دھرمندر, — بچپن کی یادوں کی فریمنگ کا اہم کردار,زابر سعید بدر


 دھرمندر — بچپن کی یادوں کی فریمنگ کا اہم کردار

صاحب زادہ زابرسعیدبدر 




ہندی سینما کے آسمان پر کبھی ایک ایسا ستارہ چمکا تھا جس کی چمک میں معصومیت بھی تھی، وقار بھی،

ہیرو ازم بھی تھا اور انسان دوستی کی خوشبو بھی۔

یہ ستارہ دھرمندر تھا— وہ شخص جسے عوام نے صرف پردے کا ہیرو نہیں کہا،

بلکہ اپنا کہا، اپنوں کا کہا۔


پنجاب کے ایک چھوٹے سے قصبے میں استاد کے گھر پیدا ہونے والا یہ لڑکا

بڑی آنکھوں میں ایک سادہ سا مگر مضبوط خواب لے کر چلا تھا—

فلمی پردے پر وہی کر دکھانے کا جو ایک دور میں

دلیپ کمار، دیو آنند اور راج کپور کیا کرتے تھے۔


دنیا نے دیکھا کہ یہ خواب صرف پورا نہیں ہوا،

بلکہ ایک ایسی رنگین حقیقت میں ڈھلا کہ

دھرمندر نصف صدی تک اسی بڑے پردے کی دھڑکن بنے رہے۔


اس کی آنکھوں میں وہ بھولا پن تھا جو کردار نہیں، شخصیت کی پہچان ہوتا ہے۔

اُن کی مسکراہٹ میں وہ مٹھاس تھی جو کسی آرٹسٹ کی ریہرسل سے نہیں آتی—

وہ تو فطرت بطور تحفہ دیتی ہے۔

اور ان کی عاجزی… وہ تو گویا ان کی ذات کا زیور تھی۔

عزت، شہرت، طاقت… سب کچھ مل جانے کے بعد بھی

وہ دھرمندر کبھی دھرمندر صاحب نہ بنے— ہمیشہ دھرم پا جی ہی رہے۔


فول اور پتھر، میرا گاؤں میرا دیش، چپکے چپکے، شولے، دھرم ویر—

یہ صرف فلمیں نہیں، ایک عہد کے جذباتی حوالہ جات ہیں۔

جہاں بھی دھرمندر آیا، وہاں دل بھی جیتے، کہانی بھی۔

ان کے ایکشن میں وقار تھا،

اور ان کی رومانیت میں شرافت کی خوشبو۔


کامیابی کے سفر میں بہت سی کہانیاں سنائی جاتی ہیں—

لیکن دھرمندر کی کامیابی کا سب سے روشن پہلو

اُن کا وہ ’’بھولپن بھرا بڑا پن‘‘ تھا جو وقت گزرنے کے باوجود کبھی کم نہ ہوا۔

وہ اپنے اہلِ خانہ، دوستوں، اور ان سینکڑوں لوگوں کا سہارا بنے رہے

جو روزگار اور امید کے رشتے سے ان سے جڑے تھے۔


زندگی کی اس دوڑ میں جب بہت سے لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں

تو کچھ لوگ آگے بڑھ کر ہاتھ تھام لیتے ہیں۔

دھرمندر انہی میں سے تھے—

شہرت کے مینار پر کھڑے ہو کر بھی دوسروں کا ہاتھ نہ چھوڑنے والے۔


آج جب وہ اس دنیا کے اسٹیج سے رخصت ہو چکے ہیں،

تو احساس یوں ہوتا ہے جیسے سینما کا ایک پورا موسم،

ایک پوری خوشبو،

ایک پوری نسل کی یادیں

آہستہ آہستہ دھند میں لپٹ رہی ہیں۔


لیکن ستارے صرف ڈوبتے نہیں—

وہ روشنی چھوڑ جاتے ہیں۔

اور دھرمندر کی روشنی…

اب بھی ہر اُس دل میں جلتی ہے

جو کبھی اُن کی فلموں کے ساتھ بڑا ہوا،

کبھی اُن کے مکالموں پر مسکرایا،

اور کبھی اُن کی ایماندار آنکھوں میں سچائی تلاش کی۔


دھرمندر چلے گئے…

لیکن اُن کا عہد، اُن کی خوشبو، اُن کی ادا، اُن کی شرافت—

اب بھی ہمارے اندر زندہ ہے۔


وہ واقعی صرف ایک دھرمندر تھے،

اور رہیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا