بدتہذیبی: ایک نفسیاتی اور سماجی بحران، زابر سعید بدر

 

بدتہذیبی: ایک نفسیاتی اور سماجی بحران

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر 




بدتہذیبی انسانی ارتقا کے ان اوائل دور کی یادگار ہے جب انسان ابھی شعور کے منازل طے کر رہا تھا؛ جب انسان خوراک کے ایک ٹکڑے کے لیے شاید لڑ پڑتا تھا، قتل کر ڈالتا تھا۔ اس کے بعد قبائل کا سلسلہ شروع ہوا — تو ابھی بھی جو کلٹ سسٹم ہے وہ اس دور کی یادگار کہا جا سکتا ہے۔ یعنی جو لوگ بھی کسی شخصیت پرستی کا شکار ہوتے ہیں، کلٹ کا شکار ہوتے ہیں یا بدتہذیبی کرتے ہیں، ان کا ذہنی ارتقا — بھلے انہوں نے دنیاوی ڈگریوں کا تاج پہنا ہو — لیکن شعوری سطح پر کسی نفسیاتی بیماری کی وجہ سے سماج کے ابتدائی ارتقا کے دور میں موجود ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو معاشرتی بیمار کہا جا سکتا ہے؛ یہ ایک سوشل ڈیزیز بھی ہے۔ ان کا باقاعدہ کسی نفسیاتی ہسپتال میں علاج بہت ضروری ہے۔ یہ بظاہر ہمارے اردگرد مختلف صورتوں اور حالتوں میں نظر آتے ہیں: یہ ماں باپ بھی ہو سکتے ہیں، یہ بہن بھائی بھی ہو سکتے ہیں، یہ دوست احباب بھی ہیں یا اساتذہ بھی ہیں، یہ سٹوڈنٹس بھی ہیں، یہ خاوند بیوی بھی ہیں، یہ سیاستدان بھی ہو سکتے ہیں، وکیل بھی ہو سکتے ہیں، ڈاکٹر بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ بہت خطرناک صورتحال ہے — لیکن یہ نفسیاتی طور پر بیمار ہیں؛ یہ انسانی ارتقا کے ابتدائی شکل کے کسی دور میں جیتے ہیں اور موجودہ مہذب تقاضوں سے اپنے آپ کو جوڑ نہیں پاتے۔ کیونکہ یہ بیمار ہیں، ان کا علاج بہت ضروری ہے۔

بحیثیت ایک سوشل سائنٹسٹ، ابلاغیات، سماجیات، عمرانیات اور نفسیات کے طالب علم کی حیثیت سے میں یہ سمجھ سکا ہوں کہ ایسے لوگ دراصل ذہنی و نفسیاتی سطح پر بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہمدردی کی جانی چاہیے، مگر ان پر ترس کھانا چاہیے — ان سے بحث نہیں کرنی چاہیے، چاہے وہ کسی بھی رشتے یا حیثیت میں آپ کے ساتھ ہوں، کیونکہ وہ ایک بیمار کیفیت میں رہتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم انہیں یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کسی ماہرِ نفسیات سے رجوع کریں یا علاج کروائیں، اور ہم خود بھی ان کا علاج نہیں کر سکتے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ خاموش رہا جائے۔ اب جو رویے ہم نے نواز شریف صاحب کے پارلیمنٹ میں آنے پر پڑھے ہیں، یا سینٹر عرفان صدیقی صاحب کی وفات پر جو تبصرے دیکھے ہیں، اور اس کے علاوہ بھی جو روزمرہ میں سوشل میڈیا پر پڑھتے رہتے ہیں، وہ محض افسوسناک نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ پاکستانی سماج انسانی تہذیب کے ابتدائی دور میں جی رہا ہے۔ یہ ذہنی طور پر بیمار، ناتواں اور جذباتی طور پر غیر متوازن لوگ جدید دنیا کا مقابلہ کیسے کریں گے؟ یہ ایک سنجیدہ سوال ہے جس پر غور ضروری ہے۔ اس کا حل یہی ہو سکتا ہے کہ حکومت اور سماجی ماہرین مل کر ایک طویل المدت پالیسی بنائیں تاکہ اگلی تیس پینتیس سالوں میں آنے والی نسل بہتر شعور کی حامل ہو۔ لیکن موجودہ نسل کو اب قانون کا پابند بنانا پڑے گا، کیونکہ انسانی اصلاح کے دو ہی طریقے ہیں: یا تو فہم و شعور کے ذریعے سمجھایا جائے، یا پھر قانون اور خوف کے ذریعے روکا جائے۔ خوفِ حکومت اور خوفِ قانون ہی وہ قوتیں ہیں جو ایسے لوگوں کو انسان بنا سکتی ہیں۔

یہ رویے دراصل انسانی نفسیات کے ارتقائی پس منظر سے جڑے ہوئے ہیں۔ انسان کے ابتدائی ادوار میں بقا کے لیے جارحیت، غصہ، اور خودغرضی بنیادی جبلّتیں تھیں۔ وہی جبلّتیں آج بھی انسانی لاشعور میں کسی نہ کسی صورت موجود ہیں۔ جب فرد اپنے شعور اور اخلاقی تربیت سے ان جبلّی قوتوں کو قابو میں نہیں رکھ پاتا، تو وہ بدتہذیبی اور خود پرستی کے مظاہر میں ظاہر ہوتی ہیں۔ ایسے لوگ علمی اعتبار سے پڑھے لکھے ہو سکتے ہیں، مگر شعوری سطح پر وہ ابھی بھی ’’ابتدائی انسان‘‘ کے دور میں مقید ہوتے ہیں۔

سماجی نفسیات بتاتی ہے کہ جب انسان کسی شخصیت یا نظریے کی اندھی تقلید میں اپنی انفرادیت کھو دیتا ہے تو وہ “Deindividuation” کا شکار ہو جاتا ہے۔ یعنی اُس کی عقل اور شعور اجتماعی ہجوم کے جذبات میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ یہی کیفیت کلٹ پرستی میں دیکھی جاتی ہے۔ وہ لوگ جو اپنی عقل کو گروہی یا شخصی وابستگی کے تابع کر دیتے ہیں، دراصل ایک ذہنی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے رویے “Narcissistic Personality Disorder” اور “Antisocial Personality Disorder” کی حدوں کو چھوتے ہیں۔ وہ خود کو یا اپنے پیشوا کو اتنا برتر سمجھنے لگتے ہیں کہ سماجی اقدار اور اخلاقی اصول ان کے نزدیک کوئی معنی نہیں 

رکھتے



یہی لوگ سوشل میڈیا پر یا روزمرہ گفتگو میں ایسی نفرت، دشنام اور تحقیر پھیلاتے ہیں جسے وہ اپنی ’’رائے‘‘ سمجھتے ہیں، مگر درحقیقت وہ ایک غیر متوازن ذہنی کیفیت میں ہوتے ہیں۔ ان میں “Cognitive Dissonance” یعنی ذہنی تضاد بھی عام ہوتا ہے: وہ اپنی غلطیوں کے باوجود خود کو درست ثابت کرنے کے جواز تراشتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ نہ صرف خود اذیت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ معاشرے میں نفسیاتی آلودگی پھیلاتے ہیں۔

اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو قرآن انسان کے نفس کے تین مدارج بیان کرتا ہے: نفسِ امّارہ، نفسِ لوّامہ اور نفسِ مطمئنہ۔ جو لوگ بدتہذیبی، تکبر یا کلٹ پرستی میں مبتلا ہیں، وہ نفسِ امّارہ کے قیدی ہیں۔ وہ روحانی ارتقا حاصل نہیں کر پاتے، کیونکہ ان کا باطن ابھی تک ابتدائی حیوانی جبلّتوں سے آزاد نہیں ہوا۔ مذہب اور اخلاق کی اصل روح یہی ہے کہ انسان اپنی نفسیاتی خامیوں پر قابو پا کر نفسِ مطمئنہ تک پہنچے، مگر یہ مرحلہ تربیت، خود احتسابی اور شعوری محنت سے ہی ممکن ہے۔

لہٰذا، ان افراد کا علاج محض طبی یا نفسیاتی سطح پر نہیں بلکہ سماجی و اخلاقی سطح پر بھی ہونا چاہیے۔ یہ علاج تعلیم، تربیت اور قانون کے امتزاج سے ممکن ہے۔ تعلیم شعور دیتی ہے، تربیت کردار سنوارتی ہے، اور قانون نظم و ضبط قائم رکھتا ہے۔ اگر حکومت، تعلیمی ادارے اور میڈیا اس مسئلے کو ’’ذہنی صحت کے بحران‘‘ کے طور پر تسلیم کر لیں تو آئندہ نسلوں کو بہتر انسان بنایا جا سکتا ہے۔

بدتہذیبی، کلٹ پرستی اور نفرت دراصل بیمار ذہنوں کے خارجی مظاہر ہیں۔ یہ لوگ شعوری طور پر نہیں بلکہ لاشعوری خوف، حسد، اور کمزوری کے زیرِ اثر عمل کرتے ہیں۔ ان سے بحث بیکار ہے، کیونکہ وہ عقل کی سطح پر مکالمہ نہیں کر سکتے۔ ایسے لوگوں کے لیے بہترین طرزِ عمل خاموشی، قانون کی بالادستی اور اجتماعی شعور کی بیداری ہے۔ یہی شعور انسان کو حیوانیت سے تہذیب، اوربدتہذیبی سے انسانیت کی طرف لے جاتا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا