صحافت سے ابلاغیات تک استاد اور شاگردوں میں مکالمہ

یونیورسٹی_کیفے_ٹیریا میں پروفیسر ڈاکٹر محمد انوارسعید اپنے چند سٹوڈنٹس کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ گرما گرم چائے کے کپ سامنے رکھے ہیں اور موضوع گفتگو ملک کے نامور صحافی، محقق اور استاد، صاحبـــــــــزادہ محمد زابر سعید بدر کی 
شخصیت اور کارنامے ہیں۔




ڈاکٹر انوار سعید:
"بھئی، آج ہم ایک ایسی شخصیت پر بات کریں گے جو صحافت، ابلاغیات، اور تحقیق میں اپنی خاص پہچان رکھتی ہے۔ جناب زابر سعید بدر صاحب کے کام کو اگر ایک لفظ میں بیان کرنا ہو، تو میں کہوں گا 'انسائیکلوپیڈک'۔ ان کا ذہن واقعی ایک علمی خزانہ ہے!"

احمد (پر جوش انداز میں):
"سر! آپ ان کے کن کاموں کی بات کر رہے ہیں؟ زابر سعید صاحب کے بارے میں تو بہت کچھ سنا ہے، خاص طور پر ان کی کتابوں کے حوالے سے۔"

ڈاکٹرانوار سعید: 
"بالکل، احمد! ان کی کتابیں صرف معلومات کا ذریعہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی اور صحافتی شعور کا عکس ہیں۔ تم نے 'صحافت سے ابلاغیات تک' پڑھی ہے؟ یہ وہ کتاب ہے جس پر ڈاکٹر انور سدید نے بھی تبصرہ کیا تھا اور کہا تھا کہ زابر سعید کا ذہن انسائیکلوپیڈیا جیسا ہے۔"

حفصہ (مسکراتے ہوئے):  
"ہاں، سر! آپ نے بتایا تھا کہ #انورسدید صاحب نے 82 سال کی عمر میں یہ تبصرہ لکھا تھا۔ کیا وہ اس کتاب سے واقعی اتنے متاثر ہوئے؟"

ڈاکٹر انوار سعید:
"حفصہ، صرف متاثر نہیں، بلکہ انہوں نے اس کتاب کو ایک نادر کاوش قرار دیا۔ اس میں زابر سعید صاحب نے #صحافت کے آغاز سے لے کر انٹرنیٹ کی وسعتوں تک کا تجزیہ کیا ہے، وہ بھی خالص پاکستانی زاویے سے۔ اور پہلی بار کسی کتاب میں مغل دور میں صحافت کا ذکر بھی کیا۔"

امنہ (حیرت سے):  
"سر! #مغل_دورکی_صحافت؟ یہ تو واقعی نیا پہلو ہے۔ آپ اس بارے میں کچھ اور بتا سکتے ہیں؟"

ڈاکٹر انوار سعید:  
"جی بالکل! زابر سعید صاحب کی تحقیق میں ایک باب موجود ہے جو مغل دور میں #وقائع_نگاری اور خبر رسانی کو بیان کرتا ہے۔ کسی اور کتاب میں یہ پہلو پہلے کبھی سامنے نہیں آیا تھا۔ اور اسی باب کو مزید تفصیل میں لکھا جا رہا ہے، جو ان کی آئندہ کتاب 'شاہان مغلیہ اور صحافت' میں شامل ہوگا۔"

علی (دلچسپی سے):  
"سر، یہ کتاب کب شائع ہو رہی ہے؟"

ڈاکٹر انوار سعید:  
"انشا اللہ جلد۔ لیکن یہ بتاؤ، زابر سعید کی 'صحافت سے ابلاغیات تک' کا پہلا ایڈیشن کب منظر عام پر آیا؟"

احمد: 
"2009 میں، سر!"

