو نیوز پر بھی ان کے بارے میں ایک رپورٹ دیکھی تھی جس میں مطالعے کے اصول اور دنیا کے مشہور فلسفیوں کی رائے شامل تھی، چاہے وہ مشرق کے ہوں یا مغرب کے۔"
ڈاکٹر انوار احمد:
"یہی تو بات ہے! زابر سعید بدر صاحب ہمیشہ کہتے ہیں کہ انسان اپنی سوچ اور خیالات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جس طرح آپ جو کچھ کھاتے ہیں، وہ آپ کے جسم کا حصہ بنتا ہے، بالکل اسی طرح جو کچھ آپ پڑھتے ہیں، وہ آپ کی سوچ کا حصہ بن جاتا ہے۔"
اسماء:
"سر، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم پڑھتے تو ہیں، مگر یاد نہیں
رہتا۔ پھر اس کا کیا فائدہ؟"
ڈاکٹر انوار احمد: (مسکراتے ہوئے)
"یہی سوال میں نے بھی ایک بار اپنے استاد سے کیا تھا، اور انھوں نے مجھے ایک کھجور دے کر کہا تھا، ’اسے کھاؤ اور بتاؤ، کیا تمہیں اس کا ذائقہ یاد رہے گا؟‘ میں نے کہا، شاید نہیں۔ تو انھوں نے کہا، ’لیکن یہ کھجور تمہارے جسم کا حصہ بن چکی ہے، اور اب اس کا اثر تمہارے وجود پر ہمیشہ رہے گا۔‘ یہی حال مطالعے کا ہے۔ آپ جو کچھ پڑھتے ہیں، وہ آپ کی سوچ، آپ کے نظریات، اور آپ کی شخصیت میں کہیں نہ کہیں اپنا اثر چھوڑ جاتا ہے
چند مزید طلباء آ کر بیٹھ جاتے ہیں، کچھ نوٹس لے رہے ہیں، کچھ موبائل فون سے ریکارڈنگ کر رہے ہیں)
ڈاکٹر انوار احمد: (زیر لب مسکراتے ہوئے)
"لیکن بھئی، ٹک ٹاک نہ بنانا۔ سنجیدہ ویڈیو بنانا، مجھے یہ ٹک ٹاک سٹائل بالکل پسند نہیں!"
(سب ہنستے ہیں)
سعید:
"سر، مطالعہ انسان کی فکر کو کیسے بدلتا ہے؟"
ڈاکٹر انوار احمد:
"مطالعہ ایک ایسا عمل ہے جو آپ کے ذہن کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ مثلاً، جب آپ مشرقی فلسفے کے ساتھ مغربی فلسفے کا مطالعہ کرتے ہیں، تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کو سمجھنے کے مختلف طریقے ہیں۔ مطالعہ ہمیں ایک جامع اور عمیق سوچ کا حامل بناتا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو انسان کی فکری نشوونما کرتی ہے۔ جیسے زابر سعید بدر صاحب بھی کہتے ہیں، انسان کی شخصیت اس کی سوچ کا پرتو ہوتی ہے، اور یہ سوچ مطالعے سے بنتی ہے۔"
رابعہ:
"سر، کیا اس کا مطلب ہے کہ اگر ہم اچھا مطالعہ کریں تو ہم بہتر انسان بن سکتے ہیں؟"
ڈاکٹر انوار احمد:
"بالکل! آپ جو کچھ پڑھتے ہیں، وہ آپ کی زندگی کا حصہ بنتا ہے۔ کتابیں انسان کی زندگی کو نئی روشنی میں دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں، وہ آپ کے اخلاق، علم، اور حتی کہ آپ کے بولنے اور لکھنے کے انداز کو بھی نکھارتی ہیں۔ اسی لیے، زابر صاحب ہمیشہ کہتے ہیں کہ مطالعہ محض وقت کا ضیاع نہیں، بلکہ یہ انسان کی فکر کو نیا رخ دینے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔"
اتنے میں چند طالب علم کیفے سے چائے لے آتے ہیں۔ سب
چائے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں
ڈاکٹر انوار احمد: (چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے)
"مجھے خوشی ہے کہ آپ سب مطالعے کی اہمیت کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ دیکھو، ابھی ہم چار پانچ لوگ بیٹھے تھے، اور اب ہمارے ارد گرد 30-40 طالب علم جمع ہو چکے ہیں، سب یہی جاننا چاہتے ہیں کہ کتابیں کیوں پڑھنی چاہئیں، اور مطالعہ کیسے کیا جائے۔"
اسماء:
"سر، موسم بھی تو آج خوبصورت ہے، ستمبر کا آخری حصہ، ہلکی خنکی اور چائے کا مزہ بھی!"
ڈاکٹر انوار احمد:
"جی، چائے تو ہر موسم میں لطف دیتی ہے! لیکن یاد رکھو، مطالعہ بھی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے، یہ آپ کو وہ چیزیں سکھاتا ہے جو زندگی میں ہر موسم کے ساتھ چلنے کے قابل بناتی ہیں۔"
سب طالب علم چائے پیتے ہوئے مسکراتے ہیں اور اپنی گفتگو میں مگن ہو جاتے ہیں۔
صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر
#زابرسعیدانسٹیوٹ_برائےعلوم_ابلاغ_عامہ
Comments