لارڈ میکالے کا تعلیمی منٹ ایک تجزیاتی جائزہ زابر صاحب زادہ
لارڈمیکالے کا تعلیمی منٹ اور برصغیر میں ساختی تبدیلی کا آغاز: ایک تجزیاتی مطالعہ
زابر صاحبـــــــــزادہ
برصغیر کی تعلیمی اور فکری تاریخ میں 2 فروری 1835ء کو لارڈ میکالے کی پیش کردہ “منٹ آن ایجوکیشن” ایک انقلابی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس مقالے پر اس لیے تنقید کی جاتی ہے کہ انہوں نے یہ بات کہی جو ان دنوں یورپ کی یونیورسٹیوں میں کہی جاتی تھی اپنے مقالے میں انہوں نے یہی کہا کہ اکثر میں نے سنا ہے کہ مشرق کے ادب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہمارے یہاں کتابوں کی ایک الماری عرب اور ہندوستان کے کے پورے علمی سرمائے پر بھاری ہے
میکالے نے اس وقت کے تعلیمی نظام، جس میں عربی اور سنسکرت زبانوں کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی، پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:
“A single shelf of a good European library was worth the whole native literature of India and Arabia.”
وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انگریزی زبان میں نہ صرف سائنس، تاریخ اور فلسفے کا ذخیرہ وسیع ہے بلکہ یہ زبان دنیا کے جدید علم کا دروازہ کھولتی ہے۔
ایک اہم نکتہ جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ عربی زبان ایک دور میں سائنسی ترقی کا ذریعہ تھی۔ خلافت عباسیہ کے دور میں بیت الحکمہ جیسے ادارے، الجبرا، فلکیات، طب، اور فلسفہ کے عظیم ذخیرے عربی زبان میں ہی مدوّن ہوئے۔ لیکن بغداد کی تباہی (1258ء) کے بعد یہ روایت ختم ہو گئی۔ اس کے بعد ہمیں کوئی قابلِ ذکر سائنسی، سوشیالوجیکل، یا اکنامک دریافت عربی میں نہیں ملتی۔
یہ بات درست ہے کہ فارسی اور عربی شاعری میں رومی، سعدی، حافظ جیسے عظیم شعرا نے گراں قدر سرمایہ چھوڑا، لیکن 18ویں اور 19ویں صدی میں یہ شاعری ایک محدود اور غیر عملی دائرے میں مقید ہو چکی تھی:
زلفوں کی خمیدگی، کمریں، ہرنی جیسی آنکھیں، محبوب کے کج کلاہوں اور کملی کی نازکی یہی شاعری کا موضوع بن چکا تھا۔
اس طرح کی شاعری سے نہ قوموں کا مقدر بدلتا ہے، نہ سائنس، نہ معیشت، نہ سیاست۔ میکالے کا اصرار تھا کہ ایسی زبانیں جو محض ماضی کی داستانوں اور مبالغہ آمیز قصوں سے بھرپور ہیں، وہ جدید ذہن پیدا نہیں کر سکتیں۔
میکالے کے اس ویژن کا عملی ظہور ہمیں علی گڑھ تحریک میں نظر آتا ہے۔ سر سید احمد خان نے یہی محسوس کیا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کا بنیادی سبب ان کا دقیانوسی تعلیمی نظام اور زبان پر اصرار ہے۔ انہوں نے انگریزی تعلیم کو اپنایا، اور جدید سائنسی تعلیم کے فروغ کی کوشش کی۔
علی گڑھ سے ہی وہ نسل پیدا ہوئی جس میں ،جسٹس شاہ دین, سر علی امام, علامہ اقبال، قائداعظم محمد علی جناح,مولانا محمد علی جوہر، سر عبدالرشید، سر شفیع، سر علی امام, سر رحیم الدین جیسے لوگ شامل ہیں۔ یہ لوگ آکسفورڈ، کیمبرج، لنکنز اِن، جیسے اداروں سے تعلیم یافتہ تھے۔ انگریزی نے انہیں صرف جدید علوم سے نہیں جوڑا، بلکہ یورپی تہذیب کے ساتھ مکالمہ کرنے کا ہنر بھی دیا۔
کیا یہ رہنما عربی اور فارسی سیکھ کر وہ مقام حاصل کر سکتے تھے؟ شاید نہیں۔ اور اگر ہو بھی جاتا، تو ان کا یورپ سے فکری اور سیاسی رشتہ استوار نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ انگریزوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکتے تھے۔
انگریز اس منطق کو سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں اور ان کی بنائی جمہوریت اس ملک کے لیے نقصان دہ بلکہ مہلک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے اپنے یہاں ہندوستان جیسے تعصب بھرے معاشرے کا کوئی تصور نہیں تھا جہاں مختلف مذہب کے لوگ صدیوں سے رہ رہے ہوں کیونکہ اگر جداگانہ انتخاب کا نعرہ اور انڈیا مسلم لیگ نہ لگاتی تو پاکستان کبھی نہیں بن سکتا تھا سر سید احمد خان جسٹس شاہدین سر میاں محمد شفیع علامہ اقبال اور بالاخر محمد علی جناح اس نقطے پر متفق ہوئے اور پاکستان بننے کی راہ مبار ہوئی اگر وہ یہ تعلیم حاصل نہ کرتے تو کس طرح انگریز ارباب اختیار کو جا کر گول میز کانفرنسوں میں شرکت کر کے اپنا موقف بتا سکتے اس کے علاوہ جنہوں نے فارسی اور عربی پڑھنی تھی انہوں نے انگریزی کے ساتھ اس کو بھی پڑھا
یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ فارسی اور عربی کے ترک کرنے سے ہمارا ماضی سے ایک تعلق بھی منقطع ہوا۔ فارسی صرف شاعری کی زبان نہیں تھی، بلکہ مغلیہ دور کی سرکاری زبان بھی تھی۔ ہزاروں تاریخی دستاویزات، قوانین، مکاتیب، اور تہذیبی بیانات فارسی میں موجود تھے۔ انگریزی نے جہاں ایک نیا در کھولا، وہیں ماضی کی فکری میراث سے ایک فاصلہ بھی پیدا کیا.
لارڈ میکالے کے نظریات براہِ راست علی گڑھ تحریک کا پیش خیمہ بنے۔ سر سید احمد خان نے میکالے کی پالیسی کو عملی جامہ پہنایا۔ اگر ہم صرف فارسی اور عربی کے سائے میں رہتے، تو علی گڑھ تحریک کبھی وجود میں نہ آتی۔ یہ انگریزی تعلیم یافتہ طبقہ ہی تھا جس نے مسلمانوں کو جدید دور کے مطابق تیار کیا، اور یہی طبقہ بعد میں تحریکِ پاکستان کا محرک بنا۔
میکالے اگرچہ ایک نوآبادیاتی نمائندہ تھا، مگر اس کے دلائل اصلاحی نوعیت کے تھے۔ اس نے برملا کہا:
“We must at present do our best to form a class who may be interpreters between us and the millions whom we govern, a class of persons Indian in blood and colour, but English in tastes, in opinions, in morals and in intellect.”
یہ بات اپنے اندر سامراجی نکتہ نظر رکھتی ہے، لیکن یہی وہ جملہ ہے جس سے ایک نئی فکری اشرافیہ جنم لیتی ہے، جو بعد میں انگریزوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان سے سوال کرتی ہے۔
1833 میں کلکتہ کی مدرسہ میں 77 عربی طلبا کو حکومت ماہانہ وظیفے دیتی تھی، جب کہ انگریزی سیکھنے والے طلبا خود فیس ادا کرتے تھے۔
School Book Society کے انگریزی کتب کے لاکھوں نسخے فروخت ہوتے، جب کہ 23000 عربی و سنسکرت کتابیں حکومت کو مفت بانٹنی پڑتی تھیں۔
میکالے نے صاف کہا: “We cannot find in all our vast empire a single student who will let us teach him those [oriental] dialects, unless we will pay him.”
لارڈ میکالے کا تعلیمی منٹ ایک فکری زلزلہ تھا۔ اس نے ہمیں:
1. یورپ سے جوڑا
2. سائنس اور جدید تعلیم کی بنیاد دی
3. علی گڑھ تحریک کو جنم دیا
4. ایسی قیادت پیدا کی جس نے برصغیر کو آزادی کی جانب لے جایا
اگرچہ یہ منٹ سامراجی عزائم کا حامل تھا، لیکن اس نے تعلیمی لحاظ سے ایک قیمتی شعور بیدار کیا۔ عربی اور فارسی کا احترام اپنی جگہ، لیکن جدید دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے انگریزی ایک لازم زبان تھی، ہے، اور شاید آئندہ بھی رہے گی۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اردو فارسی اور عربی کو پڑھنا چھوڑ دیں کوئی بھی قوم جب زبان سے دور ہوتی ہے درحقیقت وہ اپنے ماضی اور تہذیب یا کلچرل ویلیوز سے دور ہو جاتی ہے
ہمیں انگریزی میں موجود عظیم سرمایہ علم کو اردو میں ڈھالنے کی بہت ضرورت ہے بالکل اسی طرح جیسے ہمیں فارسی اور عربی میں موجود عظیم علمی سرمائے کو بھی اپنی زبان میں ڈھالنے کی ضرورت ہے
لیکن بدقسمتی سے ابھی تک ہم اردو اور دیگر علاقائی زبانوں کے ساتھ بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں ابھی تک اپنی قومی زبان اردو کو ہی اس کی اصل حیثیت نہیں دے سکے اب ہم ازاد ہو چکے ہیں جس وقت مکالے نے یہ مشورہ دیا بھلے اس نے کسی تعصب میں دیا ہو لیکن ہمارے لیے وہ بہتر ثابت ہوا کہ ہم ایک علیحدہ وطن حاصل کر سکے
کیونکہ یہی سر سید احمد خان اور محمدن ایجوکیشنل کانفرنس کے سرکردہ رہنماؤں کا خیال تھا کہ انگریزی زبان سیکھ کر ہی ہم اپنے نئے حکمرانوں سے ان کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر بات کر سکتے ہیں اور ان کا یہ ویژن درست ثابت ہوا
اور ہم دیکھتے ہیں کہ دو تین دہائیوں بعد ہمارے عظیم رہنما جسٹ شاہدین سر محمد شفیع سر علی امام محمد علی جنا علامہ محمد اقبال اور دیگر وائس رائے کے ساتھ ان کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر بات کر رہے ہیں یہی علی گڑھ کی تحریک کا بنیادی مقصد تھا اور یہی مقصد ہمیں محمدن ایجوکیشنل کانفرنس سے ہوتا ہوا 1906 میں ال انڈیا مسلم لیگ کے قیام کی صورت میں نظر اتا ہے
یہ سارے رہنما کہیں نہ کہیں ہندو مسلم اتحاد کے زبردست سفیر رہے ہیں سر سید احمد خان ہندو مسلمان کو دلہن کی دو انکھیں کہا کرتے دیگر تمام رہنما بھی ہندو مسلم اتحاد کے قائل رہے قائد اعظم کو تو سروجنی نائیڈو نے ہندو مسلم اتحاد کا سفیر تک قرار دے دیا
لیکن نتیجہ کیا نکلا اخر کار یہ تمام رہنما ہندو لیڈرشپ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اور ان کے شدید تعصب کی وجہ سے اس نتیجے پر پہنچے کہ ہم اکٹھے نہیں چل سکتے
لہذا ان بحثوں میں پڑنے کی بجائے ہمیں اپنی قومی زبان میں علم کے سرمائے کے محلات بنانے کی ضرورت ہے ہمیں اردو زبان کے اندر علم کا تاج محل بنانے کی ضرورت ہے تب جا کے ہم حقیقت پسندانہ انداز میں ازادی سے صحیح معنوں میں لطف اندوز ہو سکیں گے
Macaulay, T.B., “Minute on Indian Education,” 2 February 1835.
Gauri Viswanathan, Masks of Conquest: Literary Study and British Rule in India, 1989.
Francis Robinson, The Ulama of Farangi Mahall and Islamic Culture in South Asia, 2001.
Mushirul Hasan, From Pluralism to Separatism, 1995.
#صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدںدر
#زابرصاحبـــــــــزادہ
#لارڈمیکالے

Comments