ڈاکٹر انوار سعید (مسکراتے ہوئے):  
"بالکل صحیح! اور اس میں پہلی بار 200 سال پرانے اخبارات کے عکس شامل کیے گئے جو ان کی ذاتی لائبریری سے ملے، اور کچھ پنجاب پبلک لائبریری، دیال سنگھ، اور پنجاب یونیورسٹی لائبریری سے۔"

حفصہ: 
"سر، زابر سعید صاحب نے تو بین الاقوامی حوالوں کو بھی اپنی تحقیق کا حصہ بنایا ہوگا؟"

ڈاکٹر انوار سعید:  
"جی، حفصہ۔ انہوں نے انڈیا سے بھی حوالہ جات کے لیے کتابیں منگوائیں۔ ان کی محنت کا یہ عالم ہے کہ آرکائیو کی تلاش کے دوران انہیں ڈسٹ الرجی بھی ہو گئی ۔"

#امنہ (مسکراتے ہوئے):  
"سر، کیا یہ کتاب نصاب میں بھی شامل ہے؟"

ڈاکٹر انوار سعید: 
"ہاں، اللہ کی رحمت سے ان کی یہ کتاب اور انگریزی ایڈیشن Media History, Laws & Ethics دونوں نصاب کا حصہ ہیں۔"

#علی: 
"سر، زابر سعید صاحب کے اساتذہ میں  کون کون نمایاں ہیں؟"

ڈاکٹر انوار سعید:  
"پاکستان میں بابائے صحافت سمجھے جانے والے پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام خورشید پروفیسر ڈاکٹر مسکین علی حجازی, پروفیسر ڈاکٹر شفیق جالندھری پروفیسر ڈاکٹر مجاہد علی منصوری,پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن, پروفیسر ڈاکٹر عفیرہ حامد علی, پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ,پروفیسر ڈاکٹر احسن اختر ناز, پروفیسر ڈاکٹر وقار ملک اور دیگر شامل ہیں سب سے اہم بات یہ ہے کہ صحافت پر ڈاکٹر عبدالسلام خورشید اور ڈاکٹر مسکین علی حجازی  نے 30/ 40 سال پہلے گراں قدر کام کیا اور زابر سعید صاحب نے ان کے کام کو مزید اگے بڑھایا اور ان کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر طاہر مسعود اور ڈاکٹر افتخار سے بھی رہنمائی لی۔ اور جناب ڈاکٹر سلیم اختر اور ڈاکٹر انور سدید کے مشورے بھی شامل حال رہے۔"

#احمد (حیرت سے):
"سر، واقعی زابر سعید صاحب نے تو ایک پورا علمی سفر طے کیا ہے!"

ڈاکٹر انوار سعید:  
"جی بالکل! اور اس علمی سفر میں ان کی کتابیں 'The Voyage of Mass Communication'، 'اردو صحافت تاریخ و فن' اور 'میڈیا قوانین اور ضابطہ اخلاق' بھی شامل ہیں۔ ان کی ایک اور زیر طبع کتاب 'شاہان مغلیہ اور صحافت' بھی بہت جلد منظر عام پر آنے والی ہے۔"

#حفصہ:
"سر، زابر سعید صاحب کی 60 سے زیادہ کتابیں ہیں، کیا ان کا کوئی خاص موضوع ہوتا ہے؟"

ڈاکٹر انوار سعید:
"ان کی کتابوں میں صحافت، ابلاغیات، نفسیات، تعلقات عامہ، اور سیاسیات جیسے موضوعات پر بہت زیادہ کام موجود ہے۔ ان کے ہزاروں کالم اور مضامین بھی ملکی اور بین الاقوامی اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔"

#احمد (مزاحیہ انداز میں):
"سر، اتنی ساری کتابیں! ہمارے جیسے طالب علم تو ایک تھیسس لکھنے میں ہی تھک جاتے ہیں!"

ڈاکٹر انوار سعید (ہنستے ہوئے):  
"احمد، یہ سچی لگن اور محنت کا نتیجہ ہے۔ زابر سعید صاحب کے کام کو پڑھو تو پتا چلے گا کہ کس قدر تحقیق اور علم کا سمندر ان کی تحریروں میں بہتا ہے۔"

امنہ:
"سر، ہمیں بھی ایسی شخصیات سے سیکھنا چاہیے!"

ڈاکٹر انوار سعید:
"بالکل، اور ان کی مثال سے یہی سیکھنے کو ملتا ہے کہ علم کی جستجو کبھی ختم نہیں ہونی چاہیے۔" 

اس بات پر تمام سٹوڈنٹس نے پروفیسر صاحب کی بات کو گہرائی سے سمجھا اور زابر سعید صاحب کی علمی محنت کو سراہا۔

#زابرسعیدانسٹیوٹ_برائےعلوم_ابلاغ_عامہ

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا