New Two Nation Theory By Zabir Saeed Badar

 نیا دو قومی نظریہ

امیر اور غریب

تنخواہ دار بمقابلہ مراعات یافتہ 


صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر



زابر صاحب زادہ


"آج صبح جب میں نے ملک کے ایک موقر انگریزی اخبار کی خبر پڑھی تو دل دہل گیا۔ اعداد و شمار چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ اس ملک میں انصاف مراعات یافتہ لوگوں کی دہلیز پر دم توڑ چکا ہے۔"

یہ ملک تنخواہ دار چلا رہے ہیں — لیکن قیمت؟


پاکستان کا سفید پوش طبقہ — وہ لوگ جو مہینے کے آغاز میں تنخواہ لیتے ہیں اور مہینے کے اختتام تک حساب کتاب کرتے رہتے ہیں — اس ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

لیکن نئے مالی سال (جون 30، 2025 کو ختم ہونے والا) میں ایف بی آر کے جاری کردہ اعداد و شمار نے ثابت کر دیا کہ یہ طبقہ صرف ملک چلا نہیں رہا — بلکہ قربانی بھی صرف یہی دے رہا ہے۔


تنخواہ دار طبقے نے مالی سال 2024-25 میں تاریخی 545 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کیے —

یعنی برآمد کنندگان (ایکسپورٹرز) اور تاجروں (ریٹیلرز) کی مشترکہ ٹیکس ادائیگی سے دو گنا زیادہ۔


اعداد و شمار جو جھنجھوڑ دیتے ہیں


ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق:


تنخواہ دار طبقہ: 545 ارب روپے


برآمد کنندگان: 180 ارب روپے


ریٹیلرز (تاجر): 62 ارب روپے


اس کا مطلب:


تنخواہ دار طبقہ نے ایکسپورٹرز سے تین گنا زیادہ ٹیکس دیا


ریٹیلرز سے آٹھ گنا زیادہ ٹیکس ادا کیا


یہ وہی طبقہ ہے جو مہنگائی میں جیتا ہے، بجلی کے بلوں پر کٹ لگواتا ہے، بچوں کی فیس قسطوں میں ادا کرتا ہے — اور پھر بھی ملک کے سب سے بڑے ٹیکس دہندگان میں شامل ہے۔


آج کا دو قومی نظریہ: تنخواہ دار بمقابلہ مراعات یافتہ


ہم نے 1947 میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر آزادی حاصل کی — مسلمان اور ہندو۔

لیکن آج، 2025 میں، ایک نیا نظریہ پنپ رہا ہے:


تنخواہ دار بمقابلہ طاقتور

ایک طرف وہ جو ہر مہینے تنخواہ سے پہلے ٹیکس کٹوا دیتا ہے

دوسری طرف وہ جو لاکھوں کماتا ہے لیکن ٹیکس کا نام سن کر نظریں چُرا لیتا ہے


یہ نظریہ خطرناک ہے — کیونکہ یہ دھرتی کے بیٹوں میں تقسیم پیدا کرتا ہے۔

ایک ایمانداری کی سزا بھگت رہا ہے، اور دوسرا چالاکی کی داد پا رہا ہے۔


تاجر اور برآمد کنندگان: کمایا سب کچھ، دیا کچھ نہیں


ایکسپورٹرز، جن کی کمائی ڈالرز میں ہے، نے صرف 180 ارب روپے ٹیکس دیا۔


ریٹیلرز، جنہیں تمام سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل ہے، نے صرف 62 ارب روپے دیے —

حالانکہ ان کے لیے خصوصی اسکیمیں متعارف کرائی گئیں، جیسے:


تاجر دوست اسکیم (Tajir Dost Scheme)


انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 236G اور 236H


236G کے تحت ڈسٹری بیوٹرز، ڈیلرز، ہول سیلرز پر 2 فیصد ٹیکس

236H کے تحت نان فائلرز ریٹیلرز پر 2.5 فیصد ٹیکس


اس کے باوجود یہ طبقہ ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے میں کامیاب رہا — اور ریاست خاموش تماشائی بنی رہی۔


حکومتی موقف — معمولی ریلیف، بنیادی مسئلہ برقرار


ایف بی آر کے رکن ٹیکس پالیسی ڈاکٹر نجم میمن کے مطابق:


پہلے سلیب (0.6 ملین سے 1.2 ملین سالانہ آمدنی) پر ٹیکس 5% سے کم ہو کر 1% کر دیا گیا


دوسرے سلیب (1.2 سے 2.2 ملین) پر ٹیکس 15% سے کم ہو کر 11% کر دیا گیا


اس سے اندازاً 50 ارب روپے کا ریلیف ملے گا —

لیکن اصل سوال اپنی جگہ ہے:


کیا یہ ریلیف اس ظلم کے تلافی کے لیے کافی ہے؟


آخری سوال: ہم کب جاگیں گے؟


کیا یہ ملک صرف تنخواہ داروں سے چلے گا؟

کیا طاقتور طبقے کو کبھی قانون کا سامنا ہوگا؟


کیا ناانصافی کا یہ سلسلہ یونہی رہے گا... حقیقیت یہی ہے کہ اس کو بدلنا ناممکن ہے خود ہی اس طبقے میں کوئی احساس جنم لے تو لے...


انقلاب کی باتیں خطرناک ہیں تاریخ کے ہمیشہ دکھایا ہے کہ نام نہاد انقلاب کے بعد بھی اقوام ایک نئے عذاب سے دوچار ہوئیں. .انقلاب کی باتیں دراصل ایک بھیانک مزاق ہے جس کا بہت فائدہ اٹھایا گیا ہے بہتر یہی ہے کہ ہم محنت کریں شدید محنت کریں اور اپنی حالت کو بہتر کرنے کی کوشش کریں یہ ڈیٹا حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے کہ دنیا عمل اور محنت کرنے والوں کے لیے ہے دوسروں کو کوسنے کی بجائے صرف محنت کریں اور اپنی دنیا کو اپ پیدا کریں تعلیم حاصل کریں اپنے بچوں کو تعلیم دیں اور اس حالت سے باہر ائیں جسے غربت کہتے ہیں یہی اپ کی اپنی زندگی کا انقلاب ہے یہی اصل انقلاب ہے


ہم نے ایک نظام سے نجات پائی — لیکن اب کیا ہم خود کو خود ساختہ غلامی میں دھکیل چکے ہیں؟

اور اہم ترین سوال: اس تقسیم کو ختم کون کرے گا؟

نوٹ:

 اس کالم میں موجود ڈیٹا کی فراہمی کے لیے اج کے اخبار دی نیوز انٹرنیشنل میں شائع ہونے والی مہتاب عباسی کی تحقیقی رپورٹ سے استفادہ کیا گیا ہے اور زابر ریفلیکشنز سیریز کے لیے سماجی سیاسی معاشی معاشرتی اور نفسیاتی حوالوں سے مثبت انداز میں کیے گئے تجزیوں کے اس سلسلے میں شائع کیا گیا ہے

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا