زہران ممدانی کی جیت ایک کھلے سماج کی جیت ہے، زابر سعید بدر
شاباش امریکہ
صاحبـــــــــزادہ محمد زابر سعید بدر
صدر ٹرمپ اور ایلون مسک کی جانب سے مخالفت کے باوجود مسلم امیدوار ظہران ممدانی نیویارک شہر کے میئر منتخب ہوگئے۔
یہ خبر آج دنیا کے سارے میڈیا میں نمایاں ہے، لیکن سماجی علوم کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں اس فتح کو امریکی سماج کے نام کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے اندر اتنی وسعت پیدا کی کہ ایک مسلمان کو کھلے دل کے ساتھ نہ صرف قبول کیا بلکہ اسے منتخب کیا، جبکہ امریکی صدر اور ایک طاقتور شخص ایلون مسک اس کے خلاف تھے۔
ظہران کی کامیابی ہمیں کھلے معاشروں کے فوائد کا بھی دیدار کرواتی ہے کہ کہاں ہمارے بند معاشرے، کہ ہم کن بحثوں میں پڑے ہیں، سانس کسی کو دینے کے لیے بھی گویا احسان کرتے ہیں۔ امریکی معاشرہ ہمیں ایک ایسا معاشرہ نظر آتا ہے جو خدا کی پلاننگ کے مطابق ہے کہ سب کو جینے کا حق دو، سوچنے کا حق دو، کہنے کا حق دو۔
کبھی آپ تصور کیجیے کہ ہمارے پاکستان، انڈیا اور ایسے ہی ممالک میں اس قسم کی کامیابی کا کوئی تصور بھی کیا جا سکتا ہے؟
اس لیے میں کہہ رہا ہوں کہ یہ ظہران ممدانی کی کامیابی نہیں بلکہ امریکی معاشرے کی کامیابی ہے، ان کی لبرٹی کی کامیابی ہے۔ انہوں نے جو نعرہ دیا، وہ انہوں نے کر دکھایا۔ ان کا سماج، ان کا معاشرہ، ان کی سوسائٹی ایک کھلا معاشرہ ہے، اوپن معاشرہ ہے۔ اس میں بھی خامیاں ہیں، مسائل ہیں، لیکن انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دنیا کے دیگر خطوں کی طرح تنگ نظر اور کم ظرف نہیں ہیں۔
انہوں نے یہ کر دکھایا ہے کہ کسی کالے کو گورے اور گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں ہے۔
1964 میں میرے والد جناب سعید بدر صاحب کو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی بہن، مادرِ ملت فاطمہ جناح نے کہا تھا کہ "جمہوریت پنپنے میں ایک وقت لیتی ہے، لیکن جمہوریت ہی کامیابی ہے"۔
آج مجھے والد صاحب کے وہ الفاظ یاد آتے ہیں جو فاطمہ جناح نے کہے تھے کہ جمہوریت کتنی خوبصورت ہے، لیکن ہمارے یہاں اس کو کتنا بدصورت بنا دیا گیا ہے۔
ہم جمہوریت کو ہی برا کہتے ہیں۔ اگر ہم موبائل کا غلط استعمال کرتے ہیں تو موبائل کی ایجاد کو برا کہتے ہیں، ہم موبائل ایجاد کرنے والے کو برا کہتے ہیں لیکن اپنے آپ کو برا نہیں کہتے جو اس کا غلط استعمال کر رہا ہے۔
ہمیں ٹی وی برا لگتا ہے، لیکن یہ برا نہیں لگتا کہ ہم اس کا استعمال غلط کرتے ہیں۔ ہمیں وی سی آر برا لگتا تھا، لیکن خود اپنا آپ برا نہیں لگتا تھا جو اس کا غلط استعمال کرتا ہے۔
یہ جو دوغلا پن ہے، اس نے ہمیں برباد کر دیا ہے۔ امریکی معاشرہ بڑی حد تک اس سے باہر آ چکا ہے، اور اس کی وجہ صرف اور صرف تعلیم اور جمہوریت ہے۔
یہ وہ سبق ہے جو خدا نے ہمیں بار بار یاد دلایا ہے: "علم حاصل کرو"۔
لیکن ہم علم سے ہزاروں نوری سال کے فاصلے پر ہیں، ہم شعور و فکر سے اربوں نوری سال کے فاصلے پر ہیں۔
ہم کب انسان بنیں گے، میں نہیں جانتا۔ کاش ہم انسان ہی بن جائیں۔
لیکن امریکیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک بہترین سماج کا حصہ ہیں۔
یہ کوئی امریکیوں کا مجھ پر رعب طاری نہیں ہے بلکہ ان کی اچھی سماجی و اخلاقی اقدار کا اظہار ہے کہ انہوں نے اس گولے پر عدل اور مساوات کا ایک بہترین نظام قائم کیا ہے۔
ان کے حکمران بھلے جو بھی کہیں، لیکن ان کے اندر بحیثیت ایک انسان ایک شعور موجود ہے۔ وہ غلط کو غلط اور درست کو درست کہنے کی نہ صرف ہمت رکھتے ہیں بلکہ ان کا سماج اس کو برداشت کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔
اس میں ان کو بہت جدوجہد کرنی پڑی، بڑے عظیم نام اس جدوجہد میں ہم یاد کر سکتے ہیں۔
لیکن آج وہ معاشرہ ایک بہترین معاشرت کہلایا جا سکتا ہے۔
آپ دیکھ لیں دیگر ممالک، اور نام نہاد سپر پاورز، ان کے معاشرے بند معاشرے ہیں، جہاں سانس لینے کو بھی کسی پارٹی یا کسی حکومت کا اشارہ چاہیے ہوتا ہے۔
لوگ ظہران ممدانی کی کامیابی کو ایک مسلمان کی کامیابی سمجھ رہے ہیں — یہ بھی ایک زاویہ نظر ہے — لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ امریکی کھلے سماج کی وہ کامیابی ہے جس پر انسانی فکر کی ارتقا کو کروڑوں سال لگ گئے۔
اس شخص کو نیویارک کا میئر منتخب کیا گیا جس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ "میں اسرائیلی صدر کو نیویارک میں نہیں آنے دوں گا"۔
یہ ہے جمہوریت، یہ ہے عوام کی حکومت، عوام کے لیے اور عوام کے ووٹوں سے۔
یہ وہ جمہوریت کا حسن ہے، وہ خوبصورتی ہے جس کے لیے ہمارے جیسے بند معاشرے ترس رہے ہیں۔
امریکی معاشرہ زندہ باد، امریکی جمہوریت زندہ باد، انسانیت زندہ باد، اخلاقیات زندہ باد، انسان زندہ باد، محبت زندہ باد، رواداری زندہ باد، برداشت زندہ باد، تحمل زندہ باد، بردباری زندہ باد۔


Comments