بھارتی پروپیگنڈہ اور پاکستانی ذرائع ابلاغ(محمد زابر سعید بدر) صحافیانے

(صحافیانے)

سسکتی پاکستانیت اور بھارتی پروپیگنڈہ
محمد زابر سعید بدر

موجودہ دور ابلاغ عامہ کا ہے اور اس کے تصورات اس تیزی سے بدل رہے ہیں کہ بیس سال پہلے کے ذرائع ابلاغ کا تصور بھی اب عجیب سا لگتا ہے‘ بے شمار ٹیلی ویژن چینل‘ لاتعداد ریڈیو سٹیشن‘ انٹرنیٹ کا اب ایک ہتھیلی میں سما جانا اور ہر دن ایک نئی سائنسی ایجاد‘ پوری دنیا گویا جام جم کی صورت میں اب ہر گھر میں بلکہ ہر کمرے میں تقریباً ہر فرد کے ہاتھ میں سما گئی ہے۔ ابلاغ عامہ کے ماہرین اب ہر حکومت‘ ادارے‘ محکمے کی ضرورت بن چکے ہیں۔ ابلاغ عامہ کے ماہرین کی ضرورت صرف پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا کو ہی نہیں ہے بلکہ ممالک کے صدور اور وزراء اعظم بھی ان کے مشوروں پر عمل کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ رائے عامہ معاشرے میں کیا کردار ادا کرتی ہے‘ دنیا کا ہر بااثر اور اہم شخص تو ایک طرف رہا‘ اب عام آدمی بھی اس کی اہمیت سے آگاہ ہو چکا ہے۔ ابلاغ عامہ کے یہ ماہرین رائے عامہ ہموار کرتے ہیں‘ رائے عامہ کے رہنما تیار کرتے ہیں اور پروپیگنڈا کی مختلف تکنیکوں کی مدد سے بڑی مضبوط اور مستحکم حکومتوں کو اُڑا کر رکھ دیتے ہیں۔ ابلاغ عامہ کا دائرہ کار اب بہت وسیع ہو چکا ہے‘ ماضی کے تصورات دھندلا رہے ہیں لیکن ہم بحیثیت ایک قوم کے ابھی بہت پیچھے ہیں۔ مغربی میڈیا کی تو بات ہی چھوڑیں ہم اپنے ازلی دشمن بھارت کے پروپیگنڈا کا مؤثر توڑ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بھارت نے اپنی فلموں اور بعدازیں ڈراموں کی مدد سے ہمارے معاشرے کا چلن ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اُردو میں فارسی اور عربی کے الفاظ نئی نسل کو سمجھ نہیں آتے بلکہ ہندی الفاظ اُن کی جگہ لے چکے ہیں۔ پاکستانی ثقافت جو ابھی نوزائیدہ ہی تھی‘ دم توڑ چکی ہے۔ ہماری پاکستانیت بھارت کے مؤثر پروپیگنڈے اور ثقافتی یلغار کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بااَدب ہو کرحسرت بھرے انداز میں بیٹھی ہے اور اُس کو سمجھ نہیں آ رہا کہ آخر کس طرح وہ اپنے آپ کو منوا سکے گی؟پروپیگنڈا کی سرگرمیاں اتنی ہی پرانی ہیں جتنی خود اقوام عالم کی تاریخ ہے۔ تاریخ کی تمام جنگوں میں رزم نگاری اور رزمیہ شاعری کو ماہرین اس عہد کا پروپیگنڈا ہی قرار دیتے ہیں۔ پروپیگنڈا کا سب سے پہلا باضابطہ ثبوت عہدنامہ عتیق سے ملتا ہے۔ یہ ابتدائی ثبوت جنگی پروپیگنڈا ہے۔ اس کے بعد چندرگپت موریہ کے عہد میں چانکیہ نے جو ارتھ شاستر ترتیب دیا اس میں سیاسی پروپیگنڈے کے واضح ثبوت ملتے ہیں۔ اسی طرح عیسوی سال کے آغاز سے عہدنامہ جدید میں اور اس کے بعد انقلاب فرانس تک مذہبی پروپیگنڈا واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ انقلاب فرانس کے دوران ہی میں عالمی پروپیگنڈے کا آغاز ہو گیا۔بھارت ہمارے ساتھ یہی تو کر رہا ہے‘ اس نے ۹۶ سال سے پاکستان کے خلاف‘ مسلم تاریخ کے خلاف عملاً پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے۔ اُس نے تکنیکی اور فنی لحاظ سے اپنی فوج کا مورال بلند کرنے کے لئے بہترین فلمیں بنائیں جس میں پاکستانی فوج کو کم ہمت ثابت کیا گیا ہے اور اپنی بھگوڑہ فوج کو بڑا بہادر ثابت کیا گیا ہے اور ہم ہیں کہ ایسی فلموں کو پاکستان میں آنے دیتے ہیں۔ ایسی فلمیں بین ہونی چاہئیں کیونکہ یہ پروپیگنڈا پر مبنی فلمیں ہیں۔مزیدبرآں بھارت نے آج تک جتنی بھی تاریخی فلمیں بنائی ہیں‘ اُن سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان حکمران عیاشی میں ڈوبے رہتے تھے خصوصاً مغل شہنشاہ زیادہ تختہ مشق بنے۔ شہنشاہ اکبر کے بارے میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ راجپوتوں کی مدد سے مغل اعظم بنا اور وہ درحقیقت ہندو ہو چکا تھا۔ شہنشاہ جہانگیر گویا صرف شراب پیتا رہتا تھا اور عیاشی میں مشغو لر ہتا تھا اور ایک کنیز انارکلی کی زلفوں کا اسیر تھا۔ شہنشاہ شاہجہان  ایک عاشق مزاج حکمران تھا۔ اورنگزیب نے ہندوؤں کے مندر گرائے‘ یہ سب پروپیگنڈا ہے۔ذرا غور کریں پاکستان‘ افغانستان‘ ہندوستان‘ بنگلہ دیش پر پھیلی حکومت کیا یہ عیاش حکمران قابو رکھ سکتے تھے۔ اگر یہ اتنے ہی غافل اور ناکام حکمران تھے تو جنگیں آسمان سے اُتر کر فرشتے کرتے رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مغل شہنشاہیت روئے زمین کی سب سے زیادہ خوشحال اور باوسائل سلطنت تھی اور 1707ء تک وہ پورے کروفر کے ساتھ دشمنوں کے دلوں پر ہیبت طاری کرتی رہی۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ 1707ء کے بعد اپنوں ہی کی بے وفائیوں کی داستانیں ہیں۔ سیّد برادران نے نااہل شہزادوں کوتخت پر بٹھایا‘ اہل شہزادوں کو قتل کروا دیا۔ جب نادر شاہ نے1739ٓٓٓء میں حملہ کیا تو نظام الملک آصف جاہ تو اسے 20 کروڑ کے عوض واپس بھیج چلا تھا لیکن نواب آف اودھ سعادت خان نے اسے دہلی جانے کو کہا اور پھر جو ہوا سارا زمانہ جانتا ہے کہ صدیوں کی دولت کو یہ لٹیرا ایران لے گیا‘ تخت طاؤس کروڑوں روپے مالیت کے جہانگیر‘ اکبر‘ شاہجہان کے 9 تخت‘ 3 کروڑ روپے کے جواہرات‘ کوہ نور ہیرا اور تقریباً 60 کروڑ روپے نقد۔ مزیدبرآں لاتعداد ہاتھی‘ گھوڑے‘ ٹکسال بھی لیتا گیا۔ تین برس تک مغل سلطنت کے پاس ٹکسال ہی نہیں تھے کہ وہ سکے ڈھال سکتی۔ سلطنت مغلیہ زخموں سے چور اور بے بس ہو کر رہ گئی اور پھر غیر بھی میدان میں آ گئے۔ انگریز‘ پرتگیز‘ ہندو‘ سکھ‘ مرہٹے سب نے اپنا اپنا کردار ادا کیا اور مسلمانوں کی یہ عظیم سلطنت 1857ء میں ماضی کا سایہ بن کر رہ گئی۔موجودہ دور تو گویا پروپیگنڈے کے عروج کا دور ہے‘ ہر طرف پروپیگنڈا چل رہا ہے۔ ہمارے اوپر چاروں طرف سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ پروپیگنڈا کی بارش برس رہی ہے اور ہم آخر کس طرح اس سے خود کو محفوظ کر سکتے ہیں۔دور جدید میں مواصلات کی روزافزوں ترقی‘ ریڈیائی لہروں کی عالمی وسعت اور ٹیلی ویژن کی ایجاد کے بعد تو پورا خطہ ہی پروپیگنڈا کے زد میں آ گیا۔ آج دنیا جہاں کے ذرائع ابلاغ سے ہر ملک امن کی حالت میں بھی اندرون ملک اور کسی نہ کسی سطح پر بیرون ملک پروپیگنڈے کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ اس لئے مسلح جنگ کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک میں پروپیگنڈے کے ذریعے بھی تباہی پھیلائی جا رہی ہے۔ دنیا جہاں میں امریکی پروپیگنڈا اپنے عروج پر ہے۔ عراق جنگ بعدازیں افغان جنگ میں اعلیٰ پیمانے پر پروپیگنڈا کا استعمال کیا گیا۔ پاکستان نے اس عالمی پروپیگنڈا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور موجودہ حالات ہمارے سامنے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا