ایک ادھورے رشتے کی نفسیات(زابر نامہ)



زٰابِرنامہ

ایک ادھورے رشتے کی نفسیات

از: صاحبزادہ زٰابِر سعِید بٰدِر





کبھی کبھی انسان کسی کو "دوست" سمجھ بیٹھتا ہے، حالانکہ وہ صرف ایک "ساتھی" ہوتا ہے—وقت کا، جگہ کا، یا بس ایک مشترکہ یاد کا۔ مگر انسان کی فطرت ایسی ہے کہ وہ بچپن کے سائے سے امید باندھ لیتا ہے، اور پھر ساری عمر اس امید کو وفا سمجھ کر نبھاتا رہتا ہے۔ یہ نبھانا محبت نہیں، یہ دراصل اپنی ذات سے کی گئی زیادتی ہے، جو اس وہم پر کھڑی ہوتی ہے کہ جو شخص کبھی ہمارا ہم سبق تھا، وہ آج بھی ہماری زندگی میں کوئی حقیقی جگہ رکھتا ہے۔


ایسا تعلق جو بچپن کی خوشبو سے شروع ہو اور وقت کی گرد میں مٹ جائے، وہ اگر لوٹ آئے تو اکثر ہمارے جذبات کے ملبے پر آ کر بیٹھتا ہے۔ وہ شخص جو برسوں بعد ملتا ہے، ہمیں ہماری پرانی سچائیاں یاد دلاتا ہے، مگر اب وہ وقت بدل چکا ہوتا ہے۔ اور وقت کے ساتھ جو لوگ خود کو نہیں بدلتے، وہ دراصل خود کو منجمد رکھتے ہیں—نہ وہ جذباتی طور پر بالغ ہوتے ہیں، نہ اخلاقی طور پر ذمہ دار۔

ایسے لوگ اکثر 

passive-aggressive

 ہوتے ہیں—نہ پوری طرح ساتھ ہوتے ہیں، نہ کھل کر انکار کرتے ہیں۔ وہ آپ کی ایمرجنسی میں غیر حاضر رہیں گے، مگر بعد میں کہیں گے کہ "میں تو ہمیشہ آپ کے لیے حاضر رہا ہوں۔" ان کی یادداشت میں وہی باتیں زندہ رہتی ہیں جو ان کے حق میں ہوں، اور جو کچھ انہوں نے چھینا یا چھوڑا، وہ سب فراموش۔ ایسے لوگ 

cognitive dissonance 

کا شکار ہوتے ہیں—یعنی وہ اپنی شخصیت کی سچائی کو ماننے کی ہمت نہیں رکھتے، اس لیے ایک جھوٹی کہانی بنا لیتے ہیں کہ "میں تو اچھا دوست ہوں۔"


یہ لوگ اکثر 

emotionally unavailable

 ہوتے ہیں۔ وہ آپ کی باتیں سنتے تو ہیں، مگر محسوس نہیں کرتے۔ آپ اگر فون نہ کریں تو وہ بھول جاتے ہیں، مگر جب آپ شکایت کریں تو ان کے لہجے میں حیرت ہوتی ہے: "میں؟ میں کیسے بھول سکتا ہوں؟" وہ اپنی سستی، بے نیازی، اور خود پسندی کو کبھی لاشعوری طور پر بھی تسلیم نہیں کرتے۔


ایسی دوستی اصل میں "

one-sided attachment 

ہوتی ہے۔ ایک شخص نبھا رہا ہوتا ہے، دوسرا صرف برداشت کر رہا ہوتا ہے—یا فائدہ اٹھا رہا ہوتا ہے۔ اور المیہ یہ ہے کہ جو شخص وفا کر رہا ہوتا ہے، وہ اکثر اس تعلق کو تقدس کا جامہ پہنا دیتا ہے، حالانکہ وہ صرف ایک یاد کا بھاری لباس ہوتا ہے۔


ان لوگوں کی ازدواجی زندگیاں بھی اکثر اسی 

pattern

 کی مظہر ہوتی ہیں—نہ اہلیہ سے ذہنی ہم آہنگی، نہ بچوں کی نفسیات کی پرواہ۔ ایک بے سمتی، ایک بے عملی، جو outer success کے پیچھے چھپی ہوتی ہے—چند ڈگریاں، ایک نوکری، ایک ادھ  سوشل میڈیائی پروفائل۔ مگر اندر سے کھوکھلا پن، جو کبھی ایک دوست کو ٹھکرا دیتا ہے، کبھی اپنے بچوں کو پاگل پن کے کنارے لا کھڑا کرتا ہے۔


ایسے لوگوں کی دوستی، اگر کوئی نام دیا جائے، تو وہ "آس کی غلامی" ہے—جہاں ہم امید باندھتے ہیں کہ شاید کبھی یہ شخص بدلے گا، کبھی ہماری تکلیف سمجھے گا۔ مگر سچ یہ ہے کہ وہ نہ کبھی بدلے گا، نہ کچھ سمجھے گا—کیونکہ اسے سمجھنے کی نہ تربیت ملی ہے، نہ نیت۔


اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں اپنے دل کو سمجھانا پڑتا ہے کہ ہر تعلق کو دوستی نہیں کہا جا سکتا۔ کچھ رشتے صرف وقت کے قصے ہوتے ہیں—نہ وہ آغاز میں ہمارے تھے، نہ انجام میں ہمارے ہوں گے۔




Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا