"لیڈر" کے کردار کی اہمیت, ایک جائزہ, صاحب زادہ زابر سعید بدر
تجزیہ
______
لیڈر کا باکردار ہونا کیا اس کا ذاتی معاملہ ہے؟
صاحبـــــــــزادہ محمد زابر سعید بدر
لیڈر کا کردار ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہا ہے۔ معاشرے میں جب کوئی شخص غیر معمولی مقناطیسیت رکھتا ہو، خوبصورت ہو، نڈر ہو یا اس کے الفاظ میں ایسا طلسم ہو جو عام آدمی کے دل میں سیدھا اتر جائے، تو لوگ اس کی زندگی کے کچھ پہلوؤں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ کوئی آج کی بات نہیں؛ انسانی ذہن صدیوں سے اسی کمزوری کا شکار رہا ہے۔ دنیا کے بڑے سماجی مفکر Max Weber نے جسے “Charismatic Authority” کہا، وہی حقیقت آج بھی ہمارے سامنے پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ جب کوئی شخصیت کرزما سے لبریز ہو تو لوگ اس کے اردگرد ایک تقدس کی فضا پیدا کر دیتے ہیں۔ پھر اس کے الفاظ دلیل مان لیے جاتے ہیں اور اس کے اعمال جواز بن جاتے ہیں۔ شخصیت کا کرزما کردار کے نقائص پر پردہ ڈال دیتا ہے۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان کا دماغ اپنے پسندیدہ رہنما کی غلطیوں کو آسانی سے قبول نہیں کر سکتا۔ جب کسی لیڈر کے بارے میں اخلاقی تنازعات یا ذاتی کمزوریاں سامنے آئیں تو دماغ میں ایک ٹکراو پیدا ہوتا ہے—جسے ماہرین نفسیات “Cognitive Dissonance” کہتے ہیں۔ مگر چونکہ انسان پہلے ہی اس رہنما سے جذباتی طور پر جڑ چکا ہوتا ہے، اس لیے وہ حقیقت کو بدلنے لگتا ہے تاکہ اپنی پسند کو قائم رکھ سکے۔ یوں غلطی کو غلطی نہیں، بلکہ دشمن کی سازش، میڈیا کی بددیانتی یا ذاتی معاملہ قرار دے دیا جاتا ہے۔
اسی کے ساتھ ایک اور نفسیاتی فریکشن بھی کام کرتا ہے جسے “Halo Effect” کہا جاتا ہے۔ یعنی اگر لیڈر ایک میدان میں انتہائی مضبوط اور کشش رکھنے والا ہو تو لوگ خودبخود اس کے باقی پہلوؤں کو بھی مثالی سمجھنے لگتے ہیں۔ جیسے کوئی شخص خوبصورت ہو تو اسے ذہین بھی سمجھ لیا جاتا ہے؛ کوئی طاقتور بولے تو اسے سچا بھی تصور کر لیا جاتا ہے۔ یوں شخصیت کی چمک آنکھوں کو چکاچوند کرتی ہے اور کردار کا دھندلا عکس پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
یہ سب مل کر وہ کیفیت پیدا کرتے ہیں جسے ہم سادہ الفاظ میں شخصیت پرستی کہتے ہیں؛ ایسا ساحرانہ اثر جس میں پیروکار رہنمائی کے بجائے شخصیت کا پیچھا کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کو حقیقت میں نہیں دیکھتے—بلکہ اپنے ذہن میں بنائی گئی خواہشات کی تصویر دیکھتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ لیڈر کے کردار پر بات کرنا اس کے مشن کے خلاف ہے، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ کردار کے بغیر قیادت سورج کے بغیر روشنی جیسی ہے: وجود تو ہو سکتا ہے، مگر روشنی نہیں۔
اصل سوال آج بھی کھڑا ہے: کیا ایسے رہنما کو جس کی نجی زندگی پر سوالات ہوں، جس کے بارے میں تضادات ہوں، اس کے کردار کو نظر انداز کر کے اس کے دعوے پر بھروسہ کرنا عقلمندی ہے؟ روایت اور تاریخ دونوں یہی کہتی ہیں کہ کردار لیڈر کا پہلا اور سب سے بنیادی ستون ہے۔ اگر وہی کمزور ہو تو عمارت کبھی مضبوط نہیں رہتی۔ مگر انسان خواہشات کا اسیر ہے—وہ اکثر حقائق نہیں، امیدوں کے پیچھے چلتا ہے۔ اسی لیے کچھ لوگ اپنے رہنما کی کمزوریوں کو جانتے ہوئے بھی آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور خود کو یہ کہانی سنا کر مطمئن کر لیتے ہیں کہ “یہ اس کا ذاتی مسئلہ ہے”۔ حالانکہ رہنمائی ہمیشہ ذاتی کردار سے شروع ہوتی ہے، ورنہ قومیں منزل کی بجائے دائرے میں گھومتی رہتی ہیں۔
یہی وہ انسانی اور سماجی حقیقت ہے جسے سمجھے بغیر ہم سیاست، قیادت یا عوامی نفسیات کو نہیں سمجھ سکتے۔
#ZSB
صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر


Comments