یوم اساتذہ پر ایک پرمغز مکالمہ

 یوم اساتذہ پر ایک پر مغز مکالمہ


صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر 

__________________


ڈاکٹر رباز سعید: (مسکراتے ہوئے) "السلام علیکم سب کو، آج کا دن خاص ہے، ٹیچرز ڈے ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ کو ایک کہانی سناؤں جس سے آپ سب کو زندگی کا ایک اہم سبق ملے۔ اس کہانی کا مقصد آپ کو یہ سکھانا ہے کہ آپ کس طرح بغیر کسی کو نقصان پہنچائے، بغیر کسی سے حسد کیے، دوسروں سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔"


(طلبا مکمل خاموشی سے ڈاکٹر سعید کی طرف دیکھ رہے ہیں، ڈاکٹر سعید بلیک بورڈ کی طرف بڑھتے ہیں۔)


ڈاکٹر رباز سعید: "چند سال پہلے، میں ایک وزیٹنگ پروفیسر کی کلاس میں بیٹھا تھا، بالکل اسی طرح جیسے آپ سب آج بیٹھے ہیں۔ وہ کلاس میں آئے، ایک لفظ کہے بغیر انہوں نے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچی اور ہم سب سے پوچھا کہ اسے چھوئے بغیر کیسے چھوٹا کیا جائے؟"


علی:(حیرانی سے) "چھوئے بغیر؟ یہ تو ناممکن ہے، سر!"


ڈاکٹر رباز سعید:(مسکراتے ہوئے) "بالکل ایسا ہی ہم نے بھی سوچا تھا۔ لیکن پروفیسر انصاری نے بغیر لکیر کو چھوئے اس کے نیچے ایک بڑی لکیر کھینچ دی، اور یوں پہلی لکیر خود بخود چھوٹی ہو گئی۔"


وجیہہ: (تعجب سے) "واہ، کیا بات ہے! یہ تو بہت آسان طریقہ تھا۔"


ڈاکٹر رباز سعید:"یہی تو سبق ہے۔ ہمیں دوسروں کو نیچا دکھانے کی بجائے خود کو بہتر بنانا ہے۔ اپنے اندر صلاحیتوں کو بڑھاؤ، محنت کرو اور آگے بڑھو، بغیر کسی کے خلاف سازش کیے یا ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالے۔"


(طلبا غور سے سن رہے ہیں، ڈاکٹر سعید دوبارہ بلیک بورڈ کی طرف جاتے ہیں اور وہاں ایک سفید کاغذ چسپاں کرتے ہیں جس کے درمیان ایک سیاہ نقطہ بنا دیتے ہیں۔)


ڈاکٹر رباز سعید:"اب آپ سب کو یہ کاغذ دیکھنا ہے اور بتانا ہے کہ آپ کو کیا نظر آتا ہے؟"


عبدالرحمن: "سر، ایک سیاہ نقطہ۔"


سحر:"جی ہاں، سر، مجھے بھی سیاہ نقطہ ہی دکھائی دے رہا ہے۔"


ڈاکٹر رباز سعید: "حیرت کی بات ہے کہ اتنا بڑا سفید کاغذ کسی کو نہیں دکھائی دیا، لیکن ایک چھوٹا سا سیاہ نقطہ سب نے فوراً دیکھ لیا۔ یہ ہماری زندگی کا دوسرا سبق ہے۔ ہم اکثر دوسروں کی خامیوں پر توجہ دیتے ہیں، ان کی اچھائیاں نظرانداز کر دیتے ہیں۔"


احمد:"یہ تو بالکل درست بات ہے، سر! لوگ ہمیشہ کسی کی ایک غلطی کو پکڑ لیتے ہیں، اس کی ساری محنت اور اچھائیاں بھول جاتے ہیں۔"


ڈاکٹر رباز سعید: "بلکل، اسی لیے آپ کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ لوگ کیا کہیں گے، اس پر زیادہ توجہ مت دیں۔ آپ ہر کسی کو خوش نہیں کر سکتے۔ آپ کا مقصد ہونا چاہیے کہ آپ خود بہتر سے بہتر بنیں اور آگے بڑھیں، بغیر کسی کی راہ میں رکاوٹ بنے۔"


(کلاس میں ہلکی ہلکی سرگوشیاں شروع ہو جاتی ہیں، طلبا ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ لاہور کی ہلکی خنکی اور حبس کا اثر ماحول میں محسوس ہو رہا ہے۔)


نظم: "سر، یہ بات تو سچ ہے، لیکن آپ نے کہا کہ چین نے اس فلسفے پر عمل کیا ہے؟"


ڈاکٹر رباز سعید: "ہاں نظم، چین نے یہی کیا۔ بغیر کسی ملک کے خلاف سازش کیے، اپنے آپ کو مضبوط بنایا اور ترقی کی۔ یہ ایک بہت بڑی مثال ہے کہ خود کو طاقتور بنا کر دوسروں سے آگے بڑھا جا سکتا ہے، بغیر انہیں نقصان پہنچائے۔"


وجیہہ: "یہ تو ایک بہترین سبق ہے، سر! ہمیں واقعی اپنی توجہ اپنے کام پر رکھنی چاہیے۔"


ڈاکٹر باز سعید: "بلکل، اور یہی آج کا پیغام ہے۔ اپنی محنت سے آگے بڑھو، دوسروں کی طرف انگلی اٹھانے کی بجائے اپنی صلاحیتوں کو نکھارو۔"


(کلاس میں سنجیدہ ماحول کے ساتھ ساتھ ایک مثبت احساس چھا جاتا ہے۔ تمام طلبا ڈاکٹر باز سعید کی کہانی اور ان کے سبق سے متاثر ہیں، اور وہ سمجھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کا راستہ دوسروں کو نیچا دکھا کر نہیں، بلکہ خود کو بہتر بنا کر ہے۔)


صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر

زابر سعید انسٹیٹیوٹ اف میڈیا سٹڈیز 

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا