Murphy's Law...Myth or reality

 "مرفی لا: حقیقت یا وہم؟"

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر 


لاہور کی ایک معروف یونیورسٹی کا کلاس روم، جہاں پروفیسر رباز سعید  اپنی کلاس کو "مرفی لا" کے بارے میں سمجھا رہے ہیں۔ کلاس روم میں ہلکی ہلکی خنکی ہے اور باہر موسم بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔ پروجیکٹر پر مرفی لا کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت ہو رہی ہے۔ کمرے میں ڈسپلنڈ اور مودب ماحول ہے، طالب علم دھیان سے لیکچر سن رہے ہیں اور وقفے وقفے سے سوالات بھی کر رہے ہیں۔



---

پروفیسر  (مسکراتے ہوئے):  

"آج کا موضوع بہت دلچسپ ہے، اور اکثر ہماری روزمرہ زندگی میں اسے یاد کیا جاتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں 'مرفی لا' اصل میں کیا ہے؟"


حفصہ(پرجوش لہجے میں ):  

"جی سر، جب بھی کوئی کام خراب ہوتا ہے یا کچھ غلط ہو جاتا ہے، ہم کہہ دیتے ہیں، 'یہ تو مرفی لا تھا!'"


پروفیسر  (ہنستے ہوئے):  

"بالکل، یہ ایک عام تاثر ہے۔ 'مرفی لا' بنیادی طور پر کہتا ہے: 'جو کچھ غلط ہو سکتا ہے، وہ غلط ہو گا۔' اور اس قانون کو پہلی بار ایڈورڈ اے مرفی نے 1949 میں بیان کیا، جو ایک ایرواسپیس انجینئر تھے۔ ان کا کام بہت تکنیکی تھا، اور وہ تجربات میں درستگی کو یقینی بنانا چاہتے تھے۔"


احمد 

"سر، کیا یہ واقعی سچ ہے؟ میرا مطلب ہے، کیا ہم اسے ہر چیز پر لاگو کر سکتے ہیں؟"


پروفیسر  

"یہ ایک دلچسپ سوال ہے، احمد! مرفی لا کو ایک حقیقت سے زیادہ ایک ذہنی فریم ورک سمجھا جا سکتا ہے، جو ہمیں ناکامی کے امکان کو مدنظر رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، آپ دیکھتے ہیں کہ اگر آپ جلدی میں ہوں تو سڑک پر ٹریفک زیادہ ہو گی، اور اگر آپ کی کوئی اہم پریزنٹیشن ہو تو ٹیکنالوجی ضرور دھوکہ دے گی!"


اسماء

"جی سر، یہ بالکل سچ ہے! میری پچھلی پریزنٹیشن کے دوران پاور پوائنٹ کریش ہو گیا تھا!"


پروفیسر:  

"یہی تو مرفی لا ہے! (مسکراتے ہوئے)۔ اب دیکھو، ہر تجربہ ناکامی کی طرف نہیں جاتا، لیکن مرفی لا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر ناکامی کا امکان موجود ہو، تو ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔" 


شاہ روز  

"سر، کیا آپ ہمیں کچھ مثالیں دے سکتے ہیں؟"


پروفیسر  (پروجیکٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے):  

"بالکل، آئیں ہم روزمرہ زندگی کی کچھ مثالوں پر بات کرتے ہیں:

1. اگر آپ کوئی دستاویز پرنٹ کر رہے ہوں اور جلدی میں ہوں، تو پرنٹر خراب ہو جائے گا۔

2. جب آپ بہت اہم ای میل لکھ رہے ہوں، تو انٹرنیٹ ضرور چلا جائے گا۔

3. آپ کی پسندیدہ ٹیم جس دن میچ کھیل رہی ہو، اسی دن بجلی کٹ جائے گی!

