بھارتی ریاستی پالیسی کے ہندو سماج پر نفسیاتی اثرات, صاحب زادہ زابر سعید بدر
ہندو ریاستی پروپیگنڈے کے رائے عامہ پر اثرات اور مسلمانوں سے نفرت کا بیانیہ
چند روز قبل روزنامہ نوائے وقت میں معروف صحافی نصرت جاوید کا ایک کالم شائع ہوا. جس میں مشہور بھارتی مصنفہ ارون دھتی رائے کی انتہائی جرات مندانہ رائے جو انہوں نے سی این این کے میزبان مہدی حسن کو انٹرویو کے دوران دی کہ بھارتی معاشرہ ہندو نفرت میں اس حد تک اگے بڑھ چکا ہے کہ اسے فلسطینیوں پر ہونے والا ظلم نظر نہیں اتا اور وہ اسرائیل کی حمایت میں خوشی محسوس کرتا ہے انہوں نے بڑا واضح کہا کہ بھارتی ریاست کا بیانیہ نفسیاتی طور پر ہندوستانی معاشرے میں اس طرح شامل ہو گیا ہے کہ ہندو سماج مسلمانوں سے نفرت کو اپنا حق سمجھتا ہے یہ اظہار رائے ایک بھارتی مصنفہ کی طرف سے ہی سامنے ایا ہے جو پہلے بھی ببانگ دہل اپنے وطن بھارت کے بارے سچی تصویر اور رائے دنیا کے سامنے پیش کرتی ائی ہیں اس حوالے سے انہوں نے متعدد کتابیں بھی لکھی ہیں جس پر انہیں بین الاقوامی طور پر تسلیم کیے جاتے ہوئے انعام سے نوازا گیا ہے یہ صورتحال جنوبی ایشیا کی سماجی سیاسی معاشرتی نفسیاتی صورتحال کے لیے انتہائی تشویش ناک ہے جبکہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن یہ بڑا واضح کہہ چکے ہیں کہ تیسری عالمی جنگ اسی خطے سے ہو سکتی ہے میں بھی اپنی تحریروں کالموں اور ویڈیوز میں متعدد بار اس خدشے کا اظہار کر چکا ہوں کہ ہندو سماج میں بڑھتا ہوا نفرت کا سیلاب جو ان کے میڈیا اور ان کی فلموں میں بڑا واضح نظر اتا ہے کہ ان کے ایک دو ہیرو پورے پاکستان کو اپنے تئیں تباہ کر دیتے ہیں اور یہ صورتحال ہمیں مئی 2025 میں ان کے میڈیا کی طرف سے پاکستان پر جھوٹی خبروں کی سیلابی یلغار کی صورت میں نظر ائی جس نے پوری دنیا کو چونکا کر رکھ دیا اور وہ ناقابل یقین تھا کہ اتنی بڑی جمہوریت کا دعوی کرنے والا ملک اپنے مین سٹریم میڈیا پر اتنا جھوٹ بول سکتا ہے اور ڈیڑھ ارب ابادی کو مسلسل ساری رات جھوٹی خبروں کے زیر اثر گمراہ کیا گیا اور بعد میں معافی بھی نہیں مانگی گئی اور حال ہی میں دوبارہ ان کے مختلف فورمز جس میں ان کے وزیراعظم نے بھی حیرت انگیز طور پر اپنے منصب کا مقام اور مرتبہ نظر انداز کرتے ہوئے ایک چھچھورے انداز میں پاکستان کے افواج کے سربراہ کو نشانے پر لیتے ہوئے ایسے الفاظ کا انتخاب کیا جو ڈپلومیسی کے تمام مروجہ اصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور اج انہیں پتہ چل رہا ہے کہ انہوں نے پاکستان کو سخت نقصان پہنچایا تھا اج ان کا ایئر چیف بچکانہ انداز میں اور انتہائی بھونڈے انداز میں اپنے مقام اور مرتبے کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف پبلک میں بھارتی حکومت کے ایجنڈے کو اگے بڑھاتے ہوئے اور اس جھوٹی پروپیگینڈا مشینری کا حصہ بنتے ہوئے عجیب و غریب قسم کی باتیں کر رہا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کو تباہ کیا حالانکہ انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ایف 16 امریکہ سے ائے ہیں اگر کسی ایک طیارے کو بھی نقصان پہنچا ہوتا تو امریکہ اس بارے میں ضرور بتاتا جیسے فرانس نے رافیل کے بارے میں بتایا بچپن میں ایک محاورہ سنا تھا احمقوں کی جنت میں رہنا یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھارت کی پوری ریجیم احمقوں کی جنت میں بستی ہے
بھارت میں نفرت کا اجتماعی طرزِ فکر
ارون دھتی رائے نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ بھارت میں مسلمانوں سے نفرت اب محض سیاسی نعرہ نہیں رہی؛ یہ ایک اجتماعی ذہنی کیفیت بن چکی ہے۔ اس کیفیت کی ایک اہم علامت یہ ہے کہ ایک بڑی اکثریت اب اسرائیل کو اس لیے اپنا حلیف سمجھتی ہے کہ وہ بھی مسلمانوں کو بطور ’دشمن‘ دیکھتا ہے۔ یوں اسرائیل کے ساتھ یکجہتی صرف سفارتی یا عسکری مفاد کی بنا پر نہیں بلکہ ایک نفسیاتی جڑ کے سبب ہے جو نسل، مذہب اور طاقت کے رنگ میں پروان چڑھی ہے۔
عام شہری بھی ظلم کے شریک
ارون کی گفتگو کا وہ پہلو انتہائی تشویشناک ہے جس میں وہ بتاتی ہیں کہ جب بھارت میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہوتے ہیں تو اکثر دفعہ پولیس کے بجائے مقامی دکاندار، راہگیر یا شہری خود مظاہرین کے خلاف صف آراء ہو جاتے ہیں۔ یہ محض سیاسی کشیدگی نہیں بلکہ مسلمانوں کے خلاف ایک سماجی ردِعمل ہے جس نے نفرت کو معمول بنا دیا ہے۔
ہندو مصنفہ کا بے باک اعتراف
اس تجزیے کی حیثیت اس لیے بھی اہم ہے کہ ارون دھتی رائے خود بھارتی معاشرے سے وابستہ ہیں۔ ایک ہندو مصنفہ کی زبان سے یہ تسلیم کہ بھارت کی اکثریت اسرائیل کو اس لیے پسند کرتی ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ سخت رویہ اپناتا ہے، ایک جرات مندانہ اقرار ہے — اور اسی اقرار نے بھارت کے اندر موجود اخلاقی دراڑوں کو نمایاں کیا ہے۔
نوٹس برائے خطِ بطلان
نصرت جاوید نے بالکل درست طور پر لکھا کہ ارون دھتی رائے کا یہ انٹرویو محض ذاتی رائے نہیں بلکہ ایک سماجی تشخیص ہے۔ جب کسی قوم میں تعصب کو حب الوطنی اور مذہبی برتری کو ریاستی وقار سمجھا جائے تو وہاں انصاف، رواداری اور انسانی ہمدردی کا نقصان ناگزیر ہے۔ یہ تنبیہ صرف بھارت کے لیے نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے سماجی ڈھانچے کے لیے بھی ایک انتباہ ہے۔

Comments