غزہ سمٹ میں شہباز شریف,ایک سفارتی زاویہ,صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر


 غزہ سمٹ میں شہباز شریف, ایک سفارتی زاویہ


صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر 



ایک طرف تو پاکستان اور ہندوستان میں کچھ کم ظرف عناصر وزیراعظم شہباز شریف کا مذاق اڑا رہے ہیں، لیکن دوسری طرف حقیقت کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔

دنیا کا سب سے طاقتور ملک — امریکہ — اور اس کا موجودہ سربراہ، جو اس وقت دنیا کا سیاسی طور پر سب سے بااثر شخص کہلایا جا سکتا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اور ایک ایسا ملک یعنی پاکستان، جس نے حال ہی میں اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور دشمن کے ساتھ ایک جنگ لڑی، اور اُس سے پہلے امریکہ نے صاف کہہ دیا تھا کہ “یہ ہمارا معاملہ نہیں ہے” — ایسے حالات میں جو کچھ ہوا، وہ معمولی بات نہیں۔


اب یہی ٹرمپ، جو دنیا کے طاقتور ترین انسان سمجھے جاتے ہیں، وہی شخص مسلسل اُس رہنما (مودی) پر سفارتی دباؤ ڈال رہا ہے جو خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھتا تھا، اور اس کے برعکس پاکستان کے وزیراعظم اور اُن کی قیادت کی تعریف کر رہا ہے۔

تو ایسے میں تنقید کرنے والے یقینی طور پر منفی رویّے کا مظاہرہ کر رہے ہیں، کیونکہ یہ دراصل ایک خوبصورت سفارتی اقدام (Diplomatic Move) تھا۔


یہ ایک بہتر فیصلہ اور بہترین سفارتی اشارہ تھا، خاص طور پر اُس وقت جب وزیراعظم کو یہ معلوم بھی نہیں تھا کہ انہیں خطاب کے لیے بلایا جائے گا۔ ایسے میں اُن کا فوراً آگے بڑھ کر ٹرمپ کو مخاطب کرنا اور اجلاس کے اصل موضوع — غزہ امن — سے بات جوڑ دینا ایک ذہانت بھرا عمل تھا۔

وزیراعظم نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹرمپ نے صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ روکنے میں کردار ادا نہیں کیا بلکہ غزہ کے معاملے میں بھی امن کی کوششوں میں حصہ لیا۔


اگرچہ ٹرمپ کا کردار ویسا نہیں جیسا ہم مثالی سمجھتے ہیں، مگر ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ دنیا کی سپر پاور کا اپنا نقطۂ نظر ہے۔

ہمارے چاہنے یا نہ چاہنے سے عالمی سیاست کے فیصلے نہیں ہوتے، مگر جو کچھ ہوا، وہ پاکستان کے لیے انتہائی مثبت پیش رفت ہے۔

پاکستان، جسے حال ہی میں معاشی طور پر کمزور اور عالمی سطح پر غیر اہم سمجھا جا رہا تھا، اب دوبارہ بین الاقوامی سطح پر عزت و پہچان حاصل کر رہا ہے۔


دنیا کے سب سے طاقتور رہنما کا پاکستان کی قیادت کے بارے میں مثبت بیان دینا، اور دوسرا طاقتور ترین ملک (چین) کے ساتھ ہمارے مضبوط تعلقات — یہ سب مل کر پاکستان کی سفارتی کامیابی کا اظہار ہیں۔

ایسے وقت میں جب دشمن ملک کے میڈیا میں بے چینی پھیل گئی اور ان کے تجزیہ نگاروں کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر ہوا کیا ہے — یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ طاقت کی زبان وہی سمجھتا ہے جو خود طاقت رکھتا ہو۔


یہ پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔

وہ پاکستان جو کل تک دیوالیہ پن کے دہانے پر تھا، آج دنیا کے سب سے بڑے فورم پر اعزاز و احترام حاصل کر رہا ہے۔

اور جب وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کا پرتپاک استقبال کیا، تو ہمارے دشمنوں کی صفوں میں صف ماتم بچھ گئی  ۔

جو لوگ پاکستان سے تعلق رکھتے ہوئے بھی اس موقع پر خوش ہونے کے بجائے طنز و تنقید میں مصروف ہیں، انہیں دراصل یہ حقیقت قبول کرنے میں دشواری ہو رہی ہے کہ یہ پاکستان کی عزت افزائی ہے، تضحیک نہیں۔


یہ بات سمجھنے کی ہے کہ یہ ایک سفارتی جیت ہے، اور شہباز شریف نے یہاں جس اعتماد اور فی البدیہہ انداز میں گفتگو کی، وہ اُن سے کم از کم توقع نہیں تھی۔

انہوں نے اچانک چند لمحوں میں اپنی سوچ کو مجتمع کیا، اور ایک مربوط، مؤثر اور غیر تحریری خطاب دیا۔

انہوں نے نہ صرف غزہ امن کی بات کی بلکہ بھارت کے حالیہ فوجی تصادم کا ذکر بھی اس انداز میں کیا کہ امریکی صدر کے اپنے بیانیے کی تائید نظر آئی — یہ معمولی بات نہیں ہے۔

یہ ایک ایسا موقع تھا جسے بڑے وقار سے سنبھالا گیا۔


گارڈین کے ڈپلومیٹک ایڈیٹر، پیٹرک وِنٹور (Patrick Wintour) نے بھی اپنی رپورٹ میں اسی منظر کو بیان کرتے ہوئے لکھا کہ


 “شہباز شریف واحد رہنما تھے جو میزبان کو سنبھالنے کا ہنر جانتے تھے۔ انہوں نے اتنی بھرپور تعریف کی کہ جب ٹرمپ آگے بڑھے تو انہوں نے تحمل مگر مضبوط انداز میں انہیں روکا اور اپنی تقریر جاری رکھی۔”

یہ وہ لمحہ تھا جس نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کے وزیراعظم نے محض ایک تقریر نہیں کی، بلکہ ایک مضبوط سفارتی پیغام دیا — کہ پاکستان اب دنیا کے سیاسی منظرنامے میں 

اعتماد کے ساتھ کھڑا ہے۔

--------------------


صاحبزادہ زابر سعید بدر کے بارے میں


صاحبزادہ زابر سعید بدر پاکستان کے ایک سینئر میڈیا اسکالر، مصنف، اور کمیونیکیشن اسٹریٹجسٹ ہیں۔ آپ "زابر سعید انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ، میڈیا اینڈ اکیڈمک اسٹڈیز" کے بانی اور سربراہ ہیں، جو ایک تھنک ٹینک کی حیثیت سے میڈیا اور اکیڈمک ریسرچ کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔


آپ کا تعلق ایک ایسی علمی و صحافتی خانوادے سے ہے جس کی تین نسلیں — آپ کے دادا حکیم محمد یعقوب منیر عظیمی، والد سعید بدر، اور آپ خود — صحافت، ادب، اور قومی خدمت سے منسلک رہی ہیں۔


آپ کی تحریروں میں وسعتِ علم، فکری گہرائی اور قومی شعور نمایاں ہے۔ آپ نے تعلقاتِ عامہ، بین الاقوامی تعلقات، میڈیا اخلاقیات اور ابلاغیات پر 60 سے زائد کتابیں تحریر کی ہیں، جن میں سے کئی پاکستان کی مختلف جامعات کے نصاب کا حصہ ہیں۔


ایک سینئر میڈیا پروفیشنل کے طور پر آپ نے متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں کے لیے میڈیا اسٹریٹیجسٹ اور ایڈوائزر کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں، اور میڈیا پالیسی سازی و ابلاغی منصوبہ بندی کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔


آپ کو کمیونٹی جرنلزم کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ 1990 کی دہائی کے اواخر میں آپ نے لاہور سے ایک کامیاب کمیونٹی اخبار کا اجراء کیا، جس نے پاکستان میں مقامی صحافت کے تصور کو نئی سمت دی۔


میڈیا اور اکیڈمک دنیا کے درمیان فکری و عملی ربط (Bridging) پیدا کرنا آپ کے کام کا نمایاں پہلو ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا اخلاقیات پر آپ کی تحقیق اور تصانیف نے آپ کو اس میدان میں ایک معتبر اتھارٹی کا درجہ دیا ہے۔


اپنی علمی کاوشوں، تدریسی خدمات اور فکری رہنمائی کے ذریعے آپ نئی نسل کے صحافیوں، محققین اور کمیونیکیشن ماہرین کے لیے مشعلِ راہ بن چکے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا