سیاسی اختلاف کو کفر کہنا ایک تاریخی فکری اور جزباتی مطالعہ
"سیاسی اختلاف کو کفر کہنا: ایک تاریخی، فکری اور جذباتی مطالعہ"
Zabir Saeed Badar
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
تعارف
ہم آج کے دور میں ایک خطرناک رجحان کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں مذہبی یا سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو نہ صرف "غدار" کہا جاتا ہے، بلکہ "کافر" بھی قرار دیا جاتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ روش نئی نہیں بلکہ اس کی جڑیں قیامِ پاکستان سے بھی پہلے کی سیاست، خاص طور پر آل انڈیا مسلم لیگ کی داخلی فضا میں موجود تھیں۔
یہ تحقیق اسی پس منظر پر روشنی ڈالتی ہے کہ کس طرح جذباتیت، مذہب اور سیاسی مفاد کو آپس میں گڈمڈ کر کے ایسی فضا پیدا کی گئی جس نے مخالفین کو مذہبی دائرے سے ہی خارج کر دیا، اور یہ سلسلہ آج بھی ہماری سیاسی گفتگو میں جاری ہے۔
تحقیقی سوالات:
1. کیا قیامِ پاکستان سے قبل مسلم لیگ میں ایسے رجحانات موجود تھے کہ مخالفین کو مذہبی بنیاد پر مسترد کیا جائے؟
2. کیا قائدینِ مسلم لیگ ان جذباتی اور انتہاپسندانہ رویوں سے متفق تھے؟
3. بیگم جہاں آرا شاہنواز جیسے محب وطن رہنما، جن کے والد مسلم لیگ کے بانی تھے، ان کے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ کن نظریاتی تضادات کو ظاہر کرتا ہے؟
4. آج کے پاکستان میں جو مذہبی شدت پسندی اور نظریاتی شدت دکھائی دیتی ہے، کیا اس کی جڑیں اس سیاسی کلچر میں موجود ہیں؟
5. کیا اس مسئلے پر کبھی باقاعدہ تحقیق ہوئی ہے؟ اگر نہیں، تو اس کی ضرورت کیوں ہے؟
مواد و بحث:
جذباتی سیاست کی ابتدا:
یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ مسلم لیگ نے سیاسی بیداری میں اہم کردار ادا کیا، مگر جلد ہی اس میں جذباتی نعرہ بازی کا عنصر غالب آنے لگا۔
میاں محمد شاہ دین، جو بعد ازاں برطانوی پنجاب کے پہلے مسلمان چیف جسٹس بنے، اور جنہیں مسلم لیگ کے ابتدائی بانی اراکین میں شمار کیا جاتا ہے، انہوں نے انجمن حمایت اسلام کے ایک جلسے میں صاف کہا:
"یہ کہنا غلط ہے کہ جذباتی شاعری اور نعرے بازی نوجوانوں کو شعور دیتی ہے۔ ہمیں ہوش مند، سنجیدہ اور باخبر افراد کی ضرورت ہے، نہ کہ نعرہ باز مجمع کی۔"
یہ وہ آواز تھی جو وقت سے پہلے انتباہ دے رہی تھی کہ سیاست میں جذباتیت کا غلبہ آگے چل کر مہلک ہو گا۔ اس دور کے انجمن حمایت اسلام کے جلسوں میں جذباتی شاعری اور نعرے بازی کا عام رواج تھا، اور علامہ اقبال بھی ان میں باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے۔ اگرچہ علامہ اقبال خود جسٹس شاہ دین سے بہت متاثر تھے اور ان پر نظم بھی لکھی، مگر جسٹس شاہ دین نے اس جذباتی لہر کو سیاسی شعور کے لیے نقصان دہ سمجھا۔
بیگم جہاں آرا شاہنواز کا واقعہ:
بیگم جہاں آرا شاہنواز، سر میاں محمد شفیع کی صاحبزادی تھیں، جنہوں نے نہ صرف مسلم لیگ کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ "آل انڈیا مسلم لیگ" کا نام تجویز کرنے والے بھی وہی تھے۔ ان کی بیٹی جب خواتین کی بہبود کے لیے وائسرائے کی قائم کردہ کمیٹی میں شامل ہوئیں، تو انہوں نے واضح کیا:
"میں بحیثیت مسلم لیگی نہیں بلکہ برصغیر کی تمام عورتوں کی نمائندہ کی حیثیت سے شامل ہو رہی ہوں۔ مسلم لیگ تو میرے والد کا بچہ ہے، اس سے میرا رشتہ کوئی توڑ نہیں سکتا۔"
مگر قائداعظم محمد علی جناح نے انہیں پارٹی سے خارج کر دیا۔
اشیش کول (Yale University) اپنی 46 صفحات پر مشتمل تحقیق میں لکھتی ہیں:
"یہ وہ نکتہ تھا جہاں انسانیت کو سیاسی وفاداری کے نیچے رکھا گیا۔ یہی وہ رخ تھا جس نے مسلم لیگ کی سیاست کو ایک ایسا رخ دیا جس سے پاکستان میں سیاسی، مذہبی، طبقاتی، نفسیاتی اور علمی تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔"
جناح اور انتہا پسندی:
سٹینلے والپرٹ اپنی کتاب "Jinnah of Pakistan" میں لکھتے ہیں:
"جناح دلائل پر یقین رکھتے تھے، مگر مسلم لیگ کے نچلے درجے کے ورکرز کی جذباتی شدت پسندی کو وہ مکمل طور پر روک نہ سکے۔"
موجودہ دور میں مظاہر:
آج ہمیں یہی جذباتیت مختلف شکلوں میں دکھائی دیتی ہے:
اختلاف رائے رکھنے والے کو غدار کہہ دینا
دوسری زبان بولنے والے کو دشمن سمجھ لینا
دوسری پارٹی کے حامی کو کافر کہنا
اختلاف کو ناقابلِ معافی جرم بنا دینا
یہ وہ رویے ہیں جن کا آغاز نوآبادیاتی دور کے "Divide and Rule" فلسفے سے ہوا، اور آج تک ان کا زہر ہمارے معاشرے میں سرایت کیے ہوئے ہے۔
تحقیقی ضرورت:
اس موضوع پر اب تک کوئی مفصل تحقیقی مقالہ موجود نہیں جو پاکستان کے اندر جذباتیت، مذہب، اور سیاست کے گٹھ جوڑ کا سنجیدہ جائزہ لے۔ یہ تحقیق صرف ایک آغاز ہے، اور اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ ہمیں اپنے نصاب، تربیت اور سیاسی ڈسکورس کو نئے انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
نتائج (خلاصہ):
مسلم لیگ کے بانی رہنماؤں میں اختلاف رائے کے لیے گنجائش موجود تھی
جذباتیت کا استعمال آہستہ آہستہ ایک سیاسی ہتھیار بن گیا
بیگم جہاں آرا شاہنواز کا واقعہ اس تضاد کو اجاگر کرتا ہے
آج بھی ہم اسی روش پر چل رہے ہیں، اور اختلاف کو کفر یا غداری سمجھتے ہیں
اگر اس پر سنجیدہ تحقیق نہ ہوئی تو معاشرتی تفریق اور بڑھتی چلی جائے گی
Footnotes :
1. Stanley Wolpert, Jinnah of Pakistan (Oxford University Press, 1984).
2. Muhammad Zabir Saeed Badar, PhD Thesis, Department of History and Pakistan Studies, University of the Punjab, Lahore.
3. Ashish Kaul, "Begum Jahan Ara Shahnawaz and the All India Muslim League,” Yale University, USA, unpublished manuscript.
Comments