Pakistan’s Strategic Significance Between U.S. and China”,Zabir Saeed Badar






 الجزیرہ کے تجزیہ نگار ایرک شاہزار کی رپورٹ — حقیقت سے زیادہ مغالطہ



صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر 





حال ہی میں بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ پر ایک مضمون شائع ہوا جس کے مصنف محترم ایرک شاہزار صاحب ہیں، جو خود کو یونیورسٹی آف ہرٹفورڈ شائر سے وابستہ ایک اکیڈمک بتاتے ہیں۔

انہوں نے اپنے مضمون میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ حالیہ سفارتی سرگرمیاں کسی "حقیقی تبدیلی" کا مظہر نہیں بلکہ دباؤ کے تحت ایک وقتی "پیوٹ" ہیں۔


میں نے ان کا مضمون بغور پڑھا، اور صاف محسوس کیا کہ یہ تجزیہ زمینی حقائق سے یکسر نابلد اور مغربی نقطۂ نظر سے مرعوب ہے۔

بلکہ کہنا مناسب ہوگا کہ ایرک شاہزار صاحب نے حقائق کو جزوی انداز میں دیکھ کر پوری تصویر بگاڑ دی ہے۔


🇵🇰 پہلی بات: پاکستان کی جغرافیائی و اسٹریٹجک اہمیت کا اعتراف


خود مصنف یہ بات تسلیم کر رہے ہیں کہ پاکستان کی اہمیت امریکہ کے لیے ازسرِنو تسلیم کی جا رہی ہے —

خواہ وہ افغانستان کے تناظر میں ہو، یا خطے میں طاقت کے توازن کے حوالے سے۔

لیکن پھر وہ اسی حقیقت کو “وقتی” قرار دے کر اس کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔


سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ واقعی بھارت پر اتنا انحصار کر رہا تھا تو اب پاکستان کی طرف کیوں جھک رہا ہے؟

یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں بلکہ خطے کے بدلتے تزویراتی (geostrategic) منظرنامے کی علامت ہے۔

یہ درست ہے کہ عالمی سیاست میں اتار چڑھاؤ رہتے ہیں، لیکن یہ تبدیلی وقتی نہیں بلکہ دیرپا اثرات رکھتی ہے —

کیونکہ امریکہ جانتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا حقیقی مرکز اسلام آباد ہے، نہ کہ نئی دہلی۔


 دوسری بات: بھارت کا چین کی طرف جھکاؤ — ایک ردعمل ہے، حکمتِ عملی نہیں


مصنف نے یہ نکتہ اٹھایا کہ بھارت اب بیجنگ کے قریب جا رہا ہے۔

لیکن یہ بات انہوں نے اُلٹی ترتیب میں سمجھی۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ جب امریکہ کے پاکستان سے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں تو

بھارت مجبوراً، نہ چاہتے ہوئے بھی، چین کے ساتھ نرم رویہ اختیار کر رہا ہے۔

یعنی یہ بھارت کی اپنی “پالیسی شفٹ” نہیں، بلکہ ایک ردِعملی قدم ہے۔


ایرک شاہزار صاحب نے اس پہلو کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا،

حالانکہ یہی نکتہ جنوبی ایشیائی سیاست کی اصل روح ہے۔


تیسری بات: بلوچستان اور وسائل کا معاملہ


مصنف نے بلوچستان میں نئی معدنی پالیسی پر بھی تنقید کی اور اسے مرکزیت پسندی کا شاخسانہ قرار دیا۔

یہ نقطہ نظر غلط فہمی پر مبنی ہے۔

بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے،

اور وفاقی حکومت کو آئینی و قانونی اختیار حاصل ہے کہ ملک کے کسی بھی صوبے کے وسائل کو

قومی مفاد کے لیے بروئے کار لائے —

چاہے وہ پنجاب ہو، سندھ، خیبر پختونخوا، یا آزاد کشمیر۔


البتہ صوبوں کو ان وسائل میں ان کا جائز حصہ ضرور دیا جانا چاہیے،

لیکن یہ کہنا کہ مرکز کو اختیار نہیں،

یہ فیڈریشن کے بنیادی ڈھانچے سے لاعلمی کی نشانی ہے۔

لہٰذا اس حوالے سے مصنف کی بات نہ صرف غیر سنجیدہ بلکہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔


 چوتھی بات: بین الاقوامی سفارت کاری وقتی نہیں، متحرک ہوتی ہے


ایرک شاہزار صاحب نے عالمی تعلقات کی فطرت کو “وقتی” کہہ کر ایک بنیادی غلطی کی۔

سفارت کاری میں وقت کا گزرنا کوئی زوال نہیں ہوتا، بلکہ تغیر (evolution) ہوتا ہے۔

آج امریکہ پاکستان کے ساتھ نئے تعلقات استوار کر رہا ہے،

کل چین بھی پاکستان کے لیے سرمایہ کاری بڑھائے گا،

اور بھارت کو بھی آخرکار اس حقیقت کو ماننا پڑے گا کہ

پاکستان جنوبی ایشیا کی سفارتی سمت طے کرنے والا ملک ہے۔


یہ بات خود مصنف کے الفاظ میں جھلکتی ہے، مگر انہوں نے

نتیجہ الٹا نکال کر اپنے ہی تجزیے کی بنیاد کمزور کر دی۔


مختصر یہ کہ الجزیرہ پر شائع ہونے والا مضمون

یک رُخا، مغربی بیانیے سے متاثر، اور حقائق سے دور ہے۔

پاکستان کے خلاف نہیں تو کم از کم پاکستان کی حقیقت کو ادھورا بیان کرنے کی ایک کوشش ضرور ہے۔


پاکستان کی خارجہ پالیسی میں جو تبدیلیاں آ رہی ہیں —

وہ وقتی نہیں بلکہ دور رس، اسٹریٹجک اور جغرافیائی حقیقتوں پر مبنی ہیں۔

دنیا کو اب ماننا پڑے گا کہ پاکستان صرف ایک "علاقائی کھلاڑی" نہیں

بلکہ عالمی توازن کا مرکزی کردار بن چکا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا