ابراہم لنکن کا اپنے بیٹے کے استاد کے نام خط, صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

 “ابراہم لنکن سے منسوب ایک مشہور خط — 


(نوٹ: مورخین کے مطابق اس خط کی اصل موجود نہیں، مگر اس کے الفاظ حکمت اور تربیت سے بھرپور ہیں، اسی لیے اسے تعلیمی و اخلاقی پیغام کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔)



________

استادِ محترم!

میرا بیٹا آج آپ کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک نیا سفر ہے—ایک ایسا سفر جو دنیا کی کروڑوں حقیقتوں سے اسے روشناس کرائے گا۔

میں جانتا ہوں کہ اسے یہ سیکھنا پڑے گا کہ ہر انسان عادل نہیں ہوتا، ہر شخص سچّا نہیں ہوتا۔

لیکن، مہربانی فرما کر اسے یہ بھی سکھائیے گا کہ ہر بدطینت آدمی کے مقابلے میں ایک نیک دل انسان موجود ہوتا ہے، ہر خود غرض سیاستدان کے سامنے ایک سچّا اور مخلص رہنما بھی کھڑا ہوتا ہے، اور ہر دشمن کے مقابل کسی نہ کسی گوشے میں ایک دوست بھی مل جاتا ہے۔


اسے سکھائیے کہ ہار مان لینا آسان ہے، مگر جینے کا اصل سلیقہ اُن لوگوں کے پاس ہوتا ہے جو مشکلات سے لڑنا جانتے ہیں۔

وہ یہ بھی جانے کہ دنیا دھوکے بھی دیتی ہے، مگر اسی دنیا میں وہ لوگ بھی ہیں جو دوسروں کے لیے دیوارِ سایہ بن کر کھڑے رہتے ہیں۔


اسے کتابوں کی دنیا سے محبت پیدا کرنا سکھائیے،

لیکن ساتھ یہ بھی ضرور سکھائیے کہ قدرت کی خاموش آوازوں کو سننے کے لیے دل میں جگہ رکھنا کتنی بڑی نعمت ہے۔

اسے اجازت دیجئے کہ وہ کبھی کبھار آسمان میں اُڑتے پرندوں کو دیکھ کر سوچ میں ڈوب جائے،

دھوپ میں گونجتی ہوئی شہد کی مکھیوں کی مصروفیت پر حیران ہو،

یا سبز ڈھلوانوں پر کھلتے ہوئے پھولوں کے رنگوں سے اثر لے۔


اسے یہ بھی بتائیے کہ

نرم دل لوگوں کے ساتھ نرمی برتنا شریفوں کی پہچان ہے،

اور ظالموں کے سامنے مضبوط ہوجانا بہادری کی علامت ہے۔


اسے سکھائیے کہ ہر بات کو صرف یک رخی نظر سے نہ دیکھے۔

بحث کرنا سیکھے، مگر چیخنے کے بغیر؛

جیتنا سیکھے، مگر انا کے بغیر؛

ہار جانا سیکھے، مگر دل چھوٹا کیے بغیر۔


استادِ محترم!

اسے یہ یقین دلائیے کہ خود پر ایمان رکھنے والا انسان کبھی تنہا نہیں ہوتا۔

جو اپنے وجود کی قدر کرنا جان لے، وہ پھر انسانیت پر بھی بھروسہ کرنا سیکھ جاتا ہے۔

اسے یہ بھی سمجھا دیجئے کہ سچی کامیابی صرف دماغ سے نہیں، دل سے بھی حاصل ہوتی ہے۔


آخر میں…

یاد رکھیے کہ یہ ایک چھوٹا سا بچہ ہے—

معصوم، نازک، مگر بے پناہ امکانات کا حامل۔

اسے بہترین انسان بنانے میں آپ کا کردار سب سے اہم ہوگا۔

اور میں، ایک والد کی حیثیت سے، آپ پر اپنا سب سے 

قیمتی اثاثہ بھروسے کے ساتھ سپرد کر رہا ہوں۔


زابرسعید انسٹیٹیوٹ اف میڈیا سٹڈیز کی طرف سے طالب علموں کے لیے اور اخلاق عامہ کے لیے جاری کیا گیا

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا