جناح سے جناح تک زابر صاحبزادہ
زابر صاحبـــــــــزادہ
جناح سے جناح تک
مشہور امریکی مورخ اسٹنلے والپرٹ نے قائد اعظم کی سوانح حیات ’جناح آف پاکستان‘ لکھی جو 1982 میں شائع ہوئی. اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ قائد اعظم کے بارے میں مستند ترین کتب میں سے ایک ہے۔
اپنی کتاب میں سٹینلے نے قائد اعظم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ
’’چند ہی لوگ تاریخ کے دھارے کو تبدیل کر پاتے ہیں، ان میں سے بھی کچھ ہی ہوتے ہیں جو دنیا کے جغرافیے کو تبدیل کرتے ہیں۔ اور ان میں سے کوئی ایک آدھ ہی ایک قومی ریاست تشکیل دے پاتا ہے۔ محمد علی جناح نے یہ تینوں کام انجام دیے ہیں‘‘
وولپرٹ کئی تاریخی واقعات کے راقم تھے۔ انڈیا کے آخری وائس رائے اور پہلے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ بانی پاکستان محمد علی جناح کی پہلی ملاقات چار اپریل 1947 کو ہوئی تھی۔ بات چیت شروع ہونے سے پہلے ایک ہلکا پھلکا لمحہ اس وقت آیا جب ایک فوٹو گرافر نے لیڈی ماؤنٹ بیٹن (ایڈوینا) اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ ایک تصویر لینے کی خواہش ظاہر کی۔
جناح نے پہلے ہی سے اپنا بیان تیار کر لیا تھا۔ انہیں امید تھی کہ ان کے اور ماؤنٹ بٹن کے درمیان ایڈوینا کی موجودگی میں ایک تصویر لی جائے گی۔ اس کے لئے وہ پہلے سے ہی ایک ‘پنچ لائن’ تیار کر کے آئے تھے۔
1978 میں جناح کے سوانح نگار سٹینلے وولپرٹ کو دیے گئے انٹرویو میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اس ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ‘جب میں نے جناح پر زور دیا کہ وہ میرے اور ایڈوینا کے درمیان کھڑے ہوں تو ان کا ذہن فوری طور پر کوئی نئی پنچ لائن نہیں سوچ پایا اور انہوں نے وہی دہرایا جو وہ پہلے سے ہی سوچ کر آئے تھے: ‘اے روز بٹوین ٹو تھارنز’ یعنی دو کانٹوں کے درمیان ایک پھول۔’
وولپرٹ جناح سے لارڈ مائونٹ بیٹن کی پہلی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پہلی ملاقات کے موقع پر قائداعظم نے جب گفتگو کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ ’’میں صرف ایک شرط پر گفتگو میں حصہ لوں گا‘‘ تو مائونٹ بیٹن نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ’’مسٹر جناح، میں کوئی شرط سننے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ سب سے پہلے آپ اپنا مکمل تعارف کرائیں۔‘‘ تاہم جناح نے اپنی ذاتی زندگی کا تعارف کروانے سے انکار کر دیا۔
ملاقات کے اختتام پر مائونٹ بیٹن نے انتہائی بے بسی کے ساتھ اپنے سیکرٹری سے کہا کہ ’’اف میرے خدا! جناح تو برف کی طرح سرد تھے۔ میرا زیادہ وقت تو اسی برف کو پگھلانے میں صَرف ہوگیا۔‘‘
مسلئہ کشمیر پر بھی پروفیسر سٹینلے وولپرٹ کی گہری نظر تھی۔ اپنی کتاب بھارت اور پاکستان میں لکھا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کے حل میں درپیش سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہوگی کہ اگلے الیکشن میں بی جے پی حکومت برسراقتدار آ جائے جس کی قیادت مسلمانوں کے مخالف مودی جیسے کسی شخص کے ہاتھ میں ہو۔ اس کے برسراقتدار آنے کا مطلب ہوگا دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کے تمام امکانات کا خاتمہ، جس کے بغیر مسئلہ کشمیر کا حل ممکن نہیں۔اور وولپرٹ کا خیال درست ثابت ہوا.
ان کی ایک اور کتاب ’شیم فل فلائٹ‘ برطانوی راج کے آخری دنوں کے حالات و واقعات بیان کرتی ہے کہ ہندوستان سے نکلتے ہوئے تاج برطانیہ نے کس تیزی کے ساتھ مسائل کے انبار کو بالعموم اور سرحدی تنازعات کو بالخصوص دانستہ پیچھے چھوڑا، کہ کئی ایک دہائیوں تک مقبوضہ اور غیر مقبوضہ اقوام اس تنازع سے باہر نہ نکل سکیں۔مسلہ کشمیر بھی اسی جلد بازی کا نتیجہ ہے جس کے بارے امریکی صدر بل کلنٹن کہہ چکے ہیں کہ اسی خطے سے عالمگیر جنگ ہو سکتی ہے...... اور نیا امریکی ورلڈ آرڈر اسی کے ارد گرد تانے بانے بن رہا ہے..... چین کی بڑھتی طاقت کو روکنا بھی مقصود ہے اور پاکستان کو کمزور کرنا بھی انہی طاقتوں کے مفاد میں ہے... یہی وجہ ہے کشمیر, بلوچستان اور افغان بارڈر پر پاکستان کو مسلسل الجھایا جا رہا ہے... لیکن ہم خود ہی کچض سمجھنے کو تیار نہیں ہیں......
سٹینلے وولپرٹ نے تقسیم پر گاندھی کے کردار اور خیالات کا خلاصہ ان الفاظ میں کیا ہے: برطانوی ہند کو باٹنے کا منصوبہ گاندھی کو کبھی منظور نہیں تھا۔ تاہم انہیں احساس ہو چکا تھا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ ان کے ساتھیوں اور حواریوں کو اصول سے زیادہ اقتدار میں دلچسپی ہے، اور ان کی اپنی زندگی اس بھرم سے گھری رہی کہ بھارت کی آزادی کی جدوجہد جس کی قیادت انہوں نے کی وہ عدم تشدد پر مبنی تھی۔
تاریخ تقسیم ہندوستان کے بارے میں سٹینلے وولپرٹ کی کتابوں کے اقتباسات خاصے اہم شمار کیے جاتے ہیں۔
وولپرٹ کے خیال میں جناح اگر اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ کانگریسی لیڈر ان سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے تو اس میں حق بجانب تھے۔ جب کبھی کانگریسی لیڈروں نے یہ دیکھا کہ برطانیہ سمجھوتہ پر آمادہ ہو رہا ہے تو ان کے ذہن میں جناح کو نظر انداز کرنے کا خیال فوراً آ جاتا تھا، جناح نے پاکستان نہیں جیتا، کانگریسی لیڈر جناح کو پاکستان ہار بیٹھے۔
جناح شروع ہی سے معاندانہ اور حاسدانہ رویہ کا شکار ہوئے۔ گاندھی جب جنوبی افریقہ سے واپس آئے تو ان کے اعزاز میں ایک تقریب میں جناح نے خطاب کیا۔ جوابی تقریر میں گاندھی نے جناح کو ’’محمڈن ‘‘کے طور پر یاد کیا۔ سٹینلے اپنی کتاب’’جناح آف پاکستان‘‘ میں لکھتے ہیں:
Jinnah, in fact hoped from his anglophile appearance and secular wit and wisdom to convince the Hindu majority of his colleagues and countrymen that he was indeed qualified to lead any of their public organizations. Yet, here, in the first public words Gandhi uttered about him that everyone had to note that Jinnah was a “Mohammaden”.
(جناح اپنے لباس، تراش خراش اور دنیاوی ذہانت و ذکاوت سے یہ امید رکھتے تھے کہ وہ ہندو اکثریت، دوست احباب اور اہل وطن کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوں گے کہ وہ کسی بھی عوامی تنظیم کی سربراہی کے حقدار ہیں۔ لیکن گاندھی نے اپنی پہلی ہی عوامی تقریر میں جناح کے بارے میں ہر ایک کو یہ باور کرانا پسند کیا کہ جناح ایک ’’محمڈن‘‘ ہیں)
قائداعظم محمد علی جناح کی سحر انگیز شخصیت کے لئے لاتعداد کتب لکھی گئیں ۔ سابق بھارتی وزیر خارجہ ، وزیر خزانہ اور BJP کے سینئر رہنما جسونت سنگھ کی کتاب ’’ Jinnah: India, Partition, Independence‘‘ قابل ذکر ہے جس میں اس اعتدال پسند ہندو مصنف نے ببانگ دہل لکھا کہ قائداعظم جیسے رہنما صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ، جسونت سنگھ لکھتے ہیں کہ محمد علی جناح ہندو مسلم اتحاد کی علامت تھے مگر کانگرسی رہنمائوں کی انگریزوں کے ساتھ مل کر کی گئی سازشوں اور مسلمانوں کی نسل کشی نے ان کے سامنے علیحدہ مملکت کے قیام کے سواکوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ یاد رہے کہ مذکورہ کتاب 2009 میں شائع ہوئی جس کی اشاعت کے بعد BJP اور RSS ( راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ) نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور جسونت سنگھ کو جان کے خطرے کے پیش نظر فول پروف سیکورٹی مہیا کرنی پڑی، جسونت سنگھ کو BJP سے نکال دیا گیا اور پورے بھارت میں ان کو پاکستان کا ایجنٹ ہونے کے علاوہ بھی مختلف خطابات سے نوازا گیا، جسونت سنگھ نے کتاب میں لکھا کہ قائداعظم محمد علی جناح کو بھارت میں ایک ’’ولن‘‘ اور ’’شیطان‘‘ کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پنڈت جواہر لعل نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل بھارت کی تاریخ کے مکروہ ترین کردار ہیں ، قائد اعظم کا تو خواب تھا کہ برصغیر میں تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پا جائیں۔ واضح رہے کہ بھار ت کے چوٹی کے رہنما اور BJP کے سینئر ترین لیڈر ’’ایل کے ایڈوانی‘‘ نے 2005 میں اپنے دورہ پاکستان کے دوران مزار قائد پر حاضری دی اور محمد علی جناح کے لئے ’’ وہ عظیم رہنما جس نے تاریخ رقم کی‘‘ کے الفاظ استعمال کیے جس کے بعد بھارت میں حسب روایت ایک بھونچال کھڑا ہو گیا۔ اس کے علاوہ ’’سروجنی نائیڈو، پرشانت بھوشن، راچند ناتھ سچر، معروف صحافی کرن تھاپڑ‘‘ (یاد رہے کہ کرن تھاپڑ کے والد پی این تھاپڑ 1962 کی بھارت چین جنگ میں بھارت کے آرمی چیف تھے) سمیت بھارت کی متعدد نمایاں شخصیات کی جانب سے مختلف مواقع پر قائد کی عظمت کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ محمد علی جناح حقیقی معنوں میں ہمارے قائد اعظم تھے۔ ان کی بے غرضی کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے سخت ڈسپلن سب سے پہلے خود پر نافذ کیا، جن ضوابط کی وہ دوسروں سے توقع باندھتے تھے، خود سب سے پہلے انھیں انجام دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے تخلیق پاکستان کا وہ کارنامہ انجام دیا جس کی نظیر پیش کرنے سے تاریخ قاصر ہے.
حوالہ جات:
1-Jinnah Of Pakistan By Stanley Walpert
2- Jinnah: India, Partition Independence By Jaswant Singh
3- Jinnah By Akbar S. Ahmad
4-The Charismatic Leader: Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah and the Creation of Pakistan By Dr Sikandir Hayat
5-Shameful Flight By Prof. Stanley walpert
#Jinnah_By_Sahibzada_Zabir_Saeed
#صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدںدر

Comments