جب سچ اور جھوٹ کا فرق ختم ہوتا ہے /صاحب زادہ زابر سعید بدر
جھوٹ کی نفسیات
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
ہنّاآرنٹ (1906-1975) ایک مشہور جرمن نژاد فلسفی تھیں جنہوں نے سیاست، فکریات، اور کلچر کے بارے میں اہم تصورات پیش کیے۔ وہ نازی حکومت کے دوران جرمنی سے فرار ہو کر امریکہ آئیں اور یہاں انہوں نے فلسفہ اور سیاسی سائنس کی تعلیم دی۔ آرنٹ کی سب سے مشہور کتابوں میں"The Origins of Totalitarianism" (1951) اور The Human Condition" (1958) شامل ہیں، جنہوں نے بیسویں صدی کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔
جھوٹ اور سچائی کے بارے میں ان کے خیالات خاص طور پر ان کی کتاب "Crises of the Republic" (1972) میں نظر آتے ہیں، جہاں انہوں نے "Lying in Politic" نامی مضمون میں جھوٹ اور سیاسی طاقت کے درمیان تعلق کو واضح کیا۔ اس میں وہ اس بات پر روشنی ڈالتی ہیں کہ کس طرح مسلسل جھوٹ بول کر عوام کو الجھن میں ڈال دیا جاتا ہے، تاکہ آخر کار کوئی بھی کسی بات پر یقین نہ کرے۔ اسی طرح، ان کی دوسری مشہور تصانیف میں "The Life of the Mind" (1978) اور "On Revolution" (1963) بھی شامل ہیں، جن میں انہوں نے انسانی فطرت اور سیاسی اصولوں کا عمیق تجزیہ کیا۔
آرنٹ کے نظریات کو اگر ہمارے معاشرے پر لاگو کیا جائے، تو یہ کہنا درست ہوگا کہ ہم ایک ایسے دور کا سامنا کر رہے ہیں جہاں جھوٹ ایک عمومی رواج بن چکا ہے۔ حیرت انگیز طور پر، ہم اپنے آپ کو ایک اسلامی معاشرہ کہتے ہیں، لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح فرمانات کے باوجود جھوٹ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کے بارے میں فرمایا: "منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے" (صحیح بخاری، کتاب الإیمان، حدیث نمبر 33)۔
اس واضح تنبیہ کے باوجود، ہمارا معاشرہ اس برائی کو اپناتا چلا جا رہا ہے۔ جھوٹ نہ صرف ایک انفرادی برائی ہے بلکہ اجتماعی طور پر بھی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہم نے جھوٹ بولنا اور جھوٹے پروپیگنڈا کو اپنے قومی شعور کا حصہ بنا لیا ہے، جس کی وجہ سے سچائی کی تمیز ختم ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وہ فکری بحران ہے جس کی طرف ہنّا آرنٹ اشارہ کرتی ہیں کہ جب ایک معاشرہ سچ اور جھوٹ میں فرق نہ کر سکے، تو وہ اپنے اخلاقی اصولوں کو بھی کھو دیتا ہے۔
ہنّا آرنٹ کے نظریات ہمیں اس گہرے مسئلے کی طرف لے جاتے ہیں جو آج کے دور میں خاص طور پر ہمارے معاشرے کو درپیش ہے—جھوٹ کی معاشرتی قبولیت اور اس کا وسیع پھیلاؤ۔ آرنٹ کا کہنا تھا کہ جھوٹ کا مقصد صرف کسی ایک غلطی پر عوام کو قائل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ جھوٹ کے تسلسل سے ایسا ماحول پیدا کیا جاتا ہے جہاں عوام کسی بھی حقیقت پر یقین کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ وہ معاشرتی بحران کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس میں سچ اور جھوٹ کے درمیان تمیز ختم ہو جاتی ہے، اور نتیجتاً اخلاقی اصول بھی معدوم ہو جاتے ہیں۔
یہ فکری جمود اور شعوری زوال کا عمل خاص طور پر اس وقت خطرناک ہوتا ہے جب معاشرہ سچ اور جھوٹ کی بنیادی پہچان سے محروم ہو جائے۔ پاکستان میں پچھلے چند سالوں میں جھوٹ اور پروپیگنڈا کا ایسا جال بُنا گیا ہے کہ مختلف گروہ ایک دوسرے کو مسلسل جھوٹا سمجھتے ہیں، اور یوں حقیقت کے قریب پہنچنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ ہر ایک اپنی اپنی “حقیقت” میں جکڑا ہوا ہے، اور یوں جھوٹ کی پولرائزیشن نے معاشرتی ترقی کے سفر کو روک دیا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ قومی شعور اجتماعی موت کا شکار ہو رہا ہے۔ جب عوام کو یہ یقین ہو جائے کہ سچ اور جھوٹ میں فرق ممکن نہیں، تو فیصلہ سازی کی صلاحیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب معاشرتی شعور کے ساتھ جو چاہے کیا جا سکتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں اس مسئلے کو حل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے: جھوٹ کو پہچاننا، سچائی کو اپنانا، اور شعوری طور پر اس بات کی کوشش کرنا کہ ہم ذاتی یا گروہی مفادات کی خاطر جھوٹ کے جال میں نہ پھنسیں۔ ہمیں بحیثیت قوم سچ کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، ورنہ ہماری ترقی کا عمل ہمیشہ کے لیے رک جائے گا، اور ہم کبھی بھی اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار نہیں لا سکیں گے۔
اس فکری انتشار کا حل سچائی اور اخلاقی اصولوں کی طرف واپس لوٹنے میں ہے، جس کی بنیاد ہمارے دین اسلام میں مضبوطی سے رکھی گئی ہے۔ جھوٹ کے پھیلاؤ کو روک کر ہی ہم ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
#صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر
#زابرسعیدانسٹیوٹ_برائےعلوم_ابلاغ_عامہ

Comments