4. اگر آپ کو بارش کی امید نہ ہو اور چھتری نہ لیں، تو ضرور بارش ہو گی۔

5. اگر آپ کو کلاس میں پہلے پہنچنا ہو، تو ٹریفک جام ہو جائے گا۔


فاطمہ (مسکراتے ہوئے):  

"سر، یہ سب کچھ تو سچ لگ رہا ہے، خاص طور پر چھتری والی بات!"


پروفیسر  (ہنستے ہوئے):  

"یہی تو مزہ ہے مرفی لا میں! یہ ہمیں ناکامی کی طرف دیکھنے پر مجبور کرتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔"


(پروفیسر کچھ دیر رکتے ہیں اور کمرے کی کھڑکی کی طرف دیکھتے ہیں)


پروفیسر   

"اب جب کہ ہم اکتوبر کی پہلی تاریخ میں ہیں، موسم بدل رہا ہے اور سردیاں آنے والی ہیں۔ لاہور میں جلد ہی سموگ کا مسئلہ بھی ہو گا۔ کیا آپ نے پنجاب حکومت کے اقدامات کے بارے میں سنا؟"


علی  

"جی سر، اس دفعہ حکومت نے کہا ہے کہ فصلوں کو نہ جلایا جائے تاکہ سموگ کا مسئلہ کم ہو۔"


شاہ پری  

"لیکن سر، لوگ سردیوں میں سڑک کنارے لکڑیاں بھی جلاتے ہیں، اس سے بھی پولیوشن بڑھتا ہے۔ ہمیں ان کے لیے بھی کوئی آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے۔"


پروفیسر   

"بالکل درست، شاہ پری! یہی وجہ ہے کہ پولیوشن سے بچاؤ کے لیے نہ صرف حکومتی اقدامات بلکہ سماجی شعور بھی ضروری ہے۔ ہمیں اپنے ماحول کی حفاظت کے لیے خود بھی ذمہ دار ہونا چاہیے۔"


(کمرے میں خاموشی چھا جاتی ہے، طلبہ غور سے سن رہے ہیں)


پروفیسر  

"واپس مرفی لا کی طرف آتے ہیں، میں چاہوں گا کہ آپ سب اپنے روزمرہ کے تجربات میں دیکھیں کہ کیسے یہ قانون کسی نہ کسی طرح اثر انداز ہوتا ہے۔"


عمر

"سر، مرفی لا ہمیں بدگمان نہیں بنا دیتا؟"


پروفیسر (سنجیدگی سے):  

"عمر، یہ ایک اور دلچسپ نکتہ ہے۔ مرفی لا کو منفی سوچ کے طور پر نہ لیں، بلکہ ایک ایسی یاد دہانی کے طور پر دیکھیں جو ہمیں مشکلات کے لیے تیار رکھتی ہے، تاکہ جب کچھ غلط ہو، ہم ہمت نہ ہاریں بلکہ حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔"


(گھنٹی بجنے کی آواز آتی ہے)


پروفیسر   

"افسوس، وقت ختم ہو چکا ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ آپ سب نے کچھ نیا سیکھا ہو گا۔ اگلی کلاس کے طالب علم باہر انتظار کر رہے ہیں۔"


(سب طالب علم مایوسی سے ہنستے ہیں)


امنہ 

"سر، ہمیں لگ رہا تھا کہ لیکچر ابھی اور چلنا چاہیے!"


پروفیسر  (مسکراتے ہوئے):  

"بہت جلد دوبارہ ملاقات ہو گی، ابھی کے لیے خدا حافظ!"


(پروفیسر  کمرے سے باہر جاتے ہیں، اور طلبہ اپنے نوٹس سمیٹنے لگتے ہیں)


---


یہ مکالمہ یونیورسٹی کے ایک کلاس روم کا ماحول اور مرفی لا کے موضوع پر ایک دلچسپ اور تعلیمی گفتگو کو پیش کرتا ہے، جہاں پروفیسر رباز طلباء کے سوالات کا خندہ پیشانی سے جواب دیتے ہیں اور ان کو مرفی لا کی حقیقت اور روزمرہ زندگی پر اس کے اثرات سے روشناس کرواتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا