پینا ڈال کی گولی اور ہم (کالم زابریافت)
پینا ڈال کی گولی اور ہم
صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر
حکومت پنجاب کی طرف سے جمعہ ہفتہ اتوار تمام سکول کالج اور یونیورسٹیاں بند کرنے اور جمعہ اور ہفتے کو تمام مارکٹیں گروسری سٹور اور دکانیں بھی بند رکھنے کا فیصلہ گویا ایسا ہی ہے جیسا کسی زمانے میں ڈبل سواری پر پابندی لگائی جاتی تھی یا آج بھی کسی گاؤں کا ڈنگر ڈاکٹر ہر مریض کو پیراسٹامول یا ڈسپرین کی گولی دے دیا کرتا ہے ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ کسی بھی مسئلے یا بیماری کی جڑ میں جائے بغیر بس ڈنگ ٹپاؤ کام کرتے ہیں اسموگ کے حوالے سے نومبر 2016 میں میری رپورٹ جیو کی ویب سائٹ پر موجود ہے اگر ہم اسی وقت ہنگامی بنیادوں پر صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرتے تو آج صورتحال یہ نہ ہوتی شہروں میں جہازی سائز کی گاڑیاں جو جہاں سے گزر جائیں ٹریفک جام ہو جاتی ہے. اگر ان کا استعمال ترک کر دیا جاتا تو اتنے زیادہ فلائی اوورز اور انڈر پاسز بنانے کی بھی ضرورت پیش نہ آتی اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی خاطر خواہ کمی آتی اسی طرح شہروں میں بڑی گاڑیوں کا بے دریغ استعمال اگر حکما بند کر دیا جاتا تو آج ہم سکول کالج اور یونیورسٹیاں بند نہ کر رہے ہوتے. سمجھ نہیں آتی کہ صحرا میں چلنے والی ان گاڑیوں کو ہم شہروں کی سڑکوں پر کیوں چلاتے ہیں ہم اتنے احساس کمتری کے مارے ہوئے لوگ کیوں ہیں انگریز چلا گیا مگر کالے انگریز چھوڑ گیا , ذہنی غلامی کی ایسی نشانیاں چھوڑ گیا ایسے سقراطوں بقراطوں اور افلاطونوں سے ہماری جان کیسے چھوٹے گی اس کو سمجھنے کے لیے شاید مریخ پر جا کر رہنا پڑے جہاں بعد از سامراجی اثرات نہ ہوں اور ہم ایسے دماغ سے سوچنے والے احمقوں کو ڈپریشن کا شکار نہ ہونا پڑے. ہم کون لوگ ہیں.ہم کیا لوگ ہیں. ہنسی آتی ہے کبھی رونا آتا ہے ایک تو ہمیں چھٹیاں کرنے کا بہت شوق ہے سرکاری ملازمین خاص طور پر عیدین کے موقع پر اپنی چھٹیاں ہی گنتے رہتے ہیں کہیں کوئی چھٹی میں اتوار آ جائے تو ان کے غم کے کیا کہنے. اس کے علاوہ بھی پوری قوم کبھی کسی عرس کے موقع پر کبھی کسی کھیل کے موقع پر کبھی خود سے گھڑے ہوئے کسی موقع پر بس چھٹی کرنے کی تلاش میں ہے. سنا ہے اس ملک کے بانی نے کہا تھا کام کام اور صرف کام لیکن اس زندہ قوم نے ان کے فرمان کا مطلب اخذ اپنے جیسا ہی کیا ہے یعنی آرام آرام اور بس آرام.کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ زندہ قوم کے اس ملک میں کوئی کام نہیں کرتا. ہفتے میں دو دن دفتر بند رہتے ہیں ریسرچ میں ہم دنیا میں شاید سب سے پیچھے ہیں لیکن موقع بے موقع ہمارے سکول کالج اور یونیورسٹیاں بند رہتے ہیں اساتذہ کرام اپنی تنخواہ بڑھانے کے لیے گویا ہمہ وقت ہڑتال پر جانے کے لیے تیار رہتے ہیں یہی حال دوسرے شعبوں کا ہے ہمارے مسیحا یعنی ڈاکٹرز ہسپتالوں کی ایمرجنسی اکثر بند رکھتے ہیں کبھی غور کیجئے گا کہ سرکاری ملازمین یوں محسوس ہوتا کہ چھٹیوں کا انتظار کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتے ایسے میں اگر حکومت نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کے لیے تین دن کے لیے تمام سکول کالج اور یونیورسٹیاں بند رکھے جائیں گے تو کیا فرق پڑتا ہے ویسے بھی ہم تعلیم کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اس سے ہم بخوبی آگاہ ہیں. ہم صرف سونا کھانا اور تفریح کرنا جانتے ہیں اور مثالیں دیتے ہیں ہم یورپ کی کہ وہ ہفتہ اتوار چھٹی کرتے ہیں لیکن کبھی غور کیجئے کہ وہ باقی پانچ دن کام کتنا کرتے ہیں دنیا میں تحقیق کا رواج بڑھانے میں ان کا کتنا حصہ ہے اس کے بعد اگر وہ دو چھٹیاں کر لیتے ہیں تو کیا مضائقہ ہے. کیونکہ وہ کام تو کرتے ہیں ہم تو کام کیے بغیر ہی ہر وقت چھٹیاں کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں ہر بیماری کا علاج یہاں پیناڈول کی گولی یا ڈسپرین ہے بڑی گاڑیوں کا استعمال ترک کر کے چھوٹی گاڑیوں کو سستا کر کے اگر ماحولیاتی آلودگی کم کی جاتی تو شاید بہتر ہوتا بلکہ شاید ہمیں اتنے زیادہ فلائی اوور اور انڈر پاسز بھی نہ بنانے پڑتے سڑکیں بھی کھلی نہ کرنی پڑتیں تاریخی عمارتیں بھی نہ گرانا ہی پڑتیں اور آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا
#زابریافت

Comments