تیسری عا لمگیر جنگ کے گہرے سائے.,صاحب زادہ زابر سعید بدر

تیسری عالم گیر جنگ کے گہرے سائے


صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر 





 چائنیز ڈپلومیسی اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، خاص طور پر اس وقت جب معروف چائنیز ڈپلومیٹ اور اکیڈمک وِکٹر گاؤ نے ایک نہایت سنگین اور غیر معمولی بیان دیا ہے۔ ان کا یہ جملہ — "China will not fire the first shot, but China will not allow you to fire the second shot" — بظاہر ایک سادہ وارننگ نہیں بلکہ ایک سٹریٹیجک سگنل ہے جو چین کی عسکری پالیسی کے حقیقی خدوخال کو ظاہر کرتا ہے۔


یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا پہلے ہی شدید جغرافیائی تناؤ (Geopolitical Tensions) سے گزر رہی ہے۔ امریکہ اور چین کے تعلقات میں تلخی بڑھ رہی ہے، جبکہ ہندوستان اپنی فوجی طاقت کے دعووں اور بیانات سے خطے میں مزید اشتعال پیدا کر رہا ہے۔ وکٹر گاؤ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ملک، خصوصاً امریکہ، چین کے خلاف جارحیت کا سوچے گا تو چین "devastating consequences" کے ساتھ جواب دے گا۔ انہوں نے واضح طور پر اپنی نیوکلئیر صلاحیتوں اور ہائیڈروجن بم کے ذکر کے ذریعے یہ باور کرایا کہ چین نہ صرف دفاعی لحاظ سے مضبوط ہے بلکہ کسی بھی حملے کے جواب میں دنیا کے کسی بھی حصے کو 20 منٹ میں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


یہ پیغام صرف امریکہ کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک سخت وارننگ ہے۔ خصوصاً بھارت کے لیے، جو آج کل خود کو ایک بڑی فضائی اور دفاعی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ چین کے جدید ترین ہتھیار اور ٹیکنالوجی بھارت کے لیے ایک بڑا اسٹریٹیجک چیلنج ہیں۔ بھارت کی جانب سے چین کو للکارنے والے بیانات دراصل ایک خطرناک غلط فہمی کا اظہار ہیں، کیونکہ چین کی عسکری طاقت اور ٹیکنالوجی کا فرق کئی گنا زیادہ ہے۔


پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صورتحال نہایت اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ پاکستان چین کا قریبی اتحادی ہے، اور خطے میں کسی بھی بڑے تنازعے کی صورت میں بیجنگ اور اسلام آباد کے تعلقات مزید گہرے اسٹریٹیجک اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف بھارت کی مسلسل اشتعال انگیزی اور سرحدی جارحیتیں ایک ایسے ماحول کو جنم دے رہی ہیں جہاں کسی بھی وقت ایک چھوٹا واقعہ بڑی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔


بظاہر دنیا میں امن اور مذاکرات کا شور ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کسی تیسری عالمی جنگ (World War III) کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ مختلف خطوں — مشرقِ وسطیٰ، یورپ، اور اب ایشیا — میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اور اب جب کہ چین نے کھل کر اپنی عسکری قوت اور ارادے کا اظہار کر دیا ہے، تو اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان ایک بڑی ٹکراؤ کی فضا بن چکی ہے۔


یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ "چائنیز ڈپلومیسی از شائن اپ" — یعنی چین کی سفارت کاری اب صرف بیانات تک محدود نہیں رہی، بلکہ وہ ایک ڈٹرنس (Deterrence) پالیسی کے ذریعے اپنے وجود اور مفادات کے تحفظ کا اعلان کر چکا ہے۔ وکٹر گاؤ کی وارننگ دراصل چین کی وہ نئی خارجہ حکمتِ عملی ہے جس کا پیغام صاف ہے:


 چین جنگ شروع نہیں کرے گا، لیکن اگر کسی نے چھیڑنے کی کوشش کی تو جواب اس شدت سے دے گا کہ دوسرا وار کرنے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔


یہی وہ وقت ہے جب دنیا کو محض طاقت کے مظاہرے سے آگے بڑھ کر حقیقی ڈپلومیسی، تحمل اور بین الاقوامی انصاف کی ضرورت ہے — ورنہ حالات ایک ایسی راہ پر گامزن ہیں جہاں امن کی زبان کمزور اور بارود کی زبان غالب دکھائی دے رہی ہے۔

#صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر



About the Author


Sahibzada Muhammad Zabir Saeed Badar is an international researcher, academic, and media scholar from a distinguished family of intellectual and scholarly legacy spanning three generations. He is associated with Pakistan’s leading media house and serves as the Chairman of the Zabir Saeed Institute of Media Studies (ZIMS) and Director of the ZIMS Research Wing.


He has taught at several of Pakistan’s top universities, specializing in International Relations, Current Affairs, and Journalism. Widely recognized as a bridge between academic theory and practical media practice, Mr. Badar has authored more than sixty books and contributed extensively to national and international research journals.


Known as a strategic thinker and policy analyst, he continues to play an influential role in promoting intellectual dialogue, responsible journalism, and academic research in Pakistan and abroad.


Